مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی ہمیشہ سےپاکستان کیلئے ایک تشویشناک صورتحال رہی ہے۔ جغرافیائی قربت اور ایران کے ساتھ طویل سرحد کے پیشِ نظر، کسی بھی قسم کا فوجی تصادم پاکستان کی پہلے سے دباؤ کا شکار معیشت کیلئے گہرے اور دور رس منفی اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔اس صورتحال کے پاکستان کی معیشت پر ممکنہ اثرات کا ایک مختصر تجزیہ درج ذیل ہے۔
توانائی کے بحران اور درآمدی بل میں اضافہ ایران کے ساتھ براہ راست سرحد ہونے کے باوجود، پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کیلئے تیل اور گیس کی عالمی منڈی پر انحصار کرتا ہے۔
تیل کی قیمتیں:امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی تناؤ کی صورت میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ پاکستان کیلئے تیل کا درآمدی بل ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈالے گا، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔
توانائی کی سپلائی میں تعطل : خطے میں جنگی صورتحال سے سپلائی چین متاثر ہوتی ہے، جس سے توانائی کی قلت کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
برآمدات اور تجارتی سرگرمیوں پر اثرات پاکستان کی بڑی برآمدی منڈیاں امریکہ اور یورپی ممالک میں ہیں۔
کارگو اور انشورنس کی لاگت: بحری راستوں (خاص طور پر آبنائے ہرمز) پر کشیدگی بڑھنے سے جہاز رانی کی انشورنس اور مال برداری کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ اس سے پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈی میں مسابقت کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔
تجارت میں غیر یقینی: تنازعات کے دوران بین الاقوامی پابندیوں کا دائرہ کار وسیع ہو سکتا ہے، جس سے پاکستان کیلئے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کو برقرار رکھنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
ترسیلاتِ زر (Remittances) میں کمی کا خدشہ پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا ستون مشرقِ وسطیٰ میں مقیم پاکستانی ورکرز کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم ہیں۔
معاشی عدم استحکام:
جنگی حالات کی صورت میں خلیجی ممالک میں معاشی سرگرمیاں سست پڑ سکتی ہیں یا وہاں مقیم تارکین وطن کی سکیورٹی کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ اگر وہاں کی معیشت متاثر ہوئی تو براہِ راست پاکستان کی ترسیلاتِ زر میں کمی واقع ہوگی، جو ملکی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کیلئے ایک بڑا جھٹکا ہوگا۔
سرمایہ کاری پر منفی اثرات:
پاکستان کو اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئےغیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (FDI) کی ضرورت ہے۔
سرمایہ کاروں کا انخلا: خطے میں جنگی ماحول سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بری طرح مجروح کرتا ہے۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر عالمی سرمایہ کارپاکستان جیسے خطوں میں سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں اور سرمائے کا انخلا (Capital Flight) شروع ہو جاتا ہے۔
سیکورٹی اخراجات میں اضافہ اگرچہ یہ براہِ راست معاشی اقدام نہیں، لیکن ملک کے دفاعی تقاضوں کیلئے بجٹ کا بڑا حصہ درکار ہوتا ہے۔
بجٹ پر دباؤ : سرحدوں پر کشیدگی کے باعث سکیورٹی انتظامات کو سخت کرنا پڑتا ہے، جس سے حکومتی اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ اخراجات ترقیاتی بجٹ اور سماجی شعبوں (تعلیم، صحت) کے فنڈز کو متاثر کرتے ہیں۔
خلاصہ
پاکستان کیلئے امریکہ اور ایران کا تصادم کسی بھی طرح سود مند نہیں ہو سکتا۔پاکستان کی کمزور معیشت اس خطے میں کسی بھی قسم کے بڑے تناؤ کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔ ایک کالم نگار کے طور پر میری رائے یہ ہے کہ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں سفارتی توازن برقرار رکھتے ہوئے پرامن حل کی وکالت کرنی چاہیے، کیونکہ پاکستان کا مفاد خطے میںصرف اور صرف استحکام اور امن سے ہی جڑا ہے۔