• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گندم پاکستانیوں کی بنیادی غذا اور اس سر زمین پر پیدا ہونے والا سب سے اہم اناج ہے۔ مگر جانے کیا ہوتا ہے کہ کھیت سے بازار تک پہنچتے پہنچتے اس کی قیمتوں کوپر لگ جاتے ہیں۔ کبھی کبھی گمان ہونے لگتا ہے کہ لاکھوں ٹن وزن گندم کی بے شمار بوریاں ہوا میں تحلیل ہوگئیں۔ ایک طرف بمپر پیداوار کے دعوے کئے جاتے ہیں، دوسری جانب چند ہی ماہ بعد منڈی کے ذرائع قیمتوں میں حیرتناک اضافےکی وجہ گندم کی قلت بتانا شروع کردیتے ہیں۔یہ قلت کیسے پیدا ہوتی ہے؟ کیا لاکھوں ٹن گندم جنتر منتر سے کسی ماچس کی ڈبیا میں بند کرکے کوئی اپنی جیب میں چھپا لیتا ہے؟ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل نظاموں کے اس دور میں یہ عقدہ ناقابل حل نہیں ہونا چاہئے کہ بڑے بڑے گوداموں میں رکھی گندم کی بوریاں ماچس کی ڈبیا میں چھپانے والے جادوگر کون ہوسکتے ہیں؟ گیہوں کی حالیہ فصل کے آغاز پر صورتحال امید افزا دکھائی دے رہی تھی۔ حکومت ، متعلقہ اداروں، زرعی ماہرین کے دعووں اور تجزیوں کی روشنی میں یہ تاثر عام تھا کہ ملک میں گندم کی فراوانی ہوگی۔ مگر کچھ ہی عرصے بعد بازار میں گندم کی دستیابی آٹے کی قیمتوں اور قلت کے خدشات نے ایک نیا سوال کھڑا کردیا۔ اگر فصل واقعی غیر معمولی تھی تو منڈی میں بے یقینی کیوں؟ اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے تو گندم اور آٹے کی قیمتوں میں گزرتے وقت کے ساتھ نمایاں تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ جنوری2026میں گندم کی قیمت تقریباً9500سے9600روپے فی سو کلو گرام کے درمیان بتائی جارہی تھی ۔جبکہ چند ماہ بعد شہروں میں20کلو آٹے کا تھیلا (کراچی میں) 2900 روپے تک پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ گندم اور آٹے کی قیمتیں ایک ہی پیمانے پر نہیں ناپی جاسکتیں لیکن مذکورہ قیمتوں سے یہ فرق ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ کھیت سے صارف تک پہنچنے کے سفر میں قیمتوں کا دباؤ بڑھا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کی وجہ رسد میں کمی یا قلت قرار دی جاتی ہے۔ منڈی کی قوتیں آٹا خریدنے والوں کے ساتھ جو کررہی ہیں سوکررہی ہیں مگر کراچی کی انتظامیہ نے جمعرات 9جولائی کو نوٹیفکیشن کے ذریعے شہر میں ریگولر ڈھائی نمبر چکی آٹے کی قیمت125روپے فی کلو کردی ہے۔ اس سے قبل مئی میں اسکی قیمت بڑھاکر 113روپے کی گئی تھی ۔جمعرات کے نوٹیفیکیشن کے مطابق مذکورہ آٹے کی تھوک قیمت110روپے مقرر کی گئی ہے۔ فائن آٹے کی پرچون قیمت14روپے فی کلو بڑھاکر135روپے کردی گئی ہے۔ قبل ازیں یہ قیمت118روپے مقرر کی گئی تھی نئے نوٹیفیکیشن میں چھوٹی چکی کے آٹے کی قیمت 145روپے فی کلو پر برقرار رکھی گئی۔ اس رحجان سے دوسرے شہروں اور علاقوں کے لوگ کس حد تک متاثر ہورہے ہیں اس کا اندازہ آنیوالے دنوں میں کیا جاسکے گا۔

گندم کا مسئلہ صرف ایک فصل کا مسئلہ نہیں، پورے غذائی نظام کی آزمائش ہے۔ کسان کھیت میں خون پسینہ ایک کرکے فصل کی تیاری کرتا ہے۔ لیکن کھیت سے صارف کے دستر خوان تک پہنچنے کے دوران کئی مرحلے آتے ہیں۔ خریداری، ذخیرہ، نقل و حمل ، منڈی کا نظام اور تقسیم ۔ ان میں سے کسی ایک مرحلے کی کمزوری بھی عام آدمی کیلئے مہنگائی کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ فصل کے بعد گندم کے انتظام کی زنجیر یا مشینری کتنی مضبوط ہے۔ اگر کسان سے خریداری، ذخیرہ کرنےاور مارکیٹ تک رسائی کا نظام شفاف اور موثر ہوتو پیداوار کا فائدہ کسان اور صارف دونوں تک پہنچ سکتا ہے۔ لیکن اگر معلومات واضح نہ ہوں اور نگرانی کمزور ہوتو درمیان کے مراحل میں پیدا ہونے والی خامیاں عوام کیلئے قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ بعض طبقے گزشتہ سال آنے والے سیلاب کو گندم کی صورتحال سے جوڑتے ہیں قدرتی آفات یقیناً زرعی نظام کو متاثر کرتی ہیں لیکن کسانوں کا تجربہ یہ بھی ہے کہ سیلابی پانی جہاں جہاں سے گزرتا ہے وہاں مٹی کو نئی زندگی دیتا اور اس کی قوت نمو میں اضافہ کردیتا ہے۔اسلئے ہر مسئلے کو صرف ایک زاؤیے سے دیکھنا مناسب نہیں۔ اس باب میں یہ سوال بار بار سامنے آتا ہے کہ جدید دور میں گندم جیسی بنیادی ضرورت کیلئے نگرانی کا نظام کہاں کھڑا ہے؟ آج دنیا میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑے بڑےنظاموں کی نگرانی کی جارہی ہے۔ گندم کے بارے میں بھی ایسا مربوط نظام ہونا چاہئے جو بتاسکے کہ ملک میں کتنی گندم پیدا ہوئی، کتنی مقدار میں کہاں ذخیرہ ہے، کتنی منڈیوں تک پہنچ رہی ہے اور کہاں کمی نظر آرہی ہے۔ان سب باتوں کا مقصد اس امر کو یقینی بناناہے کہ گندم جیسی بنیادی ضرورت کی نگرانی کا نظام زیادہ مستحکم اور محفوظ ہو اگر ریاست کے پاس یہ معلومات بروقت موجود ہوں تو نہ مصنوعی قلت پیدا کرنا آسان ہوگا، نہ ذخیرہ اندوزی چھپ سکے گی اور نہ ہی عوام کو ہر چندماہ بعد گندم کے بحران کا سامنا کرناپڑے گا۔ شفاف معلومات ہی وہ بنیاد ہیں جن پر ایک موثر غذائی نظام قائم کیا جاسکتا ہے۔ گندم بحران کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں اکثر توجہ صرف پیداوار بڑھانے پررہتی ہے جبکہ اصل امتحان فصل کے بعد شروع ہوتا ہے۔ گندم کی زیادہ پیداوار حاصل کرنا بلاشبہ ایک کامیابی ہے۔ مگر اس سے بھی بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ محفوظ طریقے سے مناسب قیمت پر عوام تک پہنچے، کسان کواس کی محنت کا معاوضہ ملے اور صارف کو مہنگائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ گندم کو وقتی فیصلوں کی بجائے ایک مستقل پالیسی کے تحت دیکھاجائے۔ جدید ذخیرہ گاہیں، شفاف خریداری کا نظام ڈیجیٹل نگرانی اور بہتر منصوبہ بندی ہی وہ راستہ ہے جس سے بار بار سامنے آنے والے اس بحران سے بچا جاسکتا ہے۔ تاہم مستقل اصلاحات کے ساتھ ساتھ موجودہ صورت حال میں فوری اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔ کیونکہ بحران کے دوران صرف مستقبل کی منصوبہ بندی کافی نہیں ہوتی، بروقت فیصلے بھی ضروری ہوتےہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ مارکیٹ میں گندم کی بروقت دستیابی یقینی بنائے۔ ضرورت محسوس ہوتو محدود پیمانے پر درآمد کا فیصلہ بھی کرلے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو، مصنوعی قلت کا خاتمہ ہواور ذخیرہ اندوزاپنے ذخائربازار میں لانےپر مجبور ہوجائیں۔ ایسے بروقت اقدامات نہ صرف قیمتوں میں استحکام لانے میں معاون ہونگے بلکہ غذائی تحفظ کو بھی یقینی بنائیں گے۔بہتر فصل سے قلت تک کا یہ سفر ہمیں اس امرکی طرف بطور خاص متوجہ کرتا ہے کہ صرف پیداوار کے دعوے کافی نہیں ہوتے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب کھیت میں پیدا ہونے والا اناج محفوظ رہے، اس کی تقسیم منصفانہ ہو اور وہ عام آدمی کے دستر خوان تک مناسب قیمت پر پہنچ سکے۔ گندم کا مسئلہ صرف گندم کا مسئلہ نہیں بلکہ بہتر حکمرانی، شفافیت اور عوامی مفاد کے تحفظ کا احساس ہے۔

تازہ ترین