مولانا فضل الرحمن کے ملک کی صورتحال، سیاسی عدم استحکام ، کے پی اور خصوصاً بلوچستان میں امن و امان کے بگڑتے ہوئے منظر نامے اور کشمیر میں ہونے والی حالیہ گڑبڑ کے حوالے سے بیان نے اندرون اور بیرون ملک ایک ہنگامہ برپا کر دیا ہے جسے بھارت اور اسرائیل جیسے پاکستان دشمن ممالک نے خوب اچھالا ہے ۔
مولانا کے بیان میں ملکی سیاست میں غیر سیاسی اداروں کی غیر آئینی مداخلت کا جو ذکر ہے اس سے کسی جمہوریت پسند کو اختلاف نہیں لیکن وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنیوالے شہیدوں اور غازیوں کی قربانیوں کا تمسخر اڑانے کا رویہ ان شہیدوں اور غازیوں کے لواحقین کیلئے انتہائی تکلیف دہ اور ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ مولانا ایک منجھے ہوئے زیرک سیاستدان ہیں اس لیے انکے بیان کو زبان کی پھسلن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اقتدار پر قابض افراد کا ان شہیدوں اور غازیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ چند افرادکی غلطیوں کا بوجھ ان لاکھوں معصوم وطن پرست جوانوں پر ڈالنا کسی طرح بھی جائز قرار نہیں دیا جا سکتا جو ہماری حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کی قربانی دے رہے ہیں۔ اس لئے شہدا کے بارے میں کسی بھی قسم کی طعنہ زنی سے گریز کرنا چاہئے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی اور غیر سیاسی اسٹیک ہولڈرز مل کر بیٹھیں اور پاکستان کو اس دلدل سے نکالنے کی کوشش کریں نیز اس کے اسباب پر تفصیل سے بحث کریں کیونکہ صرف طاقت کے استعمال سے بلوچستان میں جلتی ہوئی آگ پر قابونہیں پایا جا سکا ہے۔ ان مسائل کا حل صرف اور صرف سیاسی گفت و شنید کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
آج پاکستان معاشی سیاسی اور قومی بحران کی جس جان لیوا کیفیت میں مبتلا ہے اس کیفیت سے نکلنے کیلئے ملکی جمہوری اور عوامی پارٹیوں روشن خیال دانشوروں اور شاعروں، ادیبوں نے ہمیشہ پاکستان میں جمہوری ادارے مضبوط کرنے پر زور دیا تھا اور اس سلسلے میں نہ صرف صعوبتیں جھیلیں بلکہ جانوں کے نذرانے بھی دیئے۔ اس کا آغاز جنرل ایوب خان کے پہلے مسلم اور پاکستانی کمانڈر چیف بنتے ہی ہو گیا تھا اور غیر سیاسی مقتدر حلقوں نے سیاست میں مداخلت شروع کر دی تھی۔ جس کی بابائے قوم نے سختی سےممانعت کی ہوئی تھی۔ ان لوگوں میںکمانڈر ان چیف جنرل ایوب خان کے ساتھ سیکرٹری جنرل دفاع جنرل اسکندر مرزا نمایاں تھے۔ جنرل ایوب خان نے ہر طرح کے اخلاقی اور آئینی انحراف کا سلسلہ شروع کر دیا اور کمانڈر ان چیف کے عہدے میں توسیع کے ساتھ ساتھ وہ ملک کے وزیر دفاع بھی بن بیٹھے۔ اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ ہے۔ جمہوریت کے فقدان کی وجہ سے مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو گیا ۔یہ تھا ایوب خان کی سیاست میں مداخلت کا پہلا انجام اور پیغام کہ اگر بقیہ پاکستان کو بچانا ہے تو ملک میں حقیقی سیاسی لیڈرشپ کو مضبوط ہونے دیا جائے جو صرف ایک آزاد، شفاف اور منصفانہ الیکشن کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ جبکہ سیاست دانوں کا امیج داغدار بنا کر پیش کرنے کی بجائے انہیں قوم کا حقیقی نمائندہ سمجھا جائے سیاست کی باریکیاں صرف سیاست دان ہی سمجھ سکتے ہیں کیونکہ یہ ملک بھی ایک شفاف الیکشن کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا تھا اور اس کا بانی بھی ایک سیاستدان تھا ۔مگر اسکے باوجود بالا دست حلقوں نے سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کی کردار کشی کرنے اور انہیں اپنے راستے سے ہٹانے کیلئے غداری اور سیکورٹی تھریٹ جیسے الزامات لگانے بند نہ کیے اور1977 میں صرف چھ سالہ جمہوری حکومت کے بعد پھر اقتدار پر قبضہ کر لیا اور جناب بھٹو جیسے مقبول عوامی رہنما کو سولی پر لٹکا دیا جبکہ ان کی جگہ اپنی مرضی کی کٹھ پتلیوں کو اقتدار پر مسلط کرنے کیلئے حقیقی جمہوری جماعتوں کو کچلنے کا سلسلہ پھر سے شروع کر دیا ۔ پہلے مسلم لیگ کو کئی دھڑوں میں تقسیم کیا اور پھر پیپلز پارٹی کو کمزور کرنے کی کوششیں کیں۔ اسی طرح ملک کے مقبول رہنماؤں کو جن میں لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو نمایاں ہیں جسمانی طورپر ختم کر دیا گیا۔ اس سے قومی وحدت مزید کمزور ہوئی کیونکہ ملک گیر سیاسی لیڈر اور جماعتیں کسی بھی قوم کی وحدت کی نشانی ہوتی ہے جنہیں کمزور کرنے کا مطلب قومی وحدت کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔ اگر ایک پارٹی پورے ملک میں اپنا موثر وجود رکھتی ہو تو عوام کو آپس میں قریب لانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ مشرقی پاکستان میں مسلم لیگ کے خاتمے کے بعد کوئی ایسی جماعت باقی نہیں تھی جو ملک کے دونوں حصوںمیں مقبول ہوتی۔
عوامی لیگ کا مغربی پاکستان اور پیپلز پارٹی کا مشرقی پاکستان میں کوئی وجود نہ تھا۔پاکستان کی تاریخ میںایک طرف مقتدرہ اپنےبت تراشتی رہی اور دوسری طرف وہی بت مقتدرہ کے خلاف مزاحمت کی علامت بنتے رہے۔ اس پورے عمل کے دوران ملک کے ساتھ ساتھ ریاست بھی کمزور ہو ئی اور اسکی کمزوری بذات خود ملک کے استحکام اور سالمیت کیلئے ایک خطرہ بنی۔اب پورا پاکستان بند گلی میں پھنسادکھائی دیتاہےجس سے باہر نکلنے کا راستہ بھی سجھائی نہیں دے رہا ۔اس وقت پاکستان کی تمام سرحدیں غیر محفوظ دکھائی دیتی ہیں جنہیں صرف سیاسی ڈائیلاگ اور ریاستی امور میں عوامی شرکت کے ذریعے ہی محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ابھی وقت ہے کہ پاکستان کو ایک نارمل ریاست بنایا جائے۔ جس میں ہر ادارے کواس کے آئینی کردار تک محدود رکھنے کا پابند کیا جائے اور امورِ سلطنت میں عوامی نمائندگی کو حقیقی اور حتمی بنایا جائے ۔آج کا شعر
اصلی حاکم لوگ نہ بن پائے تو پھر یہ ملک گیا
وقت کی پیشانی پر موٹے حرفوں سے یہ لکھا ہے