امن کے نوبل انعام کا چرچا تو بہت ہوتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ امن کہیں بھی نہیں ہے۔ عالمگیر ۔نہ مقامی ۔ایران ابھی اپنے رہبر معظم کی تدفین کے مراحل سے گزر رہا تھا کہ آبنائے ہرمز پھر تصادم کا سبب بن گئی۔ کچھ ٹینکروں پر پاسداران انقلاب کی کارروائی نے امریکی صدر ٹرمپ کو پھر آمادہ جنگ و جدل کر دیا ۔امن نوبل انعام کے امیدواروں کو امن سے گزرتے دن پسند نہیں آتے ہیں خون بہتا ہوا ہی ان کے من کو بھاتا ہے ۔
آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں، بہووں دامادوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر تبادلہ خیال کا دن اور نماز عصر کے بعد محلے داری کے لمحات ،پڑھنے والوں سے ملاقات ہوتی ہے تو علم ہوتا ہے کہ گھروں میں تو اکثریہ سلسلہ بحال ہو گیا ہے مگر محلے داری شروع نہیں ہوئی۔ آبادی بڑھتی جا رہی ہے اس لیے مسائل بھی زیادہ ہو رہے ہیں۔ 25 کروڑ سے زیادہ انسان۔ یہ تو قدرت کی مہربانی ہے کہ اس بڑھتی آبادی میں 60 فیصد جوان ہیں اگر یہ شرح برعکس ہوتی تو درپیش مسائل اور زیادہ پیچیدہ ہوتے ۔ آبادی میں جس شرح سے اضافہ ہوا ہے ہماری حاکمیت اس شرح سے بہتر نہیں ہوئی ہے۔
ایک طرف بلوچستان جسکی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں دوسری طرف آزاد جموں کشمیر کا متنازع علاقہ جو 1948 سے استصواب رائے کا منتظر ہے۔ جہاں اقوام متحدہ اپنی ہی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں کرا سکا ہے۔ حالانکہ اس پر امریکہ کا غلبہ ہے اور پاکستان ہمیشہ امریکہ کا اتحادی رہا ہے لیکن جب بھی کشمیر کا مسئلہ اٹھایا گیا جنگیں بھی ہوئیں تو امریکہ غیر جانبدار ہوتا رہا ہے انسانی حقوق آزادی خود مختاری اب مارکیٹ کے حجم کے آگے دم توڑ دیتے ہیں ۔بڑھتی آبادی ہمارے لیے مسائل کا باعث ہے لیکن بھارت اپنی بڑھتی آبادی کو بڑی مارکیٹ ظاہر کر کے امریکہ اور یورپی یونین سے پینگیں بڑھاتا رہتا ہے۔ مگر ہم اپنی 25 کروڑ کی مارکیٹ کو اجاگر نہیں کر سکے۔
اب صورتحال زیادہ تشویش ناک ہو گئی ہے اس حد تک کہ ہمیں اب اجتماعی فیصلہ سازی کی ضرورت ہے سب سے خطرناک امر یہ ہے کہ حکمران اپنا اعتبار کھو بیٹھے ہیں عوام اور حاکموں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہر سرکاری فیصلے اور ہر نئے حکومتی اقدام پر عوام شک و شبہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا اس کو مزید ہوا دیتا ہے۔ ایسی ایسی سازشی داستانیں تراشی جاتی ہیں کہ ملک کی رائے عامہ منقسم ہو کر رہ جاتی ہے۔ مسائل کا حل تجویز نہیں کیا جاتا صرف ذمہ داروں پر بحث ہوتی رہتی ہے۔ اپنے قائدین کو ارسطو اور افلاطون ،دوسرے کو راسپوتین اور ہٹلر ثابت کیا جاتا ہے۔ مخلوق خدا اس مسئلے تلے زدوکوب ہوتی رہتی ہے۔
خبریں کہیں سے بھی اچھی نہیں آ رہی ہیں ۔ہمارے ذہین اور ماہر نوجوان اس صورتحال سے گھبرا کر ترک وطن کر رہے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں اچھے ماحول بہتر علاج معالجے سے عمریں لمبی ہو گئی ہیں وہاں نوجوانوں کی کمی ہو گئی ہے۔ ان ممالک کی تحقیق کے مطابق انہیں پاکستان کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ذہن رسا اور ان پڑھ نوجوانوں کی قوت بازو کا علم ہے۔ وہ ان کا خیر مقدم کرتے ہیںیہ نوجوان بھی جو غربت سے تنگ آئے ہوئے ہیں وہ کم اجرت پر بھی ان ممالک میں خدمت پر تیار ہو جاتے ہیں۔
ایران اپنے 86 سالہ رہبر معظم کی شہادت کو قوم کی حیات بنا کر سپرد خاک کر چکا ہے۔ اب وہ امریکہ اسرائیل کی بربریت کے مقابلے کیلئے تازہ دم ہے پانچ روزہ ماتمی جلوسوں میں شریک ہو کر ایرانی قوم نے اپنی حکومت اور اپنی اسٹیبلشمنٹ پر مکمل اعتماد ظاہر کر دیا ہے اور انہیں 70 سے زیادہ ممالک کی اخلاقی حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے۔بیرونی حملہ آوروں اور انکے گماشتوں کے مقابلے کیلئے اندرونی اتحاد ناگزیر ہوتا ہے۔ ریاست اور ملکی اکثریت یک زبان یک خیال ہونے چاہئیں ہمارے ہاں 1965 کی جنگ کے دوران تو یہ دن دیکھنے نصیب ہوئے تھے۔ لیکن پھر معاہدہ تاشقند نے ملک کو منقسم کر دیا۔ اسی جنگ کے دوران مشرقی پاکستان میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا ۔
21ویں صدی میں بیسویں صدی کی مزاحمت اور آزادی کے لیے جدوجہد کے انداز اب نتیجہ خیز نہیں ہو رہے ۔ اب انسان بہتر ماحول، خیال کرنے والی حکمرانی اور مہربان ریاست کو پسند کرتا ہے جہاں زندگی کی آسانیاں فراہم کی جا رہی ہوں، ایک ایک فرد کی عزت اور جان و مال کے تحفظ کیلئے قوانین بنائے جاتے ہوں ،جہاں امن ہو، انسانوں کے چہروں پر مسکراہٹ ہو ،جن کے زر مبادلہ کے ذخائر بھی اطمینان بخش ہوں ،کوئی با اثر فرد یا خاندان قانون سے بالاتر نہ ہو ،سرکاری ڈھانچہ جو بلدیاتی سطح سے شروع ہو کر مرکز تک پہنچتا ہے وہ ہر مرحلے پر فعال اور متحرک ہو اور اپنے علاقے میں آئین قانون کو بالادست رکھتے ہوئے اپنے فرائض انجام دیتا ہو وہ صرف قانون کی اطاعت کرتا ہو۔
کوئی مسئلہ بھی انسان سے بڑا نہیں ہے۔ انسان اللّٰہ تعالیٰ کی اشرف المخلوقات ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہی دیتی ہے کہ انسانوں نے ہی بڑے بڑے سنگین مسائل بہت کامیابی سے حل کیے ہیں۔ تاہم پاکستان کی تاریخ کی گواہی اس کے الٹ ہی رہی ہے۔ 1953 میں پنجاب میں جو شورش برپا ہوئی اور لاہور میں جزوی طور پر مارشل لا لگا۔ اس پر پنجاب کے ہوم ڈیپاٹمنٹ کی رپورٹ میں بجا طور پر کہا گیا تھاکہ صورتحال پر علاقے کا ایس ڈی ایم اور ایس پی قابو پا سکتا تھا صوبائی اور مرکزی حکومت کو مداخلت کی ضرورت نہیں تھی۔ پاکستان میں اب تک جتنے بحران انتشار اور سانحے برپا ہوئے ہیںوہ اس غیر ضروری مداخلت سے ہی رونما ہوئے ہیں۔ واہگہ سے گوادر تک ہر محب وطن کو بلوچستان کے واقعات اور آزاد جموں و کشمیر کے 30 دن سے دھرنوں نے پریشان کیا ہوا ہے ۔سوشل میڈیا بہت سرگرم ہے۔ بڑا میڈیا اور اخبار جو حقائق مخفی رکھتے ہیں وہ اسمارٹ فون کی اسکرین پر نمایاں ہیں۔ راولا کوٹ ،مظفرآباد، میرپو،ر کوٹلی، بھمبر اچھے خوبصورت علاقے جہاں ان دنوں میں پاکستان بھر سے لوگ کشاں کشاں پہنچتے تھے اور مہربان کشمیری بھی مہمان نوازی کرتے تھے۔ انٹرنیٹ بند ہے۔ کہیں کہیں ٹیلی فون سروس بھی نہیں ہے۔یہ لوگ پورے پاکستان اور دنیا سے کٹے ہوئے ہیں۔ بلوچستان سے خبریں پریشان کن ہیں نوشکی چاغی تربت کہیں سے بھی اچھی خبریں نہیں آ رہیں ۔
مقامی حکومتیں بیوروکریسی صوبائی حکومت اس پر اپنی کوئی رائے نہیں دے رہیں ۔ملک میں جمہوری ڈھانچہ موجود ہے۔ دو ایوانی مقننہ صدر وزیراعظم کابینہ قومی اسمبلی صوبائی اسمبلیاں ہر علاقے کے نمائندے بھی اسمبلیوں میں ہیں۔ تو یہ سارا حکومتی سلسلہ اس صورتحال کو قابو میں کیوں نہیں لا پارہا ہے ۔ اس پر ملک کی پارلیمنٹ کو غور کرنا چاہیے کہ ان کے ووٹرز میں اضطراب کیوں ہے۔ ارکان پارلیمنٹ اپنی ڈیبیٹ سے ہی اس مسئلے کی تہ تک پہنچ سکتے ہیں اور تب ہی پارلیمنٹ تمام اداروں سے سپریم کہلا سکتی ہے۔