کتابِ عُمر کا اِک اور باب ختم ہُوا، شکر ہے فیفا کا ورلڈ کپ ختم ہُوا۔ شکر میں نے اِسلئے ادا کیا کہ ورلڈ کپ کے میچز دیکھ کر ایک عجیب سا احساس محرومی پیدا ہو گیا تھا، میں سوچتا تھا کہ یہ کون سی دنیا ہے، کون سا سیارہ ہے، جہاں چوالیس دنوں میں ایک سو چار میچ ہوئے، اڑتالیس ٹیمیں کھیلیں، تین ملکوں کے سولہ شہروں میں اسٹیڈیم تماشائیوں سے بھرے رہے، لاکھوں لوگ ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہوتے رہے اور پچاس برس کی شکیرا اپنی پرفارمنس سے ہمارے دلوں کو گرماتی رہی۔ اِس ورلڈ کپ نے پہلے سے راسخ میرے کچھ تصورات مزید پختہ کر دیے۔
میکسیکوسے شروع کرتے ہیں۔ میکسیکو میں غربت بھی ہے اور منشیات کے مافیا بھی۔ مگر اسی میکسیکو نے وہ اعزاز حاصل کر لیا جو آج تک دنیا کے کسی ملک کو نصیب نہیں ہوا، یعنی تیسری مرتبہ فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی۔ وہی میکسیکو سٹی کا تاریخی اسٹیڈیم جہاں کبھی پیلے اور میراڈونا نے جام اٹھائے تھے، اس بار پھر دنیا بھر کے تماشائیوں سے بھرا رہا۔ اسٹیڈیم وقت پر تیار، ٹرانسپورٹ رواں، مہمان آئے اور خوش ہو کر گئے۔ ثابت یہ ہوا کہ مسئلہ دولت کا نہیں، عادت کا ہے۔ میکسیکو کے پاس ہم سے زیادہ کوئی خزانہ نہیں، بس ایک ہنر زیادہ ہے، جو کام کرنا ہو اس کا فیصلہ دس سال پہلے کر لینا اور پھر وہ کام کرکے دکھانا۔ ہمارے ہاں ترتیب الٹ ہے۔ فیصلہ دس سال میں ہوتا ہے اور عمل درآمد اگلے دس سال کیلئے کسی کمیٹی کے سپرد کر دیا جاتا ہے جو اپنی پہلی رپورٹ میں سفارش کرتی ہے کہ ایک ذیلی کمیٹی بنائی جائے۔
دوسرا تصور مصنوعی ذہانت کے بارے میں تھا۔ میں اُن لوگوں میں سے نہیں جو مصنوعی ذہانت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ یہ واقعی جادو ہے۔ جو مشین چند سیکنڈ میں مقالہ لکھ دے، تصویر بنا دے، قانون کا مسودہ تیار کر دے اور بیماری کی تشخیص میں ڈاکٹروں کی مدد کرے، اُس کے سامنے تو کورنش ہی بجا لانی چاہیے۔ خیر، میں ورلڈ کپ سے پہلے مصنوعی ذہانت سے پوچھا گیا کہ ٹورنامنٹ کا زائچہ نکال کر بتاؤ کہ کون سی ٹیمیں کوارٹر فائنل، سیمی فائنل اور فائنل کھیلیں گی۔ اے آئی نے ٹیموں کی فارم اور کھلاڑیوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا اور پورے اعتماد سے فیصلہ سنایا کہ فائنل فرانس اور ہالینڈ کے درمیان ہو گا اور جام فرانس کے ہاتھ آئے گا۔ ہسپانیہ کے بارے میں اے آئی کی رائے کچھ اچھی نہیں تھی، فرمایا کہ جیت تو رہے ہیں مگر ان کی جیت میں وہ دم خم نہیں جو فاتح ٹیموں کا خاصہ ہوتا ہے۔ اب نتیجہ ملاحظہ فرمائیے۔ چیمپئن بنا وہی ’کمزور‘ ہسپانیہ اور ایسا بنا کہ پورے ٹورنامنٹ میں صرف ایک گول کھایا، جو عالمی کپ کی تاریخ میں کسی فاتح کا سب سے شاندار دفاعی ریکارڈ ہے۔ فرانس سیمی فائنل میں اسی ہسپانیہ سے ہار کر چوتھے نمبر پر آیا۔ یعنی مصنوعی ذہانت نے جس ٹیم پر سب سے کم بھروسہ کیا وہی سب سے اونچی چڑھ گئی اور جن دو پر سب سے زیادہ بھروسہ کیا وہ دونوں راستے میں کہیں رہ گئیں۔ تو کیا اے آئی بیوقوف ہے؟ نہیں۔ مشین نے وہ سب کچھ درست بتایا جو بتایا جا سکتا تھا۔ اس نے مضبوط ٹیموں کی نشاندہی ٹھیک کی، فرانس اور ارجنٹائن واقعی آخری چار میں پہنچے۔ اے آئی کی پیش گوئی وہاں غلط ہوئی جہاں معاملہ اعداد سے نکل کر حقیقی انسانوں کے ہاتھوں میں آ جاتا ہے۔ ڈیٹا کو یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ جس کھلاڑی کا یہ آخری ورلڈ کپ ہے وہ اس رات میدان میں کیا کر گزرے گا، کون سا گول کیپر اس شام دیوار بن جائے گا اور کون سا انیس سالہ لڑکا اضافی وقت کے آخری منٹ میں تاریخ لکھ دے گا۔ یہ لمحے کسی اسپریڈ شیٹ میں درج نہیں ہوتے کیونکہ یہ ماضی نہیں ہوتے، اور مشین کا سارا علم ماضی ہے۔ مصنوعی ذہانت انسان کی شاندار معاون ہے مگر انسان کا متبادل نہیں، اور اس کی وجہ کوئی تکنیکی خرابی نہیں بلکہ یہ ہے کہ انسان خود اپنا متبادل نہیں رکھتا۔ جس دن مشین کو یقین سے معلوم ہونے لگا کہ میچ کون جیتے گا، اس دن ہم میچ دیکھنا چھوڑ دیں گے۔
تیسرا تصور وہ ہے جو ہم برسوں سے سینے سے لگائے پھرتے ہیں کہ غربت ٹیلنٹ کو کھا جاتی ہے۔ اس کا جواب اس ورلڈ کپ کے سب سے چمکتے ستارے نے دیا ہے۔ ہسپانیہ کی فاتح ٹیم کا نوجوان کھلاڑی لامین یامال، جس نے ٹورنامنٹ کے دوران ہی اپنی انیسویں سالگرہ منائی، بارسلونا کے قریب ماتارو شہر کے ایک ایسے محلے میں پلا بڑھا جو غریب تارکین وطن کی بستی ہے۔ اس کا باپ مراکش سے روزگار کی تلاش میں ہسپانیہ آیا تھا اور گھر کے حالات ایسے تھے کہ ڈھنگ کے جوتے بھی آسانی سے میسر نہ تھے۔ وہ انہی تنگ گلیوں میں کھیلتا تھا جہاں اس جیسے سینکڑوں بچے کھیلتے ہیں اور گمنامی میں بڑے ہو کر مزدوری کرنے لگتے ہیں۔ مگر آج وہی لڑکا انیس برس کی عمر میں یورپی چیمپئن بھی ہے اور عالمی چیمپئن بھی۔ سوال یہ ہے کہ ایسی غربت کے باوجود اُس کا ٹیلنٹ ضائع کیوں نہیں ہوا؟ اِس لیے کہ ایک نظام کے تحت بارسلونا کی مشہور اکیڈمی نے اسے سات برس کی عمر میں ڈھونڈ نکالا اور جس دن اسے ڈھونڈ لیا اس دن کے بعد اس کی غربت اس کے راستے کی دیوار نہیں بنی۔ سچ یہ ہے کہ ٹیلنٹ کو غربت نہیں مارتی، ٹیلنٹ کو وہ معاشرہ مارتا ہے جس کے پاس اسے ڈھونڈنے اور تراشنے کا کوئی بندوبست نہ ہو۔ ہمارے ہاں بھی ہر گلی میں کوئی نہ کوئی یامال گیند سے کھیل رہا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اسے ڈھونڈنے والی کوئی آنکھ موجود نہیں۔ ہمارا نظام صرف ان بچوں کو جانتا ہے جن کے والدین کو ’نظام‘ جانتا ہو۔ ہم بچپن سے ایک فقرہ سنتے اور فخر سے دہراتے آئے ہیں کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں،مگر یہ دعوٰی سُننے میں خوش کن اور بنیاد میں کھوکھلا ہے۔ قدرت نے صلاحیت بانٹتے وقت کسی قوم سے امتیاز نہیں برتا۔ جتنے فیصد باصلاحیت بچے ہمارے ہاں پیدا ہوتے ہیں اتنے ہی میکسیکو میں ہوتے ہیں، اتنے ہی مراکش میں اور اتنے ہی ماتارو کے اس غریب محلے میں جہاں یامال کھیلتا تھا۔ اگر ٹیلنٹ کسی خاص خطے کی میراث ہوتا تو دنیا کا چیمپئن ہمیشہ ایک ہی ملک ہوتا۔ فرق ٹیلنٹ کا نہیں، بندوبست کا ہے۔ ان کے ہاں سات سال کے بچے کو نظام ڈھونڈ لیتا ہے، ہمارے ہاں سترہ سال کا نوجوان نظام کو ڈھونڈتا پھرتا ہے اور آخر تھک کر کسی اور دھندے میں لگ جاتا ہے۔ ٹیلنٹ کوئی قومی خزانہ نہیں جو زمین کھودنے سے نکل آئے، وہ فصل ہے جسے بونا پڑتا ہے، سینچنا پڑتا ہے اور وقت پر کاٹنا پڑتا ہے۔ ہم فصل بوتے نہیں اور کٹائی کے موسم میں آسمان کی طرف منہ کر کے شکوہ کرتے ہیں کہ ہمارے کھیت تو سونا اگلنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ خود کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا دراصل ایک نشہ ہے اور نشے کا اصل نقصان یہ ہے کہ وہ علاج کی طرف جانے ہی نہیں دیتا۔ اور یہ ہمارا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔