• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں جب بھی ریاستی زوال، گورننس کے بحران یا ادارہ جاتی کمزوریوں پر بحث ہوتی ہے تو عموماً تین اداروں کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے: سیاست دان، مقتدرہ اور عدلیہ۔ اس تاثر میں خاصی حقیقت بھی ہے۔ سیاست دان مضبوط جمہوری روایات قائم نہ کر سکے، مقتدرہ نے مختلف ادوار میں براہِ راست یا بالواسطہ سیاسی عمل میں مداخلت کی، جبکہ عدلیہ نے کئی مواقع پر غیر آئینی اقدامات کو قانونی جواز فراہم کیا۔ لیکن اس پوری بحث میں ایک ایسا ادارہ نسبتاً کم زیرِ بحث آیا ہے جسکے بغیر ریاستی نظام کا روزمرہ چلنا ممکن ہی نہیں تھا، اور وہ سول بیوروکریسی ہے۔یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ریاستی زوال کی تمام ذمہ داری صرف بیوروکریسی پر عائد ہوتی ہے، لیکن ریاستی مشینری کے تسلسل، حکومتی فیصلوں پر عمل درآمد اور انتظامی نظم و نسق کی بنیادی ذمہ داری ہمیشہ اسی کے کندھوں پر رہی ہے۔ حکومتیں بدلتی رہیں مگر انتظامی ڈھانچہ برقرار رہا۔ اگر کسی ایک بنیادی ناکامی کی نشاندہی کی جائے تو وہ آزاد، منصفانہ اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد میں انتظامیہ کا کردار ہے۔ اگرچہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے، لیکن ان کی شفافیت بڑی حد تک انتظامیہ کی دیانت، غیر جانبداری اور پیشہ ورانہ کردار سے وابستہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی عمل ہر دور میں متنازع رہا اور جمہوری ادارے مضبوط نہ ہو سکے۔ بدقسمتی سے ہر نیا الیکشن پہلے سے زیادہ متنازع ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے دھندلے انتخابی عمل سے عوام کے حقیقی نمائندے کیسے سامنے آ سکتے ہیں؟ آج بھی وقت ہے کہ موجودہ بیوروکریسی آئین، قانون اور اپنے ضمیر کی آواز کو مقدم رکھے۔ریٹائرمنٹ کے بعد اکثر سابق اعلیٰ سرکاری افسران ریاستی ناکامیوں کے نمایاں ناقد نظر آتے ہیں۔ ان کی گفتگو سنتے ہوئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ خرابیاں انہیں اس وقت دکھائی نہیں دیتی تھیں جب وہ خود اقتدار کے مراکز میں بیٹھ کر فیصلوں کا حصہ تھے؟

پاکستان کی سول بیوروکریسی کی بنیاد برطانوی دور کے انڈین سول سروس (ICS) پر تھی، جس کا مقصد عوامی خدمت نہیں بلکہ نوآبادیاتی اقتدار کو برقرار رکھنا تھا۔ افسوس کہ آزادی کے بعد اس ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات نہ ہو سکیں۔آئینی اور غیر آئینی تبدیلیوںکے بیشتر مواقع پر سول بیوروکریسی نے مزاحمت کے بجائے انتظامی سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ 1953ء میں گورنر جنرل ملک غلام محمد نے منتخب وزیر اعظم کو برطرف کیا اور بعدازاں دستور ساز اسمبلی تحلیل کر دی۔ ون یونٹ کے نفاذ میں بھی اعلیٰ سول بیوروکریسی کا کردار نمایاں رہا، جبکہ بعد کے فوجی ادوار میں غلام اسحاق خان اور روئیداد خان جیسے بااثر بیوروکریٹس ریاستی انتظام کے مرکزی ستون رہے۔ قواعدِ کار ہر سینئر افسر کو غیر قانونی یا غیر آئینی حکم پر اختلافی نوٹ ریکارڈ کرنے کا حق دیتے ہیں، لیکن ایسی مزاحمت کم ہی دیکھنے میں آئی۔

اس کے باوجود پوری سول سروس کو ایک ہی پیمانے سے جانچنا ناانصافی ہوگی۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسے سول سرونٹس بھی گزرے ہیں جنہوں نے اپنی دیانت، صلاحیت اور وژن سے قومی تعمیر میںانمٹ نقوش چھوڑے۔آئی سی ایس افسر ظفرالاحسن (ایم کیو ایم راہنما نسرین جلیل اور عالمی شہرت یافتہ آرکیٹیکٹ یاسمین لاری کے والد)نے لاہور امپروومنٹ ٹرسٹ کے پہلے چیئرمین کی حیثیت سے شاہ عالم مارکیٹ کی ازسرِنو تعمیر، سمن آباد اور گلبرگ جیسے جدید علاقوں کی بنیاد رکھی، بعدازاں تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ذریعے جوہرآباد، قائدآباد اور لیاقت آباد جیسے نئے شہر آباد کیے اور پی آئی اے کے پہلے چیئرمین ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔اختر حسین نےچیف سیکرٹری مغربی پاکستان اور بعدازاں گورنر کی حیثیت سے انتظامی استحکام کی مثال قائم کی۔ ڈاکٹر اختر حمید خان نے سول سروس چھوڑ کر کمیلا ماڈل اور بعدازاں اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کے ذریعے عوامی خدمت کی نئی روایت قائم کی۔ راؤ عبدالرشید نے بطور آئی جی پنجاب ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف جھوٹی گواہی دینے سے انکار کیا اور اسکی پاداش میں لاہور قلعہ میں قیدِ تنہائی برداشت کی، مگر اپنے ضمیر پر سمجھوتہ نہ کیا۔کچھ نہایت نیک نام اور سینئر بیوروکریٹس نے آئینی عہدوں کی پیشکش صرف اسلئے قبول نہ کی کہ انہیں آزادانہ انداز میں کام کرنے کی مطلوبہ ضمانت حاصل نہیں تھی۔ انجینئر شمس الملک نے کالا باغ ڈیم کے حق میں مسلسل آواز بلند کی، جبکہ ظفر محمود نے اپنے پیشہ ورانہ مؤقف پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے چیئرمین واپڈا کا منصب چھوڑ دیا۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے سرکاری ملازمت ترک کر کے اخوت کے ذریعے ثابت کیا کہ عوامی خدمت صرف سرکاری منصب کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہی مثالیں اُن ریٹائرڈ افسران کیلئے بھی سوال چھوڑ جاتی ہیں جو آج تو ریاستی ناکامیوں پر کھل کر تنقید کرتے ہیں، مگر اپنے دورِ اختیار میں خاموش رہے۔ اگر ایک افسر پوری زندگی مراعات اور اختیارات سے فائدہ اٹھائے مگر اصلاحِ نظام کیلئے مؤثر کردار ادا نہ کرے تو ریٹائرمنٹ کے بعد محض تنقید اسے اپنی ذمہ داری سے بری نہیں کر سکتی۔پاکستان کے موجودہ حالات کی ذمہ داری کسی ایک ادارے پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ سیاست دان، مقتدرہ، عدلیہ، بیوروکریسی، میڈیا اور بحیثیت مجموعی ہمارا معاشرہ، سب کسی نہ کسی درجے میں اس بگاڑ کے ذمہ دار ہیں۔ تاہم سول بیوروکریسی کی ذمہ داری اس لیے منفرد ہے کہ ریاستی مشینری کا عملی انتظام، قانون پر عمل درآمد اور ادارہ جاتی تسلسل ہمیشہ اسی کے سپرد رہا ہے۔میری گزارش موجودہ سول بیوروکریسی سے ہے۔ اپنے عہدوں کو محض اختیارات یا مراعات کا ذریعہ نہ سمجھیں بلکہ ایک آئینی امانت تصور کریں۔ اگر کبھی کسی غیر قانونی یا غیر آئینی حکم کا سامنا ہو تو قانون کے مطابق اختلافی نوٹ ریکارڈ کیجیے، اپنی پیشہ ورانہ رائے محفوظ کیجیے اور آئین و قانون کی بالادستی کو ہر دباؤ پر مقدم رکھیے۔ کسی سرکاری افسر کی اصل کامیابی اس کے عہدوں یا مراعات سے نہیں بلکہ ان مضبوط اداروں سے ناپی جاتی ہے جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ اگر آج کی سول بیوروکریسی آئین اور قانون کو ہر دباؤ پر مقدم رکھے تو وہ ریاستی کمزوری نہیں بلکہ استحکام کی علامت بن سکتی ہے۔

تازہ ترین