جاپان بڑھتی عمر کی آبادی اور افرادی قوت کی شدید کمی پر قابو پانے کے لیے مصنوعی ذہانت کو معیشت اور صنعت کا اہم حصہ بنا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو کے علاقے اوتے ماچی میں زیرِ زمین حرارت اور ٹھنڈک فراہم کرنے والے 30 کلو میٹر طویل نیٹ ورک کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے چلانے کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے جس کا مقصد 2027ء تک زیادہ خودکار نظام قائم کرنا ہے۔
یہ نظام گزشتہ آپریشنل ریکارڈ، سینسرز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا اور تجربہ کار انجینئرز کے علم کی مدد سے مستقبل کی صورتِ حال کا اندازہ لگا کر بہتر فیصلوں کی تجویز دیتا ہے تاکہ ریٹائر ہونے والے ماہرین کا تجربہ محفوظ رکھا جا سکے۔
کمپنی کے حکام کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ تربیت یافتہ عملے کی کمی ہے جبکہ مصنوعی ذہانت تجربہ نئی نسل تک منتقل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
جاپان میں مصنوعی ذہانت کو ملازمین کا متبادل نہیں بلکہ معاون ٹیکنالوجی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو انسانی صلاحیتوں میں اضافہ اور کام کی رفتار بہتر بنانے کے لیے استعمال ہو گی۔
دوسری جانب جاپان عالمی مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں بھی اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے تاہم اس وقت امریکا میں تقریباً 690، چین میں 160 جبکہ جاپان میں صرف 8 ایسی نئی کمپنیاں موجود ہیں جن کی مالیت 1 ارب ڈالرز سے زائد ہے۔
جاپان کی تیزی سے ابھرتی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ساکانا اے آئی کا کہنا ہے کہ ملک کو امریکی ماڈل کی نقل کرنے کے بجائے اپنی ضروریات کے مطابق نئی راہیں اختیار کرنی چاہئیں اور مصنوعی ذہانت کو توانائی، صنعت اور صحت جیسے شعبوں کے عملی مسائل کے حل کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
جاپانی حکومت نے بھی مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور جدید تحقیق کے فروغ کے لیے 2040ء تک سرکاری و نجی شعبے سے مجموعی طور پر 370 کھرب ین کی سرمایہ کاری کا ہدف مقرر کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت جاپان کے تمام معاشی مسائل کا مکمل حل نہیں تاہم یہ افرادی قوت کی کمی، پیداواری صلاحیت بڑھانے، مسابقت برقرار رکھنے اور مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ملک کی اہم ترین حکمتِ عملی بنتی جا رہی ہے۔