• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک کی حالت تشویشناک، بھوک ہڑتال 18ویں روز میں داخل

سونم وانگچک : فوٹو رائٹرز
سونم وانگچک : فوٹو رائٹرز 

بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال 18ویں روز میں داخل ہو گئی ہے، ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ وزن 8 کلو گرام سے زیادہ کم ہو چکا ہے، جبکہ دہلی ہائی کورٹ میں انہیں طبی امداد فراہم کرنے کے لیے درخواست بھی دائر کر دی گئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سونم وانگچک 28 جون سے نئی دہلی میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔ وہ بھارت میں امتحانی بے ضابطگیوں، خصوصاً نیٹ امتحان کے پرچے لیک ہونے کے معاملے پر احتجاج کر رہے ہیں اور مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بھوک ہڑتال شروع ہونے کے بعد وانگچک کا 8 کلوگرام سے زائد وزن کم ہو چکا ہے اور وہ مسلسل طبی ماہرین کی نگرانی میں ہیں۔

دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ 16 جولائی کو سونم وانگچک اور ملک بھر کے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک روزہ اجتماعی بھوک ہڑتال کرے گی۔

پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے کا کہنا ہے کہ وانگچک کے جسمانی پٹھے تیزی سے کمزور ہو رہے ہیں اور وہ شدید تکلیف میں ہیں۔

متعدد اپوزیشن رہنماؤں نے سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ اتر پردیش کے سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے کہا کہ وانگچک کی زندگی پوری دنیا کے لیے قیمتی ہے کیونکہ وہ انسانیت، ماحولیات اور جمہوری اقدار کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

دہلی ہائی کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی ہے جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سونم وانگچک کو سرکاری اسپتال منتقل کر کے ضرورت پڑنے پر طبی نگرانی میں مائع غذا فراہم کی جائے تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے۔

درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ اگر بھوک ہڑتال جاری رہی تو ان کی جان کو سنگین خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید