مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے وادیٔ اردن میں اسرائیل کی جانب سے تعمیر کی جانے والی نئی فوجی رکاوٹ ’سُرخ دھاگا‘ (Crimson Thread) کے باعث فلسطینی آبادیوں کی نقل و حرکت، زرعی سرگرمیاں اور بنیادی سہولتیں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سُرخ دھاگا منصوبے کے پہلے مرحلے میں تقریباً 22 کلو میٹر طویل خندق اور فوجی سڑک تعمیر کی جا رہی ہے جو فلسطینی دیہات اور زرعی زمینوں کو ایک دوسرے سے الگ کر رہی ہے۔
اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اسلحہ اسمگلنگ روکنا ہے تاہم مقامی فلسطینیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس سے ہزاروں ایکڑ زرعی زمین فلسطینیوں کی دسترس سے باہر ہو جائے گی۔
عرب میڈیا کے مطابق ویسٹ بینک کے مقامی رہائشی طائر بشارات کا کہنا ہے کہ پہلے میرے گھر تک پہنچنے میں 10 منٹ لگتے تھے لیکن راستوں کی بندش کے بعد اب یہی سفر کئی گھنٹوں میں طے ہوتا ہے، علاقے میں پانی کی فراہمی معطل ہے، کنویں، آبپاشی کے نظام اور زرعی ڈھانچے مسمار کیے جا رہے ہیں جبکہ کسان اپنی زمینوں تک رسائی سے محروم ہو رہے ہیں۔
اسرائیلی ماہرِ انسانی حقوق تنظیم درور اتکس کے مطابق یہ منصوبہ فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے دور کرنے اور غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے پھیلاؤ میں مدد دے رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں زمینوں کی ضبطی، فوجی کارروائیوں اور آبادکاروں کے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں متعدد فلسطینی خاندان اپنے آبائی علاقے چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ صرف رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں 49 فوجی اراضی ضبطی احکامات جاری کیے گئے جو گزشتہ سال کے مجموعی اعداد و شمار سے بھی زیادہ ہیں۔
ویسٹ بینک کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگر منصوبہ مکمل ہو گیا تو مقامی آبادی اسکولوں، اسپتالوں اور دیگر بنیادی سہولتوں تک رسائی سے محروم ہو جائے گی اور کئی دیہات عملاً محصور ہو کر رہ جائیں گے۔
عرب میڈیا کے مطابق مقامی کسانوں نے بتایا ہے کہ زرعی پیداوار میں 90 فیصد تک کمی آ چکی ہے، مویشیوں کی تعداد گھٹ رہی ہے اور معاشی حالات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے انخلاء کے بعد یہی زمینیں اسرائیلی آبادکاروں کے استعمال میں آ جاتی ہیں۔