جموں وکشمیر کی سیاسی جدوجہد میں تین ایام بہت اہم ہیں۔ پہلا 23مارچ، دوسرا 13جولائی اور تیسرا 14 اگست۔ ان تین ایام کی اہمیت کو سمجھنے کیلئے آئیے 21جولائی 1924ء کو ریشم کے کارخانوں میں کام کرنیوا لے ہزاروں کشمیری مزدوروں کے سرینگر میں پرامن مظاہرے کا پس منظر سمجھتے ہیں۔ ان کارخانوں کے مالک اور افسران سب ہندو تھے جنکو بھاری تنخواہیں ملتی تھیں جبکہ مسلمان مزدوروں کو صرف ساڑھے چار آنہ یومیہ مزدوری ملتی تھی۔ اس ناانصافی کیخلاف کشمیری مسلمان مزدوروں نے اپنے بال بچوں کیساتھ جلوس نکال کر اُجرت میں اضافے کا مطالبہ کیا۔ یہ پرامن مظاہرہ کرنیوالے تمام مزدور گرفتار کر لیے گئے۔ یہ مظاہرہ کشمیری مسلمانوں میں اس سیاسی بیداری کا پتہ دیتا ہے جسکا آغاز 1923ء میں جموں میں ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن کے قیام سے ہوا۔ اسکے بعد 1929ء میں پونچھ کے علاقے میں ریاستی ٹیکسوں کے خلاف تحریک شروع ہوئی۔ 23مارچ 1931ء کو لاہور میں برطانوی سرکار نے ایک حریت پسند بھگت سنگھ کو پھانسی دی تو اسی دن ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن کے علاوہ میر واعظ محمد یوسف شاہ نے بھی اس پھانسی کی بھرپور مذمت کی اور اگلے دن احتجاجی مظاہرے بھی کیے۔ اس پھانسی کے چند دن بعد 29 اپریل 1931ء کو عید الاضحی آ گئی۔ جموں کے مسلمان شالامارباغ میں نماز عید ادا کر رہے تھے۔ مولانا محمد اسحاق نے اپنے خطبے میں فرعون اور نمرود کے ظلم وستم کا ذکر کیا تو وہاں موجود ڈوگرہ پولیس کے ایک انسپکٹر لالہ کھیم چند نے یہ خطبہ رکوا دیا۔ اس دن ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن نے جامع مسجد جموں میں ایک جلسہ کیا اور لالہ کھیم چند کو برطرف کرنیکا مطالبہ کیا۔ 4 جون 1931ء کو سنٹرل جیل جموں میں ایک ہندو انسپکٹر لمبو رام نے توہینِ قرآن کی۔ 6 جون کو اس واقعے کیخلاف پورےجموں میں ہڑتال کی گئی۔ احتجاج کا سلسلہ مظفرآباد اور راولا کوٹ سے میر پور تک پھیل گیا۔ 5جون 1931ء کو سرینگر کی خانقاہ معلیٰ میں توہین قرآن کیخلاف ایک بڑاجلسہ ہوا۔ اس جلسے میں ایک پختون نوجوان عبدالقدیر نے ڈوگرہ حکومت کیخلاف دھواں دار تقریر کر دی جسکے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا۔ عبدالقدیر کیخلاف مقدمے کی سماعت عام عدالت میں کرنیکی بجائے سرینگر کی سینٹرل جیل میں کی گئی۔ہزاروں کشمیری مسلمان سرینگر سنٹرل جیل کے باہر اکٹھے ہو گئے اور عبدالقدیر کے حق میں نعرے لگانے لگے۔ یہ 13جولائی 1931ء کا دن تھا۔ نماز کا وقت ہو گیا۔ مسلمانوں نے جیل کی دیوار پر چڑھ کر اذان دینا شروع کی تو ان پر گولی چلا دی گئی۔ اس فائرنگ میں 22کشمیری مسلمان شہید ہو گئے اور پھر یہ دن یوم شہدائے کشمیر قرار پایا۔ اس واقعے کے بعد سرینگر میں مارشل لا نافذ کر دیا گیا۔ چوہدری غلام عباس اور شیخ عبداللّٰہ سمیت تمام اہم کشمیری لیڈر گرفتار کر لئے گئے۔ 3اگست کو تمام گرفتار رہنما رہا کر دیے گئے مگر عبدالقدیر کو پانچ سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ ان واقعات کیخلاف 14 اگست 1931ء کو لاہور کے باغ بیرون موچی دروازہ میں ایک جلسہ منعقد ہوا جس میں علامہ اقبال نے کشمیر کی تحریک آزادی کا اعلان کیا۔ اس دن کئی دیگر شہروں میں بھی” یوم کشمیر“منایا گیا۔ 14 ستمبر 1931ء کو میر واعظ مولانا محمد یوسف شاہ نے ڈوگرہ حکومت کیخلاف جہاد کا فتویٰ دیدیا۔ یہ سب کچھ صرف چھ ماہ میں ہوا۔ 23 مارچ کو پوری ریاست جموں وکشمیر نے بھگت سنگھ کی پھانسی کیخلاف احتجاج کیا، پھر توہین قرآن کے خلاف تحریک شروع ہوئی، 13جولائی کو 22 کشمیری مسلمانوں کی شہادت ہوئی اور 14ستمبرکو ڈوگرہ حکومت کیخلاف سرینگر سے جہاد کا فتویٰ آ گیا۔ یہ تاریخیں صاف بتاتی ہیں کہ ابھی آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے ایک علیحدہ وطن کا باقاعدہ مطالبہ سامنے نہیں آیا تھا مگر جموں وکشمیر میں تحریک آزادی شروع ہو چکی تھی۔ چوہدری غلام عباس اور سردار فتح کریلوی سمیت کئی کشمیری رہنماؤں نے لاہور آ کر علامہ اقبال سے صلاح مشورہ کیا اور 1932ء میں آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے نام سے ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی۔1934ء میں پہلی دفعہ ریاست جموں وکشمیر میں انتخابات ہوئے اور مسلم کانفرنس تمام مسلم نشستیں جیت گئی۔ 1939ء میں شیخ عبداللّٰہ نے مسلم کانفرنس توڑ کر نیشنل کانفرنس بنالی۔ 1945ء میں شیخ عبداللّٰہ نے پنڈت جواہر لعل نہرو کو نیشنل کانفرنس کے سالانہ اجلاس کا مہمان خصوصی بنایا اور یوں نیشنل کانفرنس نے کانگریس کے ہم نوائی اختیار کر لی۔ دوسری طرف 23مارچ 1940کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں مسلم کانفرنس کا وفد شریک ہوا جس میں جموں، سرینگر، مظفرآباد، پونچھ اور میر پور کی مکمل نمائندگی تھی اور یوں مسلم کانفرنس کھل کر مسلم لیگ کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔1944ء میں قائداعظم محمد علی جناح نے سرینگر کا دورہ کیا۔ انہوں نے شیخ عبداللّٰہ کو واپس مسلم کانفرنس میں آنے کی دعوت دی جسے شیخ عبداللّٰہ نے ماننے سے انکار کر دیا۔17 جون 1944ء کو سرینگر میں مسلم کانفرنس کے سالانہ اجلاس کے مہمان خصوصی قائداعظم محمد علی جناح تھے۔ یہ وہ واقعات ہیں جنکے پس منظر میں 19 جولائی 1947ء کو مسلم کانفرنس نے سرینگر میں اپنے اجلاس میں الحاق پاکستان کی قرارداد منظور کی۔ پروفیسر ایم نذیر احمد تشنہ کی کتاب ’’تاریخ کشمیر (تاریخ کشمیر 324 ق م تا 2021)“ کے مطابق سردار ابراہیم خان کی رہائش گاہ پر ہونیوالے اس اجلاس کی صدارت چوہدری حمید اللّٰہ خان نے کی جبکہ جموں سے چوہدری غلام عباس، ڈاکٹر غلام احمد جراح، میر پور کے کرنل علی احمد شاہ اور چوہدری محمد رفیق، پونچھ کے حاجی محمد، مظفرآباد کے محمد علی کنول، سرینگر کے خواجہ احمد اللّٰہ رضا، راجوری کے مرزا فقیر محمد، چوہدری نور حسین، پروفیسر اسحاق قریشی، سوپور کے خواجہ غلام محی الدین سمیت ریاست کے ہر علاقے کے مسلمان نمائندے الحاق پاکستان کی قرارداد منظور کرنے والوں میں شامل تھے۔پاکستان 14اگست 1947ء کو وجود میں آیا لیکن کشمیری مسلمان 14 اگست سے بہت پہلے ہی پاکستانی بن چکے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ 19 جولائی کی قرارداد منظور کرنیوالے رہنما خود مختار کشمیر کے حامی بن گئے لیکن وہ پاکستان کے مخالف نہیں تھے۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی 14 اگست 1931ء کو شروع ہو چکی تھی۔ آج بھی ریاست جموں وکشمیر کے تمام علاقوں میں 13جولائی کو یوم شہدائے کشمیر منایا جاتا ہے۔ یہ وہ شہداء ہیں جو قیام پاکستان سے 16 سال قبل سرینگر میں شہید ہوئے۔ افسوس کہ آج پاکستان کی حکومت کے کچھ مسلم لیگی وزراء یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ آزاد کشمیر والوں کو پورا کشمیری نہیں سمجھتے کیونکہ ان کی جدوجہد مقبوضہ کشمیر والوں سے کم ہے اور انکی زبان بھی مختلف ہے۔ 19جولائی 1947 کو الحاق پاکستان کی قرارداد منظور کرنیوالوں کی لمبی فہرست میں سرینگر سے جموں اور میرپور سے مظفرآباد تک ریاست کے ہر علاقے کی نمائندگی کو دیکھ لیں۔ ان میں ہر زبان بولنے والا شامل تھا۔ 13جولائی کو یوم شہدائے کشمیر صرف سرینگر میں نہیں راولاکوٹ اور باغ سے لیکر وادی نیلم اور جموں میں بھی منایا جاتا ہے۔ کشمیریوں کی تاریخ سے نابلد پاکستان کا نااہل حکمران طبقہ مت بھولے کہ1987 ء میں مقبوضہ جموں وکشمیر کے ریاستی الیکشن میں دھاندلی نے بھارتی حکومت کیخلاف مسلح مزاحمت کو جنم دیا۔ سرینگر سے ایک انتخابی امیدوار سید یوسف شاہ کے ساتھ دھاندلی ہوئی تو وہ مسلح مزاحمت کرنیوالوں کیلئے سید صلاح الدین بن کر سامنے آیا۔ جو غلطی بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں کی وہ غلطی آزادکشمیر میں نہ کی جائے۔ طاقت کا استعمال کشمیر میں مزید بغاوت کو جنم دیگا۔ یقین نہ آئے تو سید صلاح الدین سےپوچھ لیں۔ الیکشن میںدھاندلی مزید مزاحمت کو اُبھارے گی۔ لاکھوں شہدائے کشمیر کا واسطہ آزادکشمیر میں دھونس اور دھاندلی کا راستہ اختیار مت کریں۔