یوکرین نے کریمیا اور روسی جنگی سپلائی نظام کے خلاف ڈرون حملوں کی مہم تیز کر دی ہے جس کے نتیجے میں جزیرہ نما کریمیا کا رابطہ روس سے ’منقطع‘ ہو گیا اور وہاں ایندھن اور بجلی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔
یوکرینی حکام کے مطابق یہ کارروائی 6 جولائی کو شروع کی گئی تھی جس کا مقصد روسی تیل کی ترسیل کرنے والے جہازوں اور جنگی رسد کے راستوں کو نشانہ بنانا تھا۔
یوکرین کے ڈرون یونٹ کے کمانڈر رابرٹ بروودی نے دعویٰ کیا ہے کہ 10 دنوں کے دوران روسی تیل بردار بیڑے کے 147 جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ بحیرۂ آزوف اور آبنائے کرچ کے راستے کریمیا پہنچنے والی ایندھن کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے جس کے باعث روسی قبضے والے علاقے میں پیٹرول کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔
کریمیا کے روسی مقرر کردہ سربراہ سرگئی اکسیونوف نے اعتراف کیا ہے کہ علاقے میں ایندھن کی فراہمی معمول کے مطابق نہیں رہی اور پیٹرول پمپس پر روزانہ فروخت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، بحران کچھ عرصے جاری رہ سکتا ہے۔
یوکرین نے کریمیا کے بجلی کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے، 9 جولائی کو ساکی بجلی گھر جبکہ 10 اور 13 جولائی کو متعدد بجلی تنصیبات پر حملے کیے گئے۔
بحران سے نمٹنے کے لیے روسی حکام نے سڑکوں کی لائٹس بند کرنا شروع کر دیں، متاثرہ علاقوں میں جنریٹر تقسیم کیے جا رہے ہیں اور گھریلو صارفین کو گیس سلنڈر فراہم کیے جا رہے ہیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یوکرین کی مہم صرف کریمیا تک محدود نہیں رہی۔
یوکرینی فوج کے مطابق روس کے اندر دور تک ڈرون حملوں کے ذریعے تیل صاف کرنے والے کارخانوں اور توانائی کے مراکز کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب روسی حکام نے بھی تسلیم کیا ہے کہ تیل صاف کرنے والے کارخانوں پر حملوں کے باعث ایندھن کی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔
روسی اعداد و شمار کے مطابق جون میں پیٹرول کی قیمتوں میں 6.9 فیصد اضافہ ہوا۔
دوسری جانب یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ محاذ پر روسی پیش قدمی کی رفتار کم ہوئی ہے اور ڈرون پیداوار میں یوکرین کو برتری حاصل ہو رہی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ایک یوکرینی کمانڈر کا دعویٰ ہے کہ اس وقت یوکرین اور روس کے درمیان جنگی کارروائیوں کی رفتار تقریباً برابر ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ جنگ کا فیصلہ کُن مرحلہ ابھی دور ہے۔