امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو خبردار کیا ہے کہ اس کے جنگل میں لگنے والی آگ کے دھوئیں سے امریکی شہروں کی فضائی آلودگی بڑھنے کی قیمت کینیڈا پر عائد ٹیرف میں شامل کی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کینیڈا اپنی جنگلاتی زمین اور جھاڑیوں کی مناسب دیکھ بھال میں ناکام رہا ہے جس کے باعث آلودہ اور غیر صحت بخش دھواں امریکا تک پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اس مسئلے پر کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی سے بات کروں گا اور اس کے معاشی اثرات کو موجودہ محصولات میں شامل کیا جائے گا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کینیڈا میں اس وقت 896 مقامات پر جنگل میں لگنے والی آگ فعال ہے جن میں سے تقریباً 200 صوبہ اونٹاریو میں ہیں۔
اونٹاریو کے وزیرِ اعلیٰ ڈگ فورڈ کے مطابق 81 جنگلی مقامات پر آگ تاحال قابو سے باہر ہے جبکہ 10 مقامی آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق شمالی امریکا میں جنگلات میں آگ بھڑکنے میں اضافے کی بڑی وجوہات شدید گرمی، خشک موسم اور موسمیاتی تبدیلیاں ہیں، تاہم ٹرمپ ماضی میں بھی مختلف آتش زدگیوں کا ذمے دار مقامی حکام اور جنگلاتی انتظامیہ کو ٹھہراتے رہے ہیں۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے خود جنگلاتی آگ اور اس کے دھوئیں پر تحقیق کے لیے مختص فنڈز میں کمی کی ہے جس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جنگلاتی دھوئیں کے باعث امریکا کے بعض علاقوں میں فضائی معیار شدید متاثر ہوا ہے۔
رواں ہفتے نیو جرسی میں ہونے والے فٹبال کے عالمی کپ کے فائنل کے انتظامات پر بھی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔