• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آزاد جموں و کشمیر کی سیاست ہمیشہ جذبات، تاریخ اور عوامی امنگوں کے امتزاج سے تشکیل پاتی رہی ہے۔ یہاں ہونے والی ہر سیاسی سرگرمی نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے پاکستان کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لیتی ہے، کیونکہ کشمیر کا معاملہ پاکستان کی قومی شناخت، خارجہ پالیسی اور عوامی احساسات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا حالیہ دورۂ آزاد کشمیر محض ایک سیاسی مہم نہیں بلکہ ایک ایسا موقع بن کر سامنے آیا ہے جس نے ایک بار پھر کشمیر کے مستقبل، عوامی حقوق اور سیاسی قیادت کے کردار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔آزاد کشمیر کے عوام گزشتہ چند برسوں سے انہی مسائل کا شکار ہیں جو اس پورے خطے کے ہیں بشمول مہنگائی، روزگار کے محدود مواقع، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور بہتر طرزِ حکمرانی جیسے معاملات وغیرہ۔ انہی حالات میں مختلف عوامی تحریکیں سامنے آئیں جنہوں نے اپنے مطالبات کو منظم انداز میں پیش کیا۔ ان تحریکوں نے یہ پیغام دیا کہ کشمیری عوام صرف سیاسی نعروں سے مطمئن نہیں بلکہ وہ عملی اقدامات، شفاف نظام اور عوامی فلاح پر مبنی حکمرانی چاہتے ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ اسی وقت عالمی مسئلہ بن سکتا ہے جب مقبوضہ کشمیر کےعوام یہ فیصلہ کرلیں کہ انھوں نے بھارتی تسلط سے آزادی لینی ہے۔ مگر جو کچھ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کہتی آئی ہے اس سے لگتا یہی کہ یہ تحریک بھارتی مقبوضہ کشمیر کے عوام کا جذبہ مدہم کرنے کی ایک اہم کڑی ہے۔ مگر خدا نہ کرے ایسا ہو اور خدا کرے میری سوچ غلط ہو کیوں کہ بلاول بھٹو زرداری اس وقت کشمیر میں جس والہانہ استقبال کا سامنا کررہے ہیں لگتا ایسا ہےکہ آنے والے دنوں میں کشمیر کی وادی سے ایک ہی نعرہ سنائی دے گا پاکستان زندہ باد جموں کشمیر پائندہ باد۔

ایسے حالات میں جب کوئی قومی سطح کا سیاسی رہنما عوام کے درمیان جاتا ہے تو اس کی ذمہ داری صرف جلسہ کرنا نہیں بلکہ لوگوں کے احساسات کو سمجھنا بھی ہوتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے حالیہ دورے میں عوامی نمائندوں، مختلف طبقات اور سیاسی کارکنوں سے ملاقاتوں کے دوران یہی تاثر دینے کی کوشش کی کہ مسائل کا پائیدار حل تصادم نہیں بلکہ مکالمے، آئینی عمل اور جمہوری روایات میں پوشیدہ ہے۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، لیکن اختلاف اگر محاذ آرائی میں تبدیل ہو جائے تو نقصان سب سے پہلے عام شہری کو اٹھانا پڑتا ہے۔

آزاد کشمیر میں سرگرم مختلف عوامی حلقوں اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے بھی حالیہ عرصے میں جن مطالبات کا نعرہ لگایا گیا ان میں جان ضرور ہے مگر یہ بھارت کی ہمیشہ خواہش رہی کہ کشمیری مہاجرین کو پاکستان میں سوالیہ نشان بنا دیا جائے۔ لیکن کشمیر میں احتجاجی سیاست اور سیاسی رہنماؤں کی سرگرمیوں نے یہ ثابت کیا کہ عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے منظم آواز بلند کرنا چاہتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کی رائے میں جب عوامی تحریکیں اور سیاسی قیادت ایک دوسرے کی بات سننے پر آمادہ ہوں تو تصادم کے امکانات کم اور اصلاحات کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔ یہی کسی بھی جمہوری معاشرے کی اصل طاقت ہوتی ہے۔آج آزاد کشمیر کے نوجوان پہلے سے کہیں زیادہ باشعور ہیں۔

وہ سوشل میڈیا، تعلیم اور جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے ملکی اور عالمی سیاست سے واقف ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے نمائندے صرف وعدے نہ کریں بلکہ روزگار، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، سیاحت، ماحولیات اور سرمایہ کاری جیسے موضوعات پر بھی واضح منصوبہ پیش کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اب سیاسی قیادت کی کامیابی کا معیار صرف جلسوں کا ہجوم نہیں بلکہ عوامی مسائل کے حل کی صلاحیت بنتا جا رہا ہے۔کشمیر کا مستقبل صرف انتخابات سے وابستہ نہیں بلکہ مضبوط اداروں، قانون کی بالادستی، شفاف حکمرانی اور عوامی اعتماد سے جڑا ہوا ہے۔ اگر عوام کو انصاف ملے، نوجوانوں کو مواقع میسر آئیں، مقامی حکومتیں مضبوط ہوں اور فیصلہ سازی میں عوام کی حقیقی شمولیت ہو تو خطے میں سیاسی استحکام خود بخود پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے تمام سیاسی قوتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اختلافات کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیں اور عوامی مفاد کو ذاتی یا جماعتی مفاد پر ترجیح دیں۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی ستون ہے۔ ایسے میں آزاد کشمیر کے اندر سیاسی استحکام اور عوامی اتحاد نہ صرف مقامی آبادی کے لیے بلکہ پاکستان کے قومی مؤقف کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ جب داخلی سطح پر جمہوری عمل مضبوط ہوتا ہے تو عالمی سطح پر بھی ایک مثبت پیغام جاتا ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی آواز اور جمہوری حقوق کا احترام کرتا ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیر کی سیاست کو الزام تراشی کے بجائے عوامی خدمت کا میدان بنایا جائے۔ سیاسی جماعتیں اگر تعلیم، صحت، سیاحت، ماحولیات، نوجوانوں کی ترقی، خواتین کی شمولیت اور معاشی خودکفالت جیسے موضوعات پر مثبت مقابلہ کریں تو اس کا سب سے بڑا فائدہ عام کشمیری شہری کو ہوگا۔ جمہوریت کی اصل کامیابی بھی یہی ہے کہ عوام کی زندگی میں حقیقی بہتری آئے۔بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ دورے نے ایک بار پھر یہ بحث ضرور چھیڑ دی ہے کہ کشمیر کے مسائل کا حل صرف بیانات میں نہیں بلکہ مستقل سیاسی رابطے، عوامی اعتماد اور جمہوری عمل کے تسلسل میں پوشیدہ ہے۔ آنے والے دنوں میں عوام جس بھی قیادت کو منتخب کریں، اس کی اصل آزمائش انتخابی کامیابی نہیں بلکہ عوامی توقعات پر پورا اترنا ہوگی۔ کشمیر کی سرزمین ہمیشہ قربانی، وقار اور امید کی علامت رہی ہے، اور اس امید کو زندہ رکھنے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو برداشت، تدبر اور عوامی خدمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ یہی راستہ ایک مضبوط، پرامن اور ترقی یافتہ آزاد کشمیر کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

تازہ ترین