بھارت کے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی آنگمو نے اعلان کیا ہے کہ اگر وانگچک پارلیمنٹ مارچ میں شریک نہیں ہو سکے تو وہ خود ان کی نمائندگی کرتے ہوئے مارچ کی قیادت کریں گی۔
سونم وانگچک کو 21 روزہ بھوک ہڑتال کے دوران طبیعت بگڑنے پر جنتر منتر سے صفدر جنگ اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد گیتانجلی آنگمو حکومت کے خلاف احتجاجی مہم میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ وانگچک کو احتجاجی مقام سے زبردستی ہٹایا گیا، جبکہ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات اور ڈاکٹروں کے مشورے پر کیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق گیتانجلی آنگمو ایک سوشل انٹرپرینیور اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ وہ لداخ میں قائم ہمالین انسٹیٹیوٹ آف آلٹرنیٹوز کی شریک بانی ہیں، جسے انہوں نے 2017 میں سونم وانگچک کے ساتھ مل کر قائم کیا۔
یہ ادارہ لداخ کے سخت موسمی حالات سے نمٹنے کے لیے پائیدار ٹیکنالوجی، شمسی توانائی سے گرم عمارتوں اور دیگر اختراعی منصوبوں پر کام کرتا ہے۔
اوڈیشہ کے ضلع بالاسور میں ایک پنجابی خاندان میں پیدا ہونے والی گیتانجلی نے فقیر موہن یونیورسٹی سے طبیعیات میں گریجویشن اور بھونیشور کے زیویئر انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سے ایم بی اے کیا۔ اس کے بعد انہوں نے تقریباً 15 برس، زیادہ تر ڈنمارک میں کارپوریٹ شعبے میں خدمات انجام دیں۔
بھارت واپسی پر انہوں نے کاروبار کا آغاز کیا، پُشَن اور شنگھائی پاور پروجیکٹس لمیٹڈ کی بنیاد رکھی اور ہیلیوس بکس کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ بھی قائم کیا۔
گیتانجلی آنگمو آکسفورڈ یونیورسٹی کی چیوننگ اسکالر رہ چکی ہیں، کراٹے میں بلیک بیلٹ رکھتی ہیں اور اوڈیسی و روسی بیلے کی تربیت یافتہ رقاصہ بھی ہیں۔ انہیں بھارتی حکومت کی جانب سے ویمن ٹرانسفارمنگ انڈیا ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں جب گیتانجلی آنگمو اپنے شوہر کی حمایت میں سرگرم ہوئی ہوں۔ گزشتہ برس لداخ میں احتجاج کے بعد نیشنل سیکیورٹی ایکٹ کے تحت سونم وانگچک کی گرفتاری کے دوران بھی انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، وانگچک تقریباً 170 روز حراست میں رہنے کے بعد رہا ہوئے تھے۔
سونم وانگچک 20 جولائی کو پارلیمنٹ کے اجلاس کے روز کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے نکالے جانے والے مارچ میں شریک ہونے والے تھے، تاہم اسپتال میں داخل ہونے کے باعث ان کی شرکت غیر یقینی ہو گئی ہے۔
گیتانجلی آنگمو نے اعلان کیا ہے کہ اگر وانگچک مارچ میں شریک نہ ہو سکے تو وہ خود ان کی نمائندگی کرتے ہوئے احتجاجی مارچ کی قیادت کریں گی۔
انہوں نے اسپتال انتظامیہ پر شفافیت نہ برتنے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ انہیں اپنے شوہر کی طبی حالت کے بارے میں آزادانہ رائے لینے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔