پاکستان میں آبادی کا مسلسل اور تیز رفتار اضافہ ایک ایسا سنگین مسئلہ بن چکا ہے جسے نظر انداز کرنا مستقبل کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر اس پر بروقت اور مؤثر توجہ نہ دی گئی تو یہ مسئلہ ایک ایسے"ٹائم بم "کی صورت اختیار کر سکتاہے جسکے اثرات صحت، تعلیم،معیشت، روزگار ،ماحولیات،خوراک،پانی اوربنیادی انفراسٹرکچر سمیت زندگی کے ہر شعبے پر مرتب ہوں گے۔بدقسمتی سے گزشتہ تقریباً 75 برس میں آبادی کے توازن کو قومی ترجیح نہیں بنایا گیا۔ نتیجتاً پاکستان کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی 25 کروڑ تھی جبکہ بعض غیر سرکاری اندازوں کے مطابق اب یہ تعداد 29 کروڑ ہے۔ آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے۔صرف پنجاب کی آبادی تقریباً 14 کروڑ سے زائد ہے جو دنیا کے کئی ممالک کی مجموعی آبادی کے لحاظ سے 12 ویں نمبر پرہے۔ دوسری جانب ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے عالمی ادارے مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ پاکستان ان 10 ممالک میں شامل ہوچکا ہے جو موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ان مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔اس وقت پاکستان میں آبادی بڑھنے کی شرح 2.5 فیصد سالانہ ہے ۔ ٹوٹل فرٹیلٹی ریٹ یعنی ہر شادی شدہ عورت کی زندگی میں پیدا ہونیوالے بچوں کی شرح 3.5 ہے جسے معاہدہ کے تحت 2 تک لانا ہے۔MMR Maternal Mortality Rate یعنی آبادی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے زچگی کے دوران خواتین کے مرنے کی تعداد ایک لاکھ میں سے 186 ہے جو بہت زیادہ ہے اور پاکستان اس لحاظ سے دنیا میں 149 نمبر پر ہے۔ اسی طرح Infant Mortality Rate یعنی وہ بچےجو پیدا ہونےکے بعد ایک سال تک زندہ رہتے ہیں انکی تعداد ایک ہزار میںسے 56 سالانہ ہے۔Neonatal Mortality Rate یعنی وہ بچے جو پیداہونے کے 28 دن کے اندر فوت ہو جاتے ہیں ان کی شرح 1000 میں 56 ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں نمونیا اور ڈائریا سے تقریباً دو سے ڈھائی لاکھ بچے ہر سال موت کی وادی میں چلے جاتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس معاملے میں پاکستان کی صورتحال خطے کے کئی ممالک، خصوصاً بنگلہ دیش، کے مقابلے میں بہتر نہیں۔اکثر آبادی میں اضافے کی ذمہ داری علماء کرام پر ڈال دی جاتی ہے حالانکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ آج مختلف مکاتبِ فکر کے جید علماء اس بات پر متفق ہیں کہ خاندانی منصوبہ بندی کو محض آبادی روکنے کے بجائے توازنِ آبادی کے تناظر میں دیکھا جائے تاکہ ماں، بچے اور خاندان کی صحت و فلاح کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسلامی نظریاتی کونسل بھی مختلف مواقع پر اس بات کی وضاحت کر چکی ہے کہ ماں اور بچے کی جان و صحت کا تحفظ اسلامی تعلیمات کا بنیادی تقاضاہے۔ اسلامی تاریخ میں حضرت امام غزالیؒ سمیت متعدد اکابر نے بھی اعتدال اور ذمہ دارانہ طرزِ زندگی پر زور دیا ہے۔ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل اور دیگر پالیسی ساز اداروں میں خواتین کی نمائندگی کو بڑھایا جائے تاکہ خواتین سے متعلق مسائل کو بہتر انداز میں سمجھا اور حل کیا جا سکے۔ نماز جمعہ کے خطبات میں اس حوالے سے خصوصی طور پر روشنی ڈالی جائے ۔صرف خواتین کو ہی نہیں مردوں کو بھی فیملی پلاننگ کی طرف راغب کرکے انہیں تمام ممکنہ سہولیات مہیا کی جانی چاہئیں۔منصوبہ بندی کیلئے نس بندی کا طریقہ کار اپنانے کی ترغیب دی جائے ۔ بیٹے کی خواہش بھی آبادی میں اضافے کا بنیادی سبب ہے ۔بیٹیاں باعث رحمت ہیں لیکن ہم انہیں رحمت کی بجائے زحمت سمجھتے ہیں۔یہ حقیقت بھی ہمارے سامنے ہے کہ انڈونیشیا، ملائیشیا، اردن، ایران اور بنگلہ دیش جیسے مسلم ممالک نے عوامی آگاہی، خواتین کی تعلیم، بنیادی صحت کی سہولیات، خاندانی منصوبہ بندی اور مؤثر حکومتی پالیسیوں کے ذریعے آبادی میں اضافے کی رفتار کو بڑی حد تک قابو میں کیا ہے۔ پاکستان بھی ان تجربات سے رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔اسی طرح کم عمری کی شادیوں کی حوصلہ شکنی، خصوصاً 18 سال سے کم عمر بچیوں کی شادی کی روک تھام نہ صرف صحت بلکہ تعلیم اور معاشی استحکام کیلئے بھی ناگزیر ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ وفاقی سطح پر آبادی کے مسئلے کو قومی اہمیت دیتے ہوئے اعلیٰ سطحی پاپولیشن کونسل قائم کی گئی ہے جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، وفاق اور صوبوں کی قیادت کو شامل کیا گیا ہے۔ تاہم اس وقت اصل ضرورت صرف ادارے بنانے کی نہیں بلکہ ان کے فیصلوں پر مسلسل اور مؤثر عمل درآمد کی ہے۔ جنگ گروپ اور جیو نیوز کی اس کاوش کو بھی سراہنا چاہئے کہ انہوں نے آبادی کے مسئلے کو قومی سطح پر اجاگر کیا اور عوامی آگاہی کیلئے بھرپور مہم شروع کی۔ دیگرمیڈیا اداروں کو بھی اس قومی ذمہ داری میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ بدقسمتی سے ایک طرف وفاق آبادی میں توازن کیلئےاقدامات کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف بعض صوبوں میں متعلقہ محکمے مطلوبہ توجہ سے محروم ہیں۔ پنجاب میں محکمہ بہبودِ آبادی کی تنظیمِ نو اور عملے سے متعلق فیصلوں کے باعث سروس ڈلیوری متاثر ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اس شعبے کو مزید کمزور کرنے کے بجائے اسکی استعداد بڑھانےکی ضرورت ہے۔ ضروری ہے کہ محکمہ بہبودِ آبادی کو مؤثر، فعال اور وسائل سے مالا مال بنایا جائے۔ عوامی آگاہی کے سیمینار منعقد کیے جائیں، جنرل پریکٹیشنرز، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دیگر طبی عملے کو جدید سہولیات اور تربیت فراہم کی جائے جبکہ علمائے کرام، اساتذہ، میڈیا، سول سوسائٹی اورنوجوانوں کوبھی اس قومی مہم کا حصہ بنایا جائے۔پاکستان میں بنیادی طبی سہولیات اور خاندانی منصوبہ بندی کے وسائل بڑی حد تک موجود ہیں مگر اصل ضرورت مستقل مزاجی، مضبوط سیاسی عزم، مؤثر پالیسی سازی اور تسلسل کیساتھ عمل درآمد کی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آبادی کے مسئلے کو اختلافات کی عینک سے دیکھنے کے بجائے قومی بقا، انسانی ترقی اور آئندہ نسلوں کے روشن مستقبل کے تناظر میں دیکھا جائے۔ اگر ہم نے آج دانشمندانہ فیصلے نہ کیے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔اگر ہم بروقت، مستقل مزاجی اور قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ مؤثر اقدامات کریں تو یہی چیلنج پاکستان کیلئے ایک نئے اور خوشحال مستقبل کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔