• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں سہراب گوٹھ بس اڈے پر ڈرم سے ملنے والی لاش کا معمہ حل ہوگیا

فائل فوٹو
فائل فوٹو 

کراچی میں گزشتہ ماہ سہراب گوٹھ بس اڈے پر ڈرم سے ملنے والی لاش کا معمہ حل ہو گیا، قتل میں ملوث خاتون سمیت 6 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قتل کا واقعہ شادی کے تنازع پر پیش آیا، مقتول عالم زیب کا آبائی تعلق مانسہرہ سے تھا، اس کے سسرال والے رشتے سے خوش نہیں تھے۔

14 جولائی کو سہراب گوٹھ پر قائم بس اڈے پر رکھے ایک نیلے رنگ کے ڈرم سے لاش ملی تھی جس کی شناخت عالم زیب کے نام سے کی گئی پولیس نے عالم زیب کے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے سوزوکی کے ڈرائیور اور دیگر دو افراد کو گرفتار کرلیا جس کے بعد پولیس اصل قاتلوں تک پہنچ گئی۔

پولیس حکام نے مزید بتایا کہ عالم زیب جس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا اس لڑکی کے گھر والے اس رشتے سے خوش نہیں تھے پولیس نے ایک خاتون سمیت 6 ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے جس میں مرکزی ملزم بھی شامل ہے۔

ملزمان کی گرفتاری پر وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پولیس کو شاباش دی اور کہا کہ کیس حل کرنا پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ثبوت ہے سندھ پولیس جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ عالم زیب کی گردن اور سینے پر چھری کے وار کیے گئے، بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔

مقدمے کے متن کے مطابق عالم زیب کو برادر نسبتی نے رقم لینے کے لیے ناظم آباد بھیجا تھا، وہاں جانے کے بعد سے عالم زیب کا موبائل فون بند مل رہا تھا، پولیس کے ذریعے معلوم ہوا کہ بس اڈے سے لاش ملی ہے، پتا چلا کہ گاڑی میں آئے دو افراد بس اڈے پر ڈرم رکھ کر فرار ہوگئے تھے۔

قومی خبریں سے مزید