پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کیلئے بڑھتی ہوئی آبادی کو روزگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام کیلئے بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ علاوہ ازیں مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلیوں اور کرپٹو کرنسی جیسے عوامل کے باعث دنیا اس وقت ایک نئے معاشی دور سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی اور سپلائی چین کی نئی تشکیل نے عالمی سرمایہ کاری کے رجحانات کو یکسر بدل دیا ہے۔ دوسری طرف بین الاقوامی کمپنیاں اب صرف سستی لیبر، خام مال کی دستیابی اور کھپت کی بنیاد پر ہی کسی ملک میں سرمایہ کاری کو ترجیح نہیں دے رہیں بلکہ ان کی ترجیح ایسے ممالک ہیں جہاں سیاسی استحکام، شفاف قوانین، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ہنرمند افرادی قوت و ماہرین کی دستیابی اور کاروبار میں آسانیاں فراہم کرنے والا ماحول دستیاب ہو۔ اگرچہ حالیہ چند برسوں میں خلیجی ممالک، چین اور بعض دیگر دوست ممالک نے پاکستان میں معدنیات، زراعت، آئی ٹی اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے لیکن مجموعی طور پر پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم خطے کے دیگر ممالک بالخصوص انڈیا، بنگلہ دیش، ویتنام اور انڈونیشیا کے مقابلے میں بہت کم ہے۔اس کی بنیادی وجہ صرف سرمایہ یا وسائل کی کمی نہیں بلکہ کاروباری ماحول سے متعلق متعدد مسائل ہیں۔ سرمایہ کار سب سے پہلے پالیسیوں کے تسلسل، معاہدوں کے تحفظ، عدالتی نظام، ٹیکس قوانین، ریگولیٹری شفافیت اور منافع بیرون ملک منتقل کرنے کی سہولت کو دیکھتے ہیں۔ پاکستان میں اکثر حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ معاشی ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں جسکی وجہ سے سرمایہ کار طویل المدت منصوبوں میں سرمایہ لگانے سے گریز کرتے ہیں۔ دوسری اہم رکاوٹ ہماری بیوروکریسی کی سرخ فیتے کی روایت اور کاروبار شروع کرنے کے پیچیدہ مراحل ہیں۔ حکومت نے اگرچہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ’’ایز آف ڈوئنگ بزنس‘‘ میں کچھ اصلاحات کی ہیں لیکن عملی طور پر مختلف سرکاری محکموں سے این او سی یا لائسنس کا حصول اور ٹیکس معاملات اب بھی سرمایہ کاروں کیلئے وقت طلب اور مہنگا عمل ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ نئے عالمی حالات میں پاکستان کو صرف روایتی شعبوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان صنعتوں پر بھی توجہ دینی چاہیے جن میں مستقبل کی عالمی سرمایہ کاری منتقل ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر سپلائی چین، قابلِ تجدید توانائی، ای وی (الیکٹرک وہیکل) کمپوننٹس، فارماسیوٹیکل، زرعی ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل ایسے شعبے ہیں جہاں پاکستان نسبتاً کم لاگت پر عالمی سرمایہ کاروں کو راغب کر سکتا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ہمارے لئے بیرونی سرمایہ کاری کے حصول کا اہم ذریعہ بن سکتے ہیں۔ تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ انہیں عالمی معیار کی فنی اور ڈیجیٹل مہارتیں سکھائی جائیں کیونکہ آج کا سرمایہ کار صرف سستی زمین یا ٹیکس میں رعایت کو ہی نہیں دیکھتا بلکہ اس کیلئے ہنرمند افرادی قوت و ماہرین کی دستیابی اور انفراسٹرکچر کی موجودگی بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے۔ اسی طرح خصوصی اقتصادی زونز کو صرف زمین کی الاٹمنٹ تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں مکمل صنعتی ماحولیاتی نظام میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جہاں بجلی، گیس، انٹرنیٹ، کسٹمز، بینکنگ اور قانونی سہولیات ایک ہی جگہ دستیاب ہوں۔ اس طرح بیرون ممالک موجود پاکستانی بھی ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ پاکستانی پہلے بھی بیرون ملک سے ترسیلات زر کی شکل میں کثیر زرمبادلہ پاکستان بھجوا رہے ہیں۔ اگر انہیں وینچر کیپٹل، اسٹارٹ اپس، صنعتی منصوبوں اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کیلئے خصوصی مراعات دی جائیں تو تھوڑے ہی عرصے میں زیادہ سرمایہ کاری کا حصول ممکن ہے۔ تاہم براہ راست بیرونی سرمایہ کار ہوں یا بیرون ملک مقیم پاکستانی، انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے تب ہی ترغیب دی جا سکے گی جب اس سلسلے میں درپیش مسائل و چیلنجز کو ٹھوس بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ اس حوالے سے حکومت کو چاہیے کہ بیرونی سرمایہ کاری کیلئے کم از کم 10 سال کیلئے ایک واضح پالیسی تشکیل دے۔ اس پالیسی کے تحت ٹیکس کی شرح کو خطے کے دیگر ممالک کے مساوی لانے کے ساتھ ساتھ ٹیکس کے نظام کو سادہ اور شفاف بنایا جائے۔ اس کے علاوہ عدالتی اور معاہدہ جاتی تحفظ کے قوانین کو بہتر بنانے اور خصوصی اقتصادی زونز کو جلد از جلد عالمی معیار کے مطابق ڈویلپ کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ڈیجیٹل معیشت، آئی ٹی اور گرین انرجی کے شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری کا حصول ممکن بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر سرمایہ کاروںکیلئے ’’ون ونڈو آپریشن‘‘ کو حقیقی معنوں میں نافذ کرنا بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ سیاسی استحکام اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے حوالے سے اگرچہ پاکستان میں صورتحال اس وقت اطمینان بخش ہے لیکن اسے برقرار رکھنے کیلئے سیاسی عمل میں دیگر اسٹیک ہولڈرز کو بھی شامل کرنا ہوگا۔حقیقت یہی ہے کہ آج کی دنیا میں سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں اعتماد، شفافیت اور طویل المدت استحکام موجود ہو۔ پاکستان کے پاس جغرافیائی محل وقوع، نوجوان آبادی، زرعی وسائل اور بڑی مقامی مارکیٹ جیسی نمایاں صلاحیتیں موجود ہیں لیکن جب تک ملک میں پالیسیوں کا تسلسل، قانون کی حکمرانی، ادارہ جاتی اصلاحات اور سرمایہ کار دوست ماحول نہیں ہو گا اس وقت تک بیرونی سرمایہ کاری کی دوڑ میں نمایاں کامیابی حاصل کرنا مشکل رہے گا۔ موجودہ عالمی منظرنامے میں اس وقت پاکستان کے پاس بہترین موقع موجود ہے کہ امریکہ، چین، روس، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کیساتھ خوشگوار تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری کا حصول ممکن بنایا جائے۔