• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگرچہ زمانے بدلے ، دنیا بدل کر رہ گئی لیکن دنیا بھر کی کرنسیاں کاغذ اور دھات سے آگے نہ بڑھیں تاوقتیکہ چند عشرے قبل جب انسانی زندگی میں پلاسٹک منی نے اپنے قدم جمانا شروع کر دئیے ۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے اچانک دنیا نے ایک ایسی کرنسی دیکھی جو نہ تو کسی ایک ملک کی سرحدوں تک محدود تھی اور نہ ہی کسی مرکزیت کی محتاج تھی۔ لیکن اس سے بھی حیران کن بات یہ کہ بغیر کسی مادی وجود کے فقط انٹر نیٹ اسکرین پر آپکی ملکیت ہندسوں کی شکل میں آپ کے سامنے ہوتی ہے ۔چنانچہ اس کرنسی کو آپ کہیں بھی آن لائن منتقل کر سکتے ہیں اور خرچ بھی کرسکتے ہیں ۔ دنیا اس جدید ڈیجیٹل کرنسی کو اب ’’ کرپٹو کرنسی‘‘ کے نام سے جانتی ہے ۔ آئیےدیکھتے ہیں کہ یہ کرپٹو کرنسی کیا ہے ؟ کب کیسے اور کیوں شروع ہوئی ۔؟

2009 ءمیں سوتاشی ناکاموٹو نامی ایک شخص جو ایک سافٹ وئیر انجینئر تھا ، جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے وہ اپنا نام خفیہ رکھنا چاہتا تھا اسلئے یہ اس کا فرضی نام بھی ہو سکتا ہے ۔اس نے رقوم کی ادائیگیوں اور دیگر لین دین کو بینکوں ،پےپال اور اسطرح کے دیگر مالیاتی اداروں سے آزاد کراتے ہوئے ایک پروگرام مرتب کیا جو بینکوں یا مالیاتی اداروں کے برعکس انتظامی طور پر مرکزیت کے بغیر ایک خود کار آن لائن نظام کا احاطہ کرتا تھا ۔اس نے جو پہلا پروگرام متعارف کرایا وہ بٹ کوائن نامی کرنسی کے نام سے ، بلاک چین سسٹم کے ذریعے منسلک تھا ۔ چنانچہ بٹ کوائن کو عالمی طور پر بطور ڈیجٹیل کرنسی متعارف کرانے کے دوران اس نے جو پہلا لوگو دیا وہ کچھ اسطرح تھا ۔

A Bitcoin, Peer to peer Electronic cash systemاسی کیساتھ یہ وضاحت بھی پیش کی گئی کہ بٹ کوائن ایک ایسی ڈیجیٹل کرنسی ہے جو بغیر کسی ادارے کی سرپرستی یا مرکزیت کے ایک بلاک چین نامی خود کار الیکٹرانک سسٹم کی مدد سے آپ کے کمپیوٹرز پر آپ کی تمام مالی ٹرانزیکشنز کا احاطہ کرے گی ۔یہ سسٹم نہ صرف مرکزیت سے عاری ہو گا بلکہ کرپٹوگرافی کے ذریعے پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ بھی ہو گا ۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ اس سارے سسٹم کو چلانے والا بلاک چین آخر ہے کیا ؟جیسے بٹ کوائن ڈیجیٹل کرنسی کی ابتدائی شکل تھی اسی طرح بلاک چین ، اسی بٹ کوائن کی ٹیکنالوجی کی گویا ابتدائی شکل ہے ۔ چنانچہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے آن لائن ٹرانزیکشن ( لین دین) کو شفاف اور محفوظ طریقے سے ریکارڈ کرنے کیلئے استعمال میں لایا گیا ہے۔ تکنیکی طور پر یہ ایک ایسی ڈیٹا بیس ہے جو مختلف کمپیوٹرز ( نوڈز ) تک پھیلی ہوتی ہے اور اسے تبدیل کرنا یا اس میں ردوبدل کرنا لگ بھگ ناممکن ہوتا ہے ۔ چنانچہ بلاک چین ہی کی مدد سےنہ صرف نئی کرپٹو کرنسی وجود میں آتی چلی جاتی ہے بلکہ اسکی خرید وفروخت اور اسکی منتقلی بھی اسی کی مرہون منت ہوتی ہے ۔بلاک چین کو سب سے زیادہ بٹ کوائن کے حوالے سے جانا جاتا تھا لیکن اب وقت کے ساتھ ساتھ اس کے استعمال کا دائرہ کار انتہائی وسیع ہوتا جا رہا ہے جیسے فنانس ، سپلائی چین ، ہیلتھ کئیر ، مینجمنٹ ،اسمارٹ کنٹریکٹس اور ووٹنگ سسٹم وغیرہ بھی شامل ہو چکے ہیں ۔بلاک چین کیسےکام کرتا ہے ؟جب کوئی شخص بٹ کوائن یا کوئی اور کرپٹو کرنسی خریدنے یا آگے کسی کو منتقل کرنے کیلئے ٹرانزیکشن کرتا ہے تو نیٹ ورک پر موجود تمام نوڈز کو یہ براڈ کاسٹ ہو جاتی ہے ۔نیٹ ورک سب سے پہلے ازخود اس ٹرانزیکشن کی مخصوص الگورتھم فارمولے کے تحت تصدیق کرتا ہے،اسکے بعد یہ نیٹ ورک تمام تصدیق شدہ ٹرانزیکشنز کو ایک بلاک کی صورت میں جمع کر دیتا ہے ۔اس بلاک میں ایک ’ہیش ‘ ( ہیش ایک طرح کا مخصوص ریاضیاتی عمل) بنایا جاتا ہے جو اس کے ڈیٹا اور پچھلے بلاک کے ہیش پر مشتمل ہوتا ہے ۔یہ نیا بلاک ، سسٹم میں موجود لیجر میں شامل ہو جاتے ہیں اور تمام نوڈز اپنی لیجر کی کاپی اپ ڈیٹ کر لیتے ہیں ۔ اور یوں یہ بلاک اسی چین کا حصہ بنتے چلے جاتے ہیں ۔یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ ہیشنگ اور کرپٹو گرافی جیسے محفوظ ترین سسٹم کی وجہ سے بلاک چین کے ڈیٹا کو تبدیل کرنا اس لئے ناممکن یا کم از کم مشکل ہوتا ہے کہ اسکے لئے پچھلے تمام بلاکس کے ہیشز کو بھی بدلنا پڑتا ہے جو اس نیٹ ورک کی کمان کی رضامندی کے بغیر ممکن نہیں ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کرپٹو کرنسی کی مدد سے ہم یہ ٹرانزیکشنز کیسے کر سکتے ہیں ؟ کرپٹو کرنسی کو مارکیٹ میں خریداری کیلئے استعمال کرنے کیلئے ہمیں سب سے پہلے اپنے موبائل یا کمپیوٹر میں رقم رکھنے کیلئے ایک والٹ انسٹال کرنا پڑتا ہے ۔اس کے بعد ہمیں اپنے استعمال کے مطابق اس والٹ میں کرپٹو کرنسی کی معقول رقم ڈالنا ہوتی ہے جو کسی بھی کرپٹو کرنسی کی شکل میں ہو سکتی ہے ، مثلابٹ کوائن ، لائٹ کوائن ، ایکس آر پی ، ایتھر وغیرہ جو ہمیں کرپٹو کرنسی ایکسچینج سے خریدنے کے بعد ہمارے والٹ ( اکاؤنٹ ) میں جمع ہو جاتی ہے ۔واضح رہے ہم کرنسی ایکسچینج کو اپنی دستیاب کرنسی کے بدلے ہی کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرائیں گے اور اسکے بعد اب ہم کرپٹو کرنسی کے ذریعے اپنی مطلوبہ اشیاء کی خریداری کر سکیں گے ۔ یہاں یہ ذہن میں رہے کہ اس کرنسی سے ہم صرف وہ اشیاء ہی خرید سکیں گے جن کی قیمت کرپٹو کرنسی میں پہلے ہی سے متعین ہو گی ۔جبکہ اسکے برعکس اگر ہمیں کوئی ایسی اشیاء خریدنی پڑ جائیں جنکی قیمتیں کاغذی کرنسی (جیسے روپے ، ڈالر، یورو وغیرہ )میں ہوں تو اسکے لئے بھی ہم کرپٹو کرنسی ایکسچینج کو استعمال کرتے ہوئے کرپٹو کرنسی کو کسی بھی کاغذی کرنسی میں تبدیل کرا کے مطلوبہ اشیاء کی خریداری کر سکیں گے ۔ کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت کہاں کہاں حاصل ہے؟وسطی امریکہ کا ملک ایل سلواڈور دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے بٹ کوائن کو قانونی شکل دی تھی ۔اسی کے ساتھ ساتھ وسطی افریقی جمہوریہ نے بھی اسے قانونی حیثیت دے رکھی ہے ۔سوئٹزر لینڈ ، مالٹا، پرتگال اور سنگاپور میں بھی معمولی شرائط کے ساتھ اس کرنسی کو قانونی حیثیت حاصل ہے ۔لیکن برطانیہ ، کینیڈا ، فرانس ، جاپان ، جرمنی جیسے ممالک میں اسکے استعمال کی اجازت کیلئےسخت مروجہ قوانین کے علاوہ ٹیکس بھی لاگو ہیں ۔جبکہ چین، مراکش اور سعودی عرب میں کرپٹو کرنسی کا استعمال تاحال ممنوع ہے ۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے پاکستان میں سن18-2017 ءکے آس پاس اسکا استعمال شروع ہوا تھا لیکن اسے قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے۔2018ءمیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس پر پابندی عائد کر دی تھی ۔چنانچہ سال رواں جنوری میں سینیٹ میں ایک بل پیش کیا گیا تھا جسکے ذریعے کرپٹو کرنسی اور بلاک چین ٹیکنالوجی کو مزید موثر اور فعال بنانا تھا ۔اسی بل میں اس امر کا اعادہ کیا گیا تھا کہ بنیادی طور پر پاکستان اپنی ڈیجیٹل کرنسی شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جسکا مطلب عالمی ڈیجیٹل اکانومی میں پاکستان کی پوزیشن کو بہتر بنانا ہے ۔ معاشی ماہرین کا بھی یہ ماننا ہے کہ پوری دنیا میں تیزی سے کرپٹو کرنسی کو تسلیم کیا جارہا ہے ۔یہ کرنسی دور ِجدید کی ایجاد ہے اسلئے پاکستان کو نئی ایجادات کی طرف قدم بڑھانا ہو گا کیونکہ دنیا کا معاشی نظام تیزی سے بدل رہا ہے ۔اگر پاکستان دنیا کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنا چاہتا ہے تو اسے اس طرح کی ٹیکنالوجیز کی دوڑ میں شامل ہونا پڑے گا ۔ لیکن اس کیلئےسب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہمیں بین الاقوامی حالات پر کڑی نظر رکھ کر محتاط انداز میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی ۔

تازہ ترین