تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کا بنیادی ستون ہے۔ دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہی قومیں آگے بڑھیں جنہوں نے علم، تحقیق اور انسانی وسائل کی ترقی کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ پاکستان ایک ایسے اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کی نوجوان آبادی ایک سنہری موقع بھی ہے اور ایک سنگین چیلنج بھی۔ اگر اس آبادی کو معیاری تعلیم، مہارت اور فکری تربیت فراہم کی جائے تو یہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے،بصورتِ دیگر یہی آبادی بہت بڑا بوجھ بن سکتی ہے اور معاشی اور سماجی مسائل کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ اس تناظر میں معیاری تعلیم کا فروغ محض ایک شعبہ نہیں بلکہ قومی بقا اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔علمی معیشت کا قیام آج کی دنیا میں ہر قوم کیلئے ایک بڑا چیلنج بھی ہے اور ترقی کے سفر کی ایک بنیادی ضرورت بھی۔ پاکستان کے تناظر میں یہ تبدیلی اب صرف ایک انتخاب نہیں رہی بلکہ دیرپا سماجی و معاشی بہتری کیلئے ایک ناگزیر حکمتِ عملی بن چکی ہے۔ ملک کو ٹیکنالوجی پر مبنی علمی معیشت کی طرف لیجانے کیلئے زرعی اور صنعتی شعبوں میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات اور انقلابی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس مقصد کیلئے ایک جامع منصوبہ بھی مرتب کیا گیا تھا، جسے 2007ءمیں کابینہ کی منظوری حاصل ہوئی، اور اب اس پر فوری عمل درآمد کی ضرورت ہے۔اس منصوبے میں سائنس، ٹیکنالوجی، جدت اور پیداوار (Science Technology Innovation and Productivity STIP) کو مرکزی ستون کی حیثیت دی گئی ہے، جنکی بنیاد معیاری تعلیم اور ایک ایسے مؤثر نظام پر رکھی گئی ہے جو نجی شعبے میں جدت طرازی اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دے سکے۔ سائنسی و تکنیکی بنیادوں پر قائم علمی معیشت کے حصو ل کیلئے ضروری ہے کہ STIP کو قومی منصوبہ بندی کا مستقل حصہ بنایا جائے تاکہ پائیدار اور متوازن سماجی و اقتصادی ترقی ممکن ہو ۔قومی STIP پالیسی کو حکومت کے تمام متعلقہ اداروں، نجی شعبے کے ماہرین اور مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد نافذ کیا جانا چاہیے، تاکہ اس پر وسیع تر قومی اتفاق رائے حاصل ہو اور اس کی مؤثریت یقینی بنائی جا سکے۔ اس پالیسی کے تحت بننے والے منصوبے واضح مدت کے حامل ہوں اور ان میں تمام متعلقہ وزارتوں اور اداروں کی شمولیت ہو۔ اس کیساتھ ساتھ موجودہ ٹیکنالوجی کی صورتحال اور مستقبل کے رجحانات کا باقاعدہ جائزہ لینے کیلئےTechnology Assessment and Forecasting Performance جیسے اداروں کا قیام بھی ضروری ہے، جن میں سرکاری اور نجی دونوں شعبے شامل ہوں۔مزید برآں، ایک عالمی معیار کے STIP ادارے کا قیام انتہائی اہم ہوگا، جو شواہد پر مبنی تحقیق، مؤثر منصوبہ بندی اور سائنسی مشاورت کو فروغ دے۔ ان کلیدی شعبوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے جن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، روبوٹکس، بگ ڈیٹا، انٹرنیٹ آف تھنگز کیساتھ ساتھ جدید زراعت، معدنی وسائل کی ترقی اور متبادل توانائی شامل ہیں۔اس قومی پروگرام کے مؤثر نفاذ کیلئے تعلیمی نظام میں ہمہ گیر اصلاحات ضروری ہیں۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کو اس انداز میں ترتیب دینا ہوگا کہ طلبہ میں تنقیدی سوچ، خود مختارانہ اندازِ فکر اور عملی مسائل حل کرنے کی صلاحیت پیدا ہو۔ انہیں محض نصابی مواد پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی فکری صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔ جدت طرازی کو فروغ دے کر ہر فارغ التحصیل طالب علم کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنا کاروبار شروع کر سکے۔آن لائن تعلیم کے میدان میں بڑے پیمانے پر آن لائن کورسز نے معیاری تعلیم کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس ضمن میں ایک مربوط نظام تیار کیا گیا ہے، جسکے تحت اب اسکول، کالج اور جامعات کی سطح پر 73ہزارکورسز دستیاب ہیں، اور انہیں www.lej4learning.com.pk کے ذریعے مفت استعمال کیا جا سکتا ہے۔ان اقدامات کے ساتھ ساتھ اعلیٰ معیار کی فنی تعلیم اور مضبوط اعلیٰ تعلیمی نظام کی تشکیل بھی ضروری ہے، جہاں اساتذہ کی ترقی کو ان کی کارکردگی سے مشروط کیا جائے، تاکہ تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔علمی معیشت کا قیام دنیا بھر کی قوموں کیلئےایک اہم چیلنج سے کم نہیںاور ترقی کی راہ کی بہت اہم ضرورت ہے۔ پاکستان کے معاملے میں، یہ تبدیلی نہ صرف لازمی ہو چکی ہے بلکہ پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے ایک ناگزیرحکمت عملی بھی ہے۔ ہمیں پاکستان کو ٹیکنالوجی پر مبنی علمی معیشت میں تبدیل کرنے کیلئے زرعی اور صنعتی ترقی کے مختلف پہلوؤں پر انقلابی اقدامات کرنا ہونگے ۔ اس سلسلے میں راقم نے ایک جامع منصوبہ تیار کیا تھا جس کو 2007 میںہماری کا بینہ نےبھی منظور کیا تھا اس پر فوری عمل درآمد ہونا چاہئے ۔ اس منصوبے میں سائنس، ٹیکنالوجی،جدت طرازی اور پیداوار کو کلیدی ستونوں کے طور پر شامل کیا گیا ہے جو معیاری تعلیم اور ایک ماحولیاتی نظام کی بنیادوں پر قائم ہوں گے جو نجی شعبے میں جدت طرازی اور کاروبار کو تیز کرسکتے ہیں۔سائنس اور ٹیکنالوجی پر منحصرعلمی معیشت کے حصول کیلئے، پاکستان کو سائنس، ٹیکنالوجی،جدت طرازی اورپیداوار (STIP) کو پائیدار اور مساوی سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے اپنی قومی منصوبہ بندی کی حکمت عملی میں ضم کرنا چاہیے۔ قومی STIP پالیسی نجی شعبے کے ماہرین اور مخالف جماعتوں سمیت حکومت کے تمام عہدیداروں کے ساتھ جامع مشاورت کےنتیجے میں عمل درآمد ہونی چاہیے۔ اسکی تاثیر کو یقینی بنانے کیلئے قومی اتفاق رائے ضروری ہے۔STIP پالیسی کے تحت شروع ہونے والے عملی منصوبے میعاد کے پابند ہونے چاہئیں، جن میں تمام متعلقہ سرکاری وزارتیں اور ادارے شامل ہوں جو سائنس، ٹیکنالوجی، جدت طرازی اور پیداوار کیلئے ذمہ دار ہوں۔ ٹیکنالوجی کی موجودہ صورتحال اور آئندہ ہونے والی اہم تبدیلیوں کا جائزہ لینا ہوگا۔
پاکستان دنیا کی اُن اقوام میں شامل ہے جہاں نوجوان آبادی کا تناسب بہت زیادہ ہے اور تقریباً 60 فراد 30 سال سے کم عمر کے ہیں ۔اسکی آبادیاتی ساخت ایسی ہے جو یا تو ہماری سب سے بڑی قوت بن سکتی ہے یا سب سے بڑا عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے کیونکہ اگر ان کو صنعتوں میں نوکریاں نہیں ملیں گی تو ہم ایک خوفناک انقلاب کی طرف بڑھ جائیں گے ۔اسی لئے ہمارے لئے یہ نا گزیر ہے کہ ہم سب سے زیادہ ترجیح ،تعلیم، سائنس ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کودیں تاکہ ایک مضبوط علم پر مبنی معیشت قائم کر سکیں ۔ بدقسمتی سے ہم غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ اس چیلنج کو سمجھنےکیلئے ضروری ہے کہ تعلیم میں ہماری کم سرمایہ کاری کی شدت کو سمجھا جائے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو نے تعلیم کیلئے کم از کم 4 فیصد سے 6 فیصد اخراجات کی حد مقررکی ہے، جسے ہمارے رہنما مسلسل نظر انداز کرتے آئے ہیں۔ پاکستان اپنے بجٹ کا صرف ایک فیصد تعلیم پر خرچ کرتا رہا ہے، جو بھارت کے مقابلے میں بہت کم ہے، جہاں مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 4.1 فیصد تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے۔ اسکے نتیجے میں دونوں ممالک کی آبادی کی صلاحیتوں میں بہت بڑا فرق پیدا ہو گیا ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں میں بھارت بہت آگے نکل گیا ہے، اس کی برآمدات اب 820 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جبکہ پاکستان کی برآمدات محض 30 ارب ڈالر تک محدود ہیں۔ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے جو ہماری قیادت کی کمزور بصیرت اور سمت کی فوری تبدیلی کی ضرورت کو واضح کرتی ہے۔وقت آ چکا ہے کہ پاکستان تعلیم کو محض ایک سماجی خدمت کے بجائے قومی سلامتی اور معاشی ترقی کے بنیادی ستون کے طور پر تسلیم کرے۔