• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران: بوشہر نیو کلیئر پاور پلانٹ پر امریکی حملے میں ہونے والے نقصان کی سیٹلائٹ تصاویر سامنے آ گئیں

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

الجزیرہ کی ایک خصوصی رپورٹ میں سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر امریکی حملے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی تفصیلات شیئر کی گئی ہیں۔

الجزیرہ کی جانب سے شیئر کی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں ایران کے بوشہر جوہری پلانٹ کے احاطے میں 7 جولائی سے 12 جولائی کے درمیان نئے حملوں کے نشانات دیکھے جا سکتے ہیں۔

تصاویر میں کمپلیکس کے اندر زمین پر بننے والے گڑھوں اور قریبی معاون تنصیبات میں ایک اور حملے کی جگہ دکھائی گئی ہے۔

---فوٹو بشکریہ عرب میڈیا
---فوٹو بشکریہ عرب میڈیا 

الجزیرہ کے مطابق ان سیٹلائٹ تصاویر کا نقشہ ایران میں ہونے والے حالیہ حملوں کے نتیجے میں سامنے آنے والی زمینی ویڈیوز اور امریکی مرکزی کمان کی معلومات کا جائزہ لے کر تیار کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ بوشہر کے نائب گورنر احسان جہانیان کا کہنا ہے کہ 9 جولائی کو صوبے کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن میں بوشہر جوہری بجلی گھر کے اطراف، چوغادک کا ایک فوجی مرکز اور جنوبی ساحلی ماہی گیری بندرگاہ شامل تھی تاہم بعد میں انہوں نے بتایا کہ جوہری بجلی گھر کا ری ایکٹر متاثر نہیں ہوا اور معمول کے مطابق کام کرتا رہا۔

امریکی مرکزی کمان کے مطابق 7 اور 8 جولائی کو ایران میں تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن میں فضائی دفاعی نظام، میزائل و ڈرون ذخائر، بحری اثاثے اور فوجی تنصیبات شامل تھیں۔

---فوٹو بشکریہ عرب میڈیا
---فوٹو بشکریہ عرب میڈیا 

امریکی حکام نے بوشہر یا کسی جوہری مرکز کا نام ہدف کے طور پر ظاہر نہیں کیا۔

واضح رہے کہ بوشہر ایران کا واحد فعال جوہری بجلی گھر ہے، اس میں ایک فعال اور ایک نامکمل ری ایکٹر موجود ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرکز میں جوہری ایندھن اور تابکار مواد موجود ہونے کے باعث اس کے کولنگ نظام، بجلی کی فراہمی یا حفاظتی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی صورت میں سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ریکارڈ کے مطابق 2026ء میں مارچ اور اپریل کے دوران بھی بوشہر پلانٹ کے قریب متعدد حملوں اور گولہ باری کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے تاہم ایران نے ہر بار ری ایکٹر کو محفوظ اور فعال قرار دیا۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ جوہری تنصیبات کو کبھی بھی مسلح حملوں کا ہدف نہیں بنانا چاہیے کیونکہ اس کے سنگین انسانی، ماحولیاتی اور علاقائی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید