بھارت کے معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کو بھوک ہڑتال کے 21 ویں روز دہلی پولیس نے صحت خراب ہونے پر زبردستی اسپتال منتقل کر دیا۔
دہلی پولیس کے مطابق عدالت کے احکامات اور ڈاکٹروں کے مشورے پر سونم وانگچک کو طبی علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ 20 روزہ بھوک ہرتال کے بعد 59 سالہ سونم وانگچک کی صحت تشویش ناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور ان کا وزن 9 کلو گرام کم ہو گیا ہے، معالجین نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل صرف پانی پر انحصار جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ سونم وانگچک میڈیکل داخلہ امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں پر وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور امتحانی نظام میں اصلاحات کے مطالبے کی حمایت میں بھوک ہڑتال کر رہے تھے۔
احتجاج میں طلبہ کی بڑی تعداد بھی شریک ہے جبکہ 20 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
اپنے حامیوں سے خطاب میں سونم وانگچک نے 20 جولائی کو ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے زیرِ انتظام پارلیمان کی جانب مجوزہ پُرامن مارچ میں بڑی تعداد میں شرکت کرنے کی اپیل کی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ عوام اپنی آواز جمہوریت کے ایوان تک پہنچائیں۔