آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل6؍ صفر المظفّر 1440ھ16؍اکتوبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کیا سائنس و ٹیکنالوجی کی دنیا خشک ہوتی ہے؟

رضی الدین خان

انسانوں کے اس جنگل میں ہر مزاج اور طبیعت کے لوگ ہیں۔ بعض حد درجہ خوش مزاج اور باغ و بہار طبیعت کے مالک ہوتے ہیں تو کچھ اتنے ہی خشک مزاج اور نک چڑھے۔ البتہ یہ بات طے ہے کہ دل چسپ اور چٹ پٹی گفتگو کو ہر کوئی پسند کرتا ہے اور اس سے محظوظ ہوتا ہے۔ اسی لیے لطیفہ گوئی اور مزاح کی محفلوں میں ہر کسی کی بانچھیں کھلی ہوتی ہیں اور ان میں وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو عام زندگی میں خوش مزاج اور ہنس مکھ نہیں ہوتے۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ انسان فطری طور پر دل چسپی اور چٹخارے پن کو پسند کرتا ہے، جب کہ سخت سنجیدگی، روکھے پن اور بوریت سے بھاگتا ہے۔ البرٹ آئن اسٹائن نے خوش گوار اور فرحت بخش لمحات کو اضافی کیفیت سے تعبیر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ چاندنی رات میں اپنے دوست کے ساتھ بیٹھے ہوں تو آپ کو چار گھنٹے کا وقت بھی بہت کم محسوس ہوگا ،جب کہ اس کے برعکس آپ تنہائی میں بیٹھ کر کسی کا ایک گھنٹے سے انتظار کررہے ہوںتو وہ لمحات چار گھنٹے سے زیادہ طویل محسوس ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی لٹریچر میں جو چیز سب سے زیادہ پڑھی جاتی ہے وہ فکشن اور کہانیاں ہوتی ہیں اور خاص طور پر سے وہ جو مزاح اور سسپنس سے بھرپور ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس سنجیدہ اور فلسفیانہ تحریر کو سوائے مخصوص لوگوں کے، ہر کوئی سونگھ کر چھوڑ دیتا ہے۔ دل چسپ اور مزیدار چیز انسان کی طبیعت کو بھاتی ہے چاہے وہ انسان ہو، خوراک ہو، لباس ہو یا کوئی مقام و جگہ۔انسانی فطرت کا یہ اصول علوم و فنون پر بھی یکساں لاگو ہوتا ہے۔ طالب علم کو سائنس، آرٹس اور کامرس میں سے ،جس مضمون یا شعبے سے دل چسپی ہوتی ہے وہ اسی کی طرف راغب ہوتا ہے۔ اس کی دلچسپی لینے کی وجہ کچھ بھی ہوسکتی ہے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ اگر طالب علم کو اس کے رجحان سے ہٹ کر کوئی مضمون زبردستی اور بالجبر پڑھانے کی کوشش کی جائے تو اول تو وہ اس میں کامیاب نہیں ہوگا اور اگر جیسے تیسے ہو بھی جائے تو تھرڈ کلاس اور نچلے درجے کا طالب علم ثابت ہوگا۔ مشاہدے میں یہ بات بھی آتی ہے کہ بعض ایسے مضامین جیسے ریاضی، ارضیات اور فلکیات جو بظاہر بہت خشک اور بور محسوس ہوتے ہیں بعض طلبہ ان میں بہت دل چسپی لیتے اور ذوق و شوق سے پڑھتے ہیں، کچھ کو ان میں اس قدر دل چسپی ہوجاتی ہے کہ ان کے سوا کوئی دوسرا مضمون اچھا نہیں لگتا، گویا دل چسپی اور رغبت ایک اضافی کیفیت ہے جو ہر شخص کے ساتھ یکساں اور ایک جیسی ہونا ضروری نہیں ہے۔

آرٹس اور کامرس پڑھنے والے عام طور سے سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے کو خشک اور بور سمجھتے ہیں، بالخصوص فزکس اور میتھ میٹکس ، جب کہ جن لوگوں نے ان مضامین کا ذائقہ چکھا ہوتا ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ مضامین انتہائی دل چسپ اور مزیدار ہوتے ہیں۔ دراصل قصور ان مضامین کا نہیں بلکہ انہیں پڑھانے اور ان کی تدریس کا ہوتا ہے، جو انہیں خشک اور غیر دل چسپ بنادیتا ہے۔ 1979ء میں راقم نے بین الاقوامی شہرت یافتہ سائنس داں اور ماہر ریاضی پروفیسر ڈاکٹر محمد رضی الدین صدیقی سے روزنامہ جنگ کے لیے انٹرویو کیا تھا۔ ان سے ریاضی اور طبیعیات جیسے خشک مضامین میں دل چسپی لینے کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے بتایا کہ 1921-22ء کی بات ہے کہ عثمانیہ یونیورسٹی میں ہمارے ایک استاد تھے سر عبدالرحمٰن۔ وہ کیمبرج سے تعلیم حاصل کر کے آئے تھے۔ اُن کے پڑھانے کا انداز اتنا دل چسپ تھا کہ مجھے بھی ریاضی سے دلچسپی پیدا ہوگئی ،حالاں کہ میرا مضمون میتھمٹکل فزکس تھا۔ وہ کلاس میں پوری تیاری کے ساتھ آتے تھے اور آتے ہی اس انداز سے لیکچر دیتے تھے جیسے ریاض اور طبیعیات میں کوئی بہت بڑا انکشاف ہونے والا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب یورپ اور امریکا میں نت نئی دریافتیں ہورہی تھیں اور نئے نظریات وجود میں آرہے تھے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے اُفق پر البرٹ آئن اسٹائن، پال ڈیراک، شروڈنگر، ہائژن برگ، انریکو فرمی، اوپن ہائمر اور ارنسٹ ردرفورڈ چھائے ہوئے تھے۔ چناں چہ ہمیں ایسا ماحول ملا ہوا تھا ،جس میں سائنس و ٹیکنالوجی سے دل چسپی پیدا ہوجانا ناگزیر تھا۔‘‘ ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا ’’آپ اس خوشی اور مسرت کا اندازہ نہیں کرسکتے جو ایک سائنس داں کو برسوں کی تحقیق کے بعد کامیابی پر حاصل ہوتی ہے۔ سائنس، مصوری اور شاعری میں حسِ حسن قدرِ مشترک ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سائنسی تحقیق کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ اگر ایک سائنس داں کو دروازہ بند ملتا ہے تو دوسرا سائنس داں وہاں سے اپنی تحقیق کا آغاز کرتا ہے اور یوں دس نئے دروازے کھل جاتے ہیں۔ دس دروازے بند ملتے ہیں تو سو دروازے کھل جاتے ہیں۔ انہیں یہ دو اشعار بہت پسند تھے جنہیں وہ اکثر گنگنایا کرتے تھے

کئی بار اس کی خاطر ذرے ذرے کا جگر

مگر وہ چشم حیراں جس کی حیرانی نہیں جاتی

اور

ہے کیا ضرور سب کو ملے ایک سا جواب

آئو نا ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی

سلیم الزماں کی شخصیت پر یہ شعر صادق آتا ہے

ہوتے ہیں کہاں ایسے پراگندہ طبع لوگ

افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی

راقم نے کراچی کے ڈی جے کالج سے بی ایس سی کے بعد یونیورسٹی آف کراچی سے صحافت میں ایم اے کیا ہے یوں میرا خصوصی شعبہ سائنسی صحافت ہے اور اسی تعلق کی وجہ سے سائنس دانوں اور ریسرچ اسکالرز کے ساتھ اٹھنا بیٹھا رہا ہے۔ اگرچہ میرا ریسرچ اور تحقیق سے تعلق نہیں ہے لیکن 1968ء اور 1972ء کے دوران یونیورسٹی کی سائنسی فیکلٹی میں جو تحقیقات ہورہی تھیں اور جس طرح رات دس بجے تک لیبارٹریز روشن رہتی تھیں تو اس ماحول کو دیکھ کر میرا دل چاہتا تھا کہ کسی پروجیکٹ پر میں بھی کام شروع کردوں، حالاں کہ میں اس کا ہرگز اہل نہیں تھا۔ سائنسی صحافت سے اپنی پچاس سالہ وابستگی کے نتیجے میں، میں یہ بات پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ سائنس و ٹیکنالوجی کی دنیا ہرگز خشک اور بوریت والی نہیں۔ ان میں ایسی ایسی دلچسپیاں اور رنگارنگ پہلو چھپے ہوئے ہیںکہ انسان مدہوش اور گم ہوجاتا ہے۔ فطرت کے مطالعے اور قدرت کی صناعی کے مشاہدے سے دل چسپ چیز کیا ہوسکتی ہے۔

کیا سائنس و ٹیکنالوجی کی دنیا خشک ہوتی ہے؟

اب تو سائنس و ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایسی دل چسپی اور مزیدار چیزیں آگئی ہیں جن کا کوئی ٹھکانا نہیں۔ 1932ء میں جب سعودی عرب میں تیل دریافت ہوا تو محترم میجر آفتاب حسن نے جو انجن ترقی اردو ہند کے رسالے سائنس کے ایڈیٹر تھے اور یونیورسٹی آف کراچی کے شعبہ تصنیف و تالیب و ترجمہ کے سربراہ رہے تھے۔ ’’پیٹرولیم کی کہانی‘‘ کے عنوان سے ایک عام فہم مضمون لکھا۔ ہندوستان کے ایک جید عالم مولانا عبدالماجد دریا آبادی نے وہ مضمون پڑھ کر آفتاب حسن صاحب کو خط لکھا ’’اگر سائنس اتنی دل چسپ ہوتی ہے تو مجھے افسوس ہے کہ میں نے سائنس نہیں پڑھی۔‘‘ 1979ء میں پروفیسر عبدالسلام نوبیل انعام لینے کے بعد کراچی آئے تو روزنامہ جنگ کے لیے ان کا انٹرویو کیا گیا۔ میر خلیل الرحمن صاحب کے ساتھ جب اسٹیٹ گیسٹ ہائوس سے باہر آئے تو میر صاحب نے کہا ’’مجھے تم دونوں کی باتیں سن کر مزا آرہا تھا اگرچہ بہت سی باتیں میرے اوپر سے گزر گئیں۔ آج میں نے پہلی مرتبہ سائنس کا ذائقہ چکھا، کاش میں نے سائنس پڑھی ہوتی۔‘‘

سائنس و ٹیکنالوجی کے خاص خاص اور بڑے مضامین جیسے فزکس، کیمسٹری، زولوجی، باٹنی، میتھ میٹکس، فزیالوجی، بائیو کمیسٹری، جیالوجی اور ایسٹرونومی کی تعداد ساٹھ یا ستر کے قریب ہے، ان میں سے ہر ایک کی دس دس اور بیس بیس ذیلی شاخیں ہیں۔ اس طرح ان کی تعداد نو سو یا ہزار سے زیادہ ہوتی ہیں۔ ان میں سے صرف چند ذیلی شاخوں کو چھوڑ کر ہر ایک میں ایسے ایسے دل چسپ گوشے اور راز پوشیدہ ہیں کہ اگر انہیں آسان اور دل چسپ زبان میں اجاگر کر کے پیش کیا جائے تو لوگ ٹی وی ڈراموں اور فرضی کہانیوں کو بھول جائیں گے۔ بس سارا کمال انہیں ڈھونڈ کر تلاش کرنے، شاعرانہ اور افسانوی زبان استعمال کرنے اور دل چسپ انداز میں پیش کرنے کا ہوگا۔ اگر پاکستان کا کوئی ٹی وی چینل ایسے پروگرام تیار کر کے پیش کرنے کی ہمت کر لے تو وہ دوسرے تمام چینلوں کو پیٹ دے گا اور ان پر سبقت لے جائے گا۔

سائنس و ٹیکنالوجی کی دنیا تو بڑی وسیع اور ہمہ گیر ہے۔ اس سب کو چھوڑ کر صرف انسانی جسم کو لے لیجئے اس میں جو آٹھ مختلف نظام یعنی کام کررہے ہیں صرف ان پر غور کر لیجئے تو آپ حیرت و تعجب کے سمندر میں ڈوب جائیں گے۔ ہم یہاں نمونے کے طور پر صرف دو نظاموں کا تذکرہ کریں گے۔ ایک دوران خون کا نظام اور دوسرا معدہ اور ہاضمے کا نظام۔ جنین (EMBRYO) کی تشکیل سے لے کر انسان کی ساری زندگی، ساٹھ، ستر، اسی نوے اور سو سال تک انسانی دل مسلسل دھڑکتا رہتا ہے۔ اس کا سائز اور اس کی بے پناہ طاقت پر غور کیجئے، صرف چوبیس گھنٹے کے دوران ایک عام انسانی دل نو ہزار چھ سو گیلن خون پمپ کرتا ہے۔ خون کی اتنی بڑی مقدار کو سارے جسم کے رگ و ریشے میں پہنچانا اور پھر صفائی کے لیے واپس سمیٹنا مذاق نہیں ہے۔ جی ہاں یہ کام صرف 24 گھنٹے کے دوران ہوجاتا ہے۔ کیا یہ سارا نظام ایک عجوبہ نہیں۔ اب ذرا معدہ پر غور کر لیجئے۔ اس کا وزن ڈیڑھ سے دو پائو یعنی آدھا کلو کے لگ بھگ ہوتا ہے۔ یہ آپ کی کھائی ہوئی غذا کو دن میں تین سے چار بار پیس کر ہضم کردیتا ہے، اگرچہ ہاضمے کا باقی عمل آگے بھی ہوتا ہے لیکن اس سلسلے میں اصل کام معدہ کے اندر ہی ہوتا ہے۔ حیرت ہے کہ گوشت اور ثقیل غذائوں کو ہضم کرنے والا معدہ جو خود بھی گوشت کا بنا ہوا ہوتا ہے، خود اپنے آپ کو ہضم نہیں کرتا۔ علاوہ ازیں معدے کی اندرونی دیواروں (لائننگز) سے تین یا چار وقت جو ہاضمی رس (تیزاب، ایننزائمز وغیرہ) جو 24 اقسام کے ہوتے ہیں، اگر انہیں انسانی جسم سے باہر مصنوعی طور پر تیار کیا جائے تو اس کے لیے ایک میز کے برابر جگہ چاہیے جب کہ یہ سارے کام معدے کے اندر ہورہے ہوتے ہیں۔ اسی لیے دانشور کہتے ہیں کہ انسان کو خدا پر ایمان لانے کے لیے ادھر ادھر دیکھنے کی ضرورت نہیں صرف اپنے جسم پر غور کرلینا ہی کافی ہے۔سائنس سے دل چسپی رکھنے والے اس بات کی گواہی دیں گے کہ سائنس و ٹیکنالوجی کی دنیا ہرگز بور اور خشک نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ جادو وہی ہوتا ہے جو سر چڑھ کر بولتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں