جاپان میں پاکستان کے سفارت خانے کے زیرِ اہتمام ’پہلا پاکستان- جاپان سمپوزیم برائے سائنس، ٹیکنالوجی اور انوویشن‘ منعقد ہوا جس نے دونوں ممالک کے درمیان سائنسی تعاون، ٹیکنالوجی کی شراکت داری اور مشترکہ تحقیق کے ایک نئے باب کا آغاز کر دیا۔
تقریب میں جاپان میں مقیم ممتاز پاکستانی سائنس دانوں، محققین، ماہرینِ ٹیکنالوجی، صنعت کاروں اور مختلف جامعات کے نمائندوں نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جاپان میں پاکستان کے سفیر عبدالحمید نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی بین الاقوامی تعلقات، اقتصادی ترقی اور سفارت کاری کے بنیادی ستون بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان اور جاپان کے درمیان 7 دہائیوں پر محیط دوستانہ تعلقات کو تحقیق، مصنوعی ذہانت، جدید صنعت اور اختراع کے شعبوں میں مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے سائنس دان اور محققین مشترکہ منصوبوں کے ذریعے نئی راہیں متعین کریں گے۔
سمپوزیم میں فوٹونک ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی، زرعی تحقیق، مصنوعی ذہانت، ٹیلی کمیونی کیشن اور اردو لینگویج ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں پر تفصیلی پریزنٹیشنز پیش کی گئیں۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ جاپان کی جدید سائنسی مہارت اور پاکستان کی نوجوان، باصلاحیت افرادی قوت مل کر توانائی، خوراک، صحت اور ماحولیات کے شعبوں میں انقلابی پیش رفت کا باعث بن سکتی ہے۔
شرکاء نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سفیرِ پاکستان عبدالحمید کی قیادت میں سفارت خانۂ پاکستان ناصرف پاک جاپان تعلقات کو نئی جہت دے رہا ہے بلکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی سائنس دانوں اور ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر کے سائنسی سفارت کاری کو بھی فروغ دے رہا ہے۔
تقریب کے دوران ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ تحقیقی منصوبوں، جامعات اور صنعت کے درمیان روابط اور نوجوان محققین کے تبادلے سے متعلق امور پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
تقریب کے اختتام پر سفیرِ پاکستان عبدالحمید نے تمام مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سفارت خانۂ پاکستان آئندہ بھی ایسے پروگراموں کے انعقاد کے ذریعے پاکستان اور جاپان کے درمیان سائنسی، تعلیمی اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔