• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سائنسدانوں کی حیاتیاتی ہتھیاروں کی تحقیق کیلئے اے آئی ماڈلز استعمال کرنے کی کوشش: این تھروپک کا انکشاف

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

مصنوعی ذہانت پر تحقیقی کمپنی این تھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ سائنسدانوں نے ممکنہ طور پر حیاتیاتی ہتھیاروں کی تحقیق کے لیے اے آئی ماڈلز استعمال کرنے کی کوشش کی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ سائنس دانوں کی اس کوشش کے بعد کمپنی نے اپنے حفاظتی نظام مزید سخت کردیے ہیں۔

کمپنی نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ رواں سال انہوں نے ایسے کئی ممکنہ منصوبوں کو روکا جن میں صارفین کمپنی کے اے آئی ماڈلز کو جدید حیاتیاتی تحقیق کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

این تھروپک کے مطابق وہ یہ تعین نہیں کرسکی کہ آیا یہ تحقیق حقیقتاً حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے کی جارہی تھی۔

حیاتیات کے شعبے میں یہ امتیاز خاص طور پر مشکل ہے، کیونکہ ایک ہی نوعیت کی تحقیق کے طبی اور جائز مقاصد بھی ہوسکتے ہیں، جیسے ویکسین کی تیاری، جبکہ بعض صورتوں میں یہی تحقیق جراثیم کو زیادہ خطرناک بنانے میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

کمپنی نے کہا کہ اسی لیے انہوں نے احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے سخت ترین اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا۔

محققین پر حفاظتی نظام سے بچنے کی کوشش کا الزام

این تھروپک نے کہا کہ حیاتیاتی تحقیق سے متعلق ان واقعات میں ملوث محققین نے اپنی سرگرمیوں کو چھپانے اور اے آئی نظام پر عائد پابندیوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے۔

کمپنی کے مطابق سائنس دانوں نے اپنی تحقیق کے مقصد کو مبہم بنانے کی کوشش کی تاکہ ہمارے حفاظتی نظام سے بچ سکیں۔

بعد ازاں این تھروپک نے ان سرگرمیوں سے منسلک اکاؤنٹس کو معطل کردیا۔

کمپنی نے بتایا کہ گزشتہ سال ان کے اے آئی ماڈلز کے پرانے ورژنز کے ذریعے کیے گئے تجربات سے ظاہر ہوا تھا کہ وہ خطرناک حیاتیاتی تحقیق میں بامعنی معاونت فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے، تاہم، کمپنی کے مطابق نئے نظام کہیں زیادہ پیچیدہ سائنسی کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

صلاحیت میں اس اضافے کے پیش نظر کمپنی نے حیاتیات سے متعلق ایسے سوالات کے لیے مزید سخت پابندیاں عائد کی ہیں جن کے ممکنہ طور پر دوہرے استعمال (Dual-Use) کے مقاصد ہوسکتے ہیں۔

ہتھیاروں کی تیاری اور پروپیگنڈا بھی AI کے دیگر غلط استعمال میں شامل

حیاتیاتی تحقیق سے متعلق واقعات این تھروپک کی ایک وسیع تر رپورٹ کا حصہ تھے، جس میں 8 ماہ کے دوران اے آئی نظام، بشمول کلاڈ، کے غلط استعمال کی مختلف مثالوں کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

کمپنی نے کہا کہ اسے روایتی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے بھی کلاڈ کے استعمال کی کوششوں کا پتا چلا، ان واقعات میں آتشی اسلحے، میزائلوں، مسلح ڈرونز اور بموں سے متعلق سافٹ ویئر شامل تھا۔

کمپنی کے مطابق ایسے 6 واقعات چین، روس اور یمن میں موجود صارفین سے منسلک تھے۔

خاص رپورٹ سے مزید
سائنس و ٹیکنالوجی سے مزید