• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک زمانہ تھا جب کسی ملک کی طاقت کا اندازہ اُس کی فوج، معیشت اور قدرتی وسائل سے لگایا جاتا تھا مگر آج کے دور میں کسی ملک کی طاقت اُس ملک کے پاسپورٹ سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ اُس ملک کی سفارتکاری کتنی موثر ہے، دنیا اُس پر کتنا اعتماد کرتی ہے اور اُس کے شہریوں کو عالمی سطح پر کتنی آزادیِ سفر حاصل ہے۔ آج دنیا میں کسی بھی ملک کے پاسپورٹ کی اہمیت صرف ایک سفری دستاویز تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ اُس ملک کی بین الاقوامی ساکھ، سفارتی تعلقات، معاشی استحکام، داخلی سلامتی اور عالمی اعتماد کا آئینہ دار بھی ہوتا ہے۔ آج کے دور میں کسی ملک کے پاسپورٹ کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اُس ملک کے شہری کتنے ممالک میں بغیر ویزا یا ویزاآن آرائیول سفر کرسکتے ہیں اور اِسی بنیاد پر ہر سال ہینلے اینڈ پارٹنرز پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ جاری کرتی ہے۔ گزشتہ دنوں ہینلے اینڈ پارٹنرز نے دنیا بھر کے پاسپورٹ کی نئی درجہ بندی جاری کی جسکے مطابق پاسپورٹ انڈیکس میں سنگاپور کے پاسپورٹ کو ایک بار پھر دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ قرار دیا گیا جبکہ پاکستان کا پاسپورٹ 100 ویں نمبر پر رہا۔

رینکنگ کے مطابق سنگاپور پاسپورٹ کے حامل افراد دنیا کے 192 ممالک میں ویزا فری یا آن ارائیول ویزا سہولت کے ساتھ سفر کرسکتے ہیں۔ انڈیکس میں متحدہ عرب امارات، جاپان اور جنوبی کوریا مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر رہے جن کے شہریوں کو 188ممالک میں ویزا فری رسائی حاصل ہے جبکہ سوئیڈن 187 ممالک تک ویزا فری رسائی کے ساتھ تیسرے، بلجیم، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی، لکسمبرگ، نیدرلینڈز، ناروے اور اسپین مشترکہ طور پر چوتھے، یونان، آسٹریا، مالٹا، پرتگال اور سوئٹزرلینڈ پانچویں جبکہ امریکی پاسپورٹ اس بار دسویں نمبر پر رہا حالانکہ ماضی میں امریکی پاسپورٹ کو دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس میں شمار کیا جاتا تھا۔ دوسری طرف پاکستان کے پاسپورٹ کو ایک بار پھر کمزور ترین پاسپورٹ قرار دیا گیا اور حالیہ رینکنگ میں گرین پاسپورٹ 100 ویں نمبر پر رہا جسکے شہریوں کو 30 ممالک میں ویزا فری یا آن آرائیول ویزا کی سہولت حاصل ہے۔ پاکستان سے نیچے صرف عراق101، شام 102اور افغانستان103 ویں نمبر پر ہے جبکہ یمن، صومالیہ، نیپال، شمالی کوریا، بنگلا دیش، فلسطین، ایران، اریٹیریا، سری لنکا اور لیبیا بھی نچلے درجے میں شامل ہیں۔ ’’معرکہ حق‘‘ میں بھارت کے خلاف پاکستان کی شاندار فتح اور سوئٹزرلینڈ میں حالیہ امریکہ ایران مفاہمی معاہدے میں ثالث کا کردار ادا کرنے کے باعث یہ توقع کی جارہی تھی کہ اس کے اثرات گرین پاسپورٹ پر بھی پڑیں گے مگر ہینلے اینڈ پارٹنرز کے حالیہ پاسپورٹ انڈیکس نے پاکستانیوں کی اِس خوش فہمی کو مایوسی میں بدل دیا۔ پاکستان کی پاسپورٹ رینکنگ میں گراوٹ کی کئی وجوہات ہیں جن میں سب سے اہم وجہ پاکستان کی معاشی مشکلات ہیں۔ جب کسی ملک کی معیشت کمزور ہوتی ہے تو دنیا کے دیگر ممالک اُس ملک کے شہریوں کی مستقل ہجرت، غیر قانونی قیام یا ملازمت کی کوششوں کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ویزا پالیسی سخت کردیتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان نے گزشتہ چند برسوں میں دہشت گردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور امن و امان کی صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے تاہم عالمی سطح پر بعض پرانے تاثرات اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکے ۔ گرین پاسپورٹ کی تنزلی کی ایک اہم وجہ غیر قانونی امیگریشن اور انسانی اسمگلنگ بھی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں یورپ، مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں پاکستانی شہریوں کی غیر قانونی نقل مکانی کے باعث کئی ممالک نے پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا شرائط مزید سخت کردی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف موثر کارروائی کرکے اس تاثر کو ختم کیا جائے۔ ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات بھی پاسپورٹ کی طاقت میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ جن ممالک کے دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ گہرے تعلقات ہوتے ہیں وہاں باہمی ویزا سہولتوں کے معاہدے باآسانی انجام پاتے ہیں۔ گرین پاسپورٹ کی مسلسل تنزلی یقیناً تشویشناک امر ہے لیکن اگر پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو زیادہ فعال بنائے، اقتصادی اصلاحات پر توجہ دے، سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول پیدا کرے، سیاحت کو فروغ دے، بین الاقوامی معاہدوں میں موثر اور فعال کردار ادا کرنے کیساتھ ساتھ دنیا کے مختلف ممالک کیساتھ ویزا سہولتوں کے معاہدے کرے تو آنیوالے برسوں میں پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ میں نمایاں بہتری آسکتی ہے۔ حکومت جب داخلی اصلاحات، معاشی ترقی، موثر سفارتکاری اور عالمی اعتماد کی بحالی کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے گی تو وہ دن دور نہیں جب گرین پاسپورٹ کو بھی دنیا کے باوقار اور مضبوط پاسپورٹس میں شمار کیا جائے گا اور پاکستان کے شہری زیادہ عزت، سہولت اور اعتماد کیساتھ دنیا بھر کا سفر کرسکیں گے۔

تازہ ترین