3 کروڑ آبادی کا شہر کراچی پاکستان کا معاشی، صنعتی اور فنانشل حب ہے جس کا ملکی جی ڈی پی میں 25 فیصد، ٹیکس ریونیو کی وصولی میں 55فیصد، کسٹم ڈیوٹی میں 70 فیصد اور مینوفیکچرنگ میں 30 فیصد حصہ ہے۔ ملک کی 95 فیصد امپورٹ ایکسپورٹ کراچی کی بندرگاہوں کے پی ٹی اور پورٹ قاسم سے ہوتی ہے۔ تمام بینکوں اور 90فیصد ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہیڈ آفس کراچی میں ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا اسٹاک ایکسچینج PSX کراچی میں ہے جہاں منٹوں میں اربوں روپے کی ٹرانزیکشنز کی جاتی ہیں۔ یہ غریب پرور شہر پورے ملک کے لوگوں کو ملازمتیں فراہم کرتا ہے اور پھر یہ لوگ یہیں بس جاتے ہیں جو کراچی کی آبادی میں مسلسل اضافے کا سبب ہے لیکن بدقسمتی سے شہر کا مطلوبہ انفراسٹرکچر ڈویلپ نہیں کیا جاسکا جسکی وجہ سے شہر میں پینے کے صاف پانی، سیوریج، امن و امان کی صورتحال، ٹرانسپورٹ،سڑکیں اور روڈ نیٹ ورک انتہائی خراب حالت میں ہیں جو شہر کے لوگوں کی مصیبتوں اور مشکلات میں اضافہ کررہے ہیں۔ اِسی سلسلے میں گزشتہ دنوں میں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اکنامک افیئرز کا اجلاس طلب کیا تھا جس میں میری صدارت میں تمام سیاسی جماعتوں کے اراکین قومی اسمبلی، متعلقہ وزراء اور سیکریٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس میں ہم نے وفاقی حکومت کے کراچی کیلئے ان اہم نظر انداز منصوبوں کا جائزہ لیا جو ایک طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہیں جن میں کے پی ٹی کے لیاری ایلی ویٹڈ فریٹ کوریڈور (LEFC)، کراچی کیلئے پینے کے پانی کا منصوبہ K4 اور حیدرآباد سکھر موٹر وے (M6) شامل ہیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل نہ ہونے کی وجہ وفاقی حکومت کا وقت پر فنڈز فراہم نہ کرنا، بار بار پروجیکٹ کے ڈیزائن میں تبدیلی، تکنیکی مسائل، اداروں کے مابین تنازعات، رائٹ آف وے اور زمینوں کا حصول شامل ہے۔
لیاری ایلی ویٹڈ فریٹ کوریڈور (LEFC) کا مقصد کراچی پورٹ سے ہیوی ٹریفک، کنٹینرز اور نقل و حمل کیلئے ایک بلند ایکسپریس وے تعمیر کرنا ہے تاکہ اندرون شہر سے ہیوی ٹریفک کا دباؤ کم ہو اور بندرگاہ تک کارگو کی رسائی بہتر بنائی جاسکے۔ میں نے اجلاس میں بتایا کہ ہم کراچی کے ایم این اے اس تکلیف سے واقف ہیں جب ہیوی ٹریفک اور کنٹینرز کو کراچی پورٹ جانیوالے مختلف راستوں میں روکا جاتا ہے اور رات 10 بجے سے صبح 6بجے تک انہیں پورٹ جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ سینکڑوں کنٹینرزکی ایک ساتھ موومنٹ حادثات کا سبب بنتی ہے۔ شادیوں میں شرکت کرنیوالی فیملیوں کو اکثر گھنٹوں ان کنٹینرز کی وجہ سے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس پروجیکٹ کی فنانسنگ کیلئے کورین ایگزم بینک نے 164ارب روپے ایک فیصد شرح سود پر 40سالہ مدت کے قرضے کا پروپوزل دیا تھا لیکن اسٹرکچر کیلئے اسٹیل بریجز جنکی مالیت 61ارب روپے ہے، قرضے سے مشروط تھے۔ اس کے علاوہ کورین بینک کا ہی پروجیکٹ ایڈوائزر اور کنٹریکٹر کی تقرری بھی قرضے کی شرائط میں شامل تھے جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان کے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کے پروپوزل کی مالیت 88.6ارب روپے اور کنکریٹ اسٹرکچر کی مالیت 23 ارب روپے تھی۔ موازنے سے کورین ایگزم بینک کا پروپوزل نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے مقابلے میں 85فیصد مہنگا تھا۔ قائمہ کمیٹی نے کے پی ٹی، PSDP اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے فنڈز مہیا کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ یہ منصوبہ کراچی کے ٹریفک کیلئے نہایت اہم اور ضروری ہے جسکی اصل مالیت کچھ سال پہلے صرف 26ارب روپے تھی لیکن تاخیر کے باعث پروجیکٹ کی مالیت میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔
کراچی کا دوسرا اہم پروجیکٹ پینے کے صاف پانی K4 ہے جو 650 ملین گیلن پانی یومیہ کراچی کو سپلائی کریگا۔ پہلے مرحلے میں 260 ملین گیلن پانی کینجھر جھیل سے کراچی سپلائی کیا جائیگا۔ کراچی میں پانی کی طلب 1200ملین گیلن یومیہ ہے لیکن کراچی کو صرف 650 ملین گیلن یومیہ پانی سپلائی کیا جارہا ہے۔ اس لحاظ سے کراچی کو یومیہ 550 ملین گیلن پانی کم فراہم کیا جارہا ہے جو K4 کے پروجیکٹ سے پورا کیا جائیگا۔ پانی کی کم سپلائی کی وجہ سے لوگ ٹینکر مافیا سے پانی مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں جو اربوں روپے کا بزنس ہے۔ K4 پروجیکٹ کی 16 سال میں مالی لاگت 78 ارب روپےتک پہنچ گئی ہے۔ حکومت نے رواں مالی سال بجٹ میں صرف 10ارب روپے مختص کئے ہیں۔ اس لحاظ سے پروجیکٹ کیلئے 68 ارب روپے کم ہیں۔ K4 پروجیکٹ 2011 میں منظور کیا گیا جسکی تکمیل 2019ءمیں ہونا تھی لیکن تیکنیکی خامیوں، ڈیزائن کی تبدیلی، مالی مشکلات، کرپشن اور نااہلی کی وجہ سے 2020ءمیں یہ پروجیکٹ واپڈا کو مکمل کرنے کیلئے سونپا گیا جسکی تکمیل 2026 میں ہونا تھی لیکن اب اسکی تکمیل 2029ءمقرر کی گئی ہے۔ کیا ٹینکر فری کراچی کا یہ خواب کبھی پورا ہوسکے گا؟ میرا حکومت کو مشورہ ہے کہ ان پروجیکٹس کو ترجیح دی جائے کیونکہ کراچی کے ان پروجیکٹس میں سرمایہ کاری دراصل پاکستان کے معاشی مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔