نئے زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو پورا کرنے اور نوجوان نسل کا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے موجودہ حالات میں ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ماضی کی نسبت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ تاہم اس حوالے سے پاکستان کی صورتحال کو کسی بھی طرح تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک میں اڑھائی کروڑ سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور ان میں سے 86 لاکھ بچے چائلڈ لیبرپر مجبور ہیں۔ مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ ان بچوں کی عمریں پانچ سے 17سال کے درمیان ہیں۔ اس طرح نوجوان طبقے کا ایک بڑا حصہ ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرنے کی بجائے ایک معاشی بوجھ کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ حالانکہ اتنی بڑی تعداد میں نوجوان طبقہ کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے انتہائی کارآمد ثابت ہو سکتا ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ مناسب تعلیم اور ہنر سے آراستہ ہو۔ ایک اندازےکے مطابق ملک میں ملازمت کے حصول کے خواہشمند 60 فیصد سے زیادہ افراد کے پاس خدمات اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں درکار مہارتوں کی کمی ہے۔ اس وجہ سے بہت سی کمپنیاں اور سرمایہ کار اپنے پیداواری عمل کو توسیع دینے یا اپ گریڈ کرنے سے گریزاں ہیں۔ ان حالات میں اعلیٰ تربیت یافتہ ہنر مند کارکنوں کی تیاری کیلئے زیادہ سے زیادہ مالی وسائل مختص کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صنعتی شعبوں میں ہنر مند افرادی قوت کی کمی کو دور کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں فرنیچر مینوفیکچرنگ، انجینئرنگ، کنسٹرکشن، ٹیکسٹائل اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت دیگر صنعتوں کو جدید تکنیکی مہارتوں سے لیس مناسب تربیت یافتہ ورکرز کی فراہمی کو ترجیحی بنیادوں پر ممکن بنانا ہوگا۔ علاوہ ازیں تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں کیلئے فنڈنگ بڑھانے اور عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق جدید ہنر سکھانے کے نئے پروگرام متعارف کروانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ اس طرح افرادی قوت کی تربیت میں سرمایہ کاری نہ صرف ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے گی بلکہ اسکے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس کیساتھ ساتھ ہنر مند افرادی قوت کیلئےبیرون ملک ملازمت کے مواقع بھی بڑھیں گے اور وہ بہتر معاوضے پر زیادہ اچھی ملازمتیں حاصل کر سکیں گے۔ اس سلسلے میں خاطر خواہ بجٹ مختص کرنے کے ساتھ ساتھ صنعتوں، تعلیمی اداروں اور ٹیکنیکل تربیت کے اداروں کی مشاورت سے ایک جامع حکمت عملی مرتب کرنی چاہئے۔ اس وقت ملک کے مستقبل اور معاشی خوشحالی کا انحصار انسانی سرمائے اور تکنیکی مہارتوں کو فروغ دینے پر سرمایہ کاری میں ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ پائیدار اقتصادی ترقی محض وافر قدرتی وسائل سے حاصل نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کیلئے ہنر مند اور اختراع ساز افرادی قوت کی دستیابی زیادہ ضروری ہوتی ہے۔ اسکے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے نوجوان طبقے میں ٹیکنیکل ٹریننگ کے حصول کی خواہش انتہائی کم ہے۔ ہمارے ہاں زیادہ تر نوجوان یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کر کے اعلیٰ سرکاری نوکری حاصل کرنےکے خواہشمند ہیں۔ علاوہ ازیں ملک میں ٹیکنیکل ایجوکیشن کے اداروں کی بھی کمی ہے۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اداروں کی استعداد کار بڑھانے کیساتھ ساتھ ان میں دی جانے والی تعلیم اور تربیت کا معیار بھی مزید بہتر بنایا جائے۔ اس حوالے سے راقم کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ ملک میں نوجوان طبقے کو ہنر مند بنانے کیلئے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کئے جائیں۔ اس سلسلے میں مختلف ٹیکنیکل ٹریننگ کے اداروں کا بورڈ ممبر ہونے کے ناطے بھی میں نے زیادہ سے زیادہ وسائل کا حصول ممکن بنانےکے ساتھ ساتھ ایسے ٹیکنیکل کورسز متعارف کروائے ہیں جسکے ہنرمند افراد کی انڈسٹری کو ضرورت ہے یا بیرون ملک ان کی مانگ ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو یہ سمجھنا ہوگاکہ اقتصادی ترقی اور بیروزگاری کو کم کرنے کیلئےٹیکنیکل ٹریننگ کے کورسز کا فروغ اور ان میں جدت لانا انتہائی ضروری ہوچکا ہے۔ اس سلسلے میں بیرون ملک سفارتخانوں میں تعینات ٹریڈ آفیسرز کو یہ ٹاسک دیا جا سکتا ہے کہ وہ ہر ملک کی ضرورت کے مطابق افرادی قوت کی تیاری کیلئے مخصوص ٹریڈز کی نشاندہی کریں۔ اس طرح ملنے والی معلومات کو آگے ٹیکنیکل ٹریننگ دینے والے اداروں کے ساتھ شیئر کیا جائے تا کہ وہ انہی ٹریڈز میں نوجوانوں کو عالمی معیار کے مطابق تربیت فراہم کرکے ملازمت کا حصول یقینی بنائیں۔ اس طرح نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کے ہنرمند افراد کی مانگ میں اضافہ ہو سکے گا بلکہ پاکستان کو زرمبادلہ کے حصول کا ایک بہتر متبادل بھی میسر آ جائیگا۔
ماضی قریب میں چین نے اسی طرح اپنی نوجوان نسل کو ہنر مند بنا کر اپنی قومی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔ علاوہ ازیں ہندوستان اور بنگلہ دیش نے بھی اپنے نوجوانوں کو روزگارکیلئے درکار ہنر کی تربیت دیکر ترقی کی رفتار کو تیز کیا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان سے نوجوانوں کی بڑی تعداد روزگار کے حصول کیلئے بیرون ملک جاتی ہے لیکن بدقسمتی سےمناسب مہارتوں کی کمی کی وجہ سے ان میں سے زیادہ تر کو بہتر ملازمتیں کم ہی ملتی ہیں۔ترقی یافتہ ممالک کے نوجوان بھی اب پیشہ ورانہ اسکولوں میں جانے اور مارکیٹ پر مبنی ہنر حاصل کرنے کیلئے کالج چھوڑ رہے ہیں۔ چنانچہ ہمارے لیے بھی نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانےکیلئے اعلیٰ ثانوی سطح تک معیاری لازمی تعلیم کو یقینی بنانے کیساتھ ساتھ انہیں مارکیٹ پر مبنی ضرورتوں کے مطابق ہنرمند بنانا ضروری ہے۔