ہماری کوشش ہوتی ہے کہ فلائٹ لینے کیلئے وقت پر ائرپورٹ پہنچ جائیں۔ آخری وقت کی بھاگ دوڑ سے گھبراہٹ ہوتی ہے۔ لانگ آئی لینڈ نیویارک کے جس ہوٹل میں ہمارا قیام تھا وہ ائرپورٹ کے بہت نزدیک نکلا۔ ہم کنیٹی کٹ سے کار پر نیویارک آئے تھے اسلئے ہمیں ائرپورٹ کی قربت کا اندازہ نہیں تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم ایک لوکل فلائٹ کیلئے 3 گھنٹے پہلے ’’اسلپ‘‘ ائرپورٹ پہنچ گئے۔ جلدی میں ہوں تو ہمیں اندیشہ رہتا ہے کہ کوئی گڑبڑ نہ ہو جائے، سامان ادھر ادھر نہ ہو جائے، کچھ بھول نہ جائے۔ لیکن آج راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۔ پر سکون بورڈنگ ہوئی، آرام دہ ونڈو سیٹ ملی، مطلع صاف تھا، پرواز انتہائی ہم وار تھی۔ ہم عدیل زیدی صاحب کی دعوت پر ایک مشاعرے میں شرکت کیلئے ہیوسٹن جا رہے تھے لیکن پرواز براہ راست نہیں تھی، پہلے ہمیں بالٹی مور جانا تھا، اور چار گھنٹے کے ’’لے اوور‘‘ کے بعد ہیوسٹن کیلئے روانہ ہونا تھا۔
فلائٹ کے درمیان خیال آیا کہ ہیوسٹن مشاعرے میں سنانے کیلئے کچھ کلام چن لیا جائے۔ جیب میں فون نہیں تھا، ایک ہی جیب کی دس دفعہ تلاشی لی مگر فون نہیں ملا۔ یقینا ًفون بریف کیس میں رکھا ہوا تھا، اور بریف کیس سیٹ کے اوپر والے کیبن میں تھا۔ ہم نے ازلی ’’چستی‘‘ کا مظاہرہ کیا اور سوچا کہ بالٹی مور تک مختصر سی فلائٹ ہے، کچھ دیر انتظار کر لیتے ہیں۔ دل سے ایک بار یہ خیال بھی گزرا کہ فون کہیں گما تو نہیں بیٹھے، مگر یہ بھیانک خیال فوری جھٹک دیا گیا۔ ہمارا ریکارڈ اس معاملے میں اچھا ہے، گمان تو پہلے بھی کئی مرتبہ ہوا ہے مگر ہمارا فون کبھی گما نہیں۔
بالٹی مور ائرپورٹ پر اترتے ہی ہم نے ایک کیفے چنا، بیٹھتے ہی سامنے میز پر بریف کیس رکھا، بسم اللہ پڑھی اور بریف کیس کھولا، پہلے خانے میں فون نظر نہیں آیا، دوسرے خانے میں بھی فون نہیں ملا، دو خانے ابھی باقی تھے لیکن ہم ان خانوں کو استعمال کم کم ہی کرتے ہیں، دل دھک دھک کرنے لگا، اگر فون گم ہو گیا تو کیا ہو گا؟ فون نہیں ملا۔ ہم نے بے قراری میں بریف کیس کی سب چیزیں نکال کر میز پر ڈھیر کرنا شروع کر دیں۔ فون نہیں ملا۔ فون گم ہو چکا تھا، فون واقعی گم ہو چکا تھا، امریکا کا ہر نمبر گم ہو چکا تھا، امریکا میں میزبانوں کے نمبر گم ہو چکے تھے، مشاعروں کے منتظمین کے نمبر گم ہو چکے تھے، پاکستان میں اپنے پیاروں کے نمبر گم ہو چکے تھے، اگلی فلائٹس کی ٹکٹیں گم ہو چکی تھیں، ہوٹلوں کی بکنگز گم ہو چکی تھیں، ای میل اکاؤنٹ گم ہو چکے تھے، آن لائن بینک اکاؤنٹ گم ہو چکے تھے، یعنی حضرتِ حماد غزنوی گم ہو چکے تھے۔
بے دست و پا ہونے کا کیا مطلب ہوتا ہے، پہلی بار سمجھ آیا۔ عاجز، لاچار، بے بس، مجبور، بے اختیار، بے یار و مدد گار، لُولا لنگڑا، ان سب الفاظ کا مطلب خوب اچھی طرح سے سمجھ آ گیا۔ اب کیا کیا جائے؟ کچھ سمجھ نہیں آیا۔ کہاں سے شروع کیا جائے؟ پہلا مسئلہ تو یہ درپیش تھا کہ ہیوسٹن کی ٹکٹ فون میں تھی۔ اور اگر ہیوسٹن پہنچ بھی گئے تو جائیں گے کہاں؟ نہ کوئی فون نمبر تھا نہ پتا۔ دماغ شل ہو گیا۔ بھوک اڑ چکی تھی۔ ویٹر آیا تو میز پر پھیلے ہوئے کاغذ، عینکیں اور دوائیں دیکھ کر وہ سوالیہ انداز میں مسکرایا، ہم نے سب چیزیں سمیٹیں، ویٹر سے معذرت کی اور کیفے سے نکل آئے۔ نقصانات کا ابتدائی تخمینہ لگایا جا چکا تھا، دورہِ امریکا مختصر کرنا بھی ایک آپشن تھا، نیا فون لے کر ڈیٹا بازیافت کرنا بھی ایک آپشن تھا۔ کیا کیا جائے؟ خیر، پہلے تو چیک ان کاونٹر پر جا کر ہم نے فون گمنے کی دل خراش داستان سنائی، کچھ دیر کمپیوٹر سکرین کو گھورنے اور پھر ہمارے پاسپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد ہمیں خوش خبری سنائی گئی کے آپ کو ریکارڈ کی روشنی میں نیا بورڈنگ پاس جاری کیا جا رہا ہے۔ ایک مرحلہ تو طے ہو گیا، مگر ابھی عشق کے امتحاں اور بھی تھے۔ بورڈنگ پاس کے حصول کے بعد ہم ایک نشست پر بیٹھ کر حسرت بھری نظروں سے ہر آنے جانیوالےکو دیکھنے لگے، ہر شخص کے ہاتھ میں فون تھا، کسی پر سفید فون کور چڑھا ہوا تھا، کسی پر کالا، پیلا، گلابی، ہر کوئی اپنے فون میں مست تھا، لوگ کالز کر رہے تھے، اپنے پیاروں کو وڈیو کالز کر رہے تھے، ہمارے ساتھ والی نشست پر بیٹھی ہوئی ایک صاحبہ فیس بک پر اسپینش زبان میں کچھ پوسٹ کر رہی تھیں، ایک سیاہ فام نوجوان اونچی آواز میں فٹ بال میچ کی کمنٹری سن رہا تھا۔ گویا سب غزلیں اپنے اپنے میرؔ میں محو تھیں۔ ہم اکیلے بیٹھے ہوئے تھے۔
یک دم پہلی دفعہ خیال آیا کہ رسماً ہی سہی فون گُمنے کی اطلاع ائرپورٹ کے لاسٹ اینڈ فاؤنڈ ڈیپارٹمنٹ کو کرنی چاہئے۔ خیال یہی تھا کہ امکان تو نہیں ہے، مگر حجت تو تمام کرنی چاہیے۔ ہم نے کاؤنٹر پر موجود خاتون کو اپنی درد بھری کہانی سنائی تو اس نے بعد از تعزیت ہمیں اسلپ ائرپورٹ کے لاسٹ اینڈ فاؤنڈ ڈیپارٹمنٹ کا ایک فون نمبر عنایت کیا کہ ان سے بات کریں۔ ہم نے اسے یاد دہانی کرائی کے ہمارا فون ہی تو گُم ہوا ہے، فون کیسے کریں۔ خاتون نے لمحہ بھر توقف کیا، اس کی آنکھوں میں ایک احساس سا لہرایا کہ یہ آدمی بات تو ٹھیک کر رہا ہے۔ ائر لائن کی نمائندہ کیرن کشلوسکی نامی خاتون نے فون اٹھایا اور کسی متعلقہ محکمے سے بات کی، پھر اگلے ایک گھنٹے تک وہ اسلپ ائرپورٹ کے مختلف محکموں کو فون کرتی چلی گئی۔ اس دوران اس نے بتایا کہ وہ پچھلے 18 گھنٹے سے بہ وجوہ ڈیوٹی پر ہے۔ اب وہ ہمیں اور بھی خوب صورت لگنے لگی۔ آخر کار اس کی آنکھیں چمک اٹھیں اور اس نے اعلان کیا کہ اسلپ ائرپورٹ پولیس بتا رہی ہے کہ انہیں ایک فون ملا ہے۔ فون کے حلیے کی تصدیق کی گئی، وہ ہمارا ہی فون تھا۔ یقین نہیں آ رہا تھا، امریکا کے کسی مصروف ائرپورٹ پر ہزاروں آتے جاتے لوگوں کے درمیان ایک گم شدہ فون مل گیا تھا۔ معجزہ اسی کو کہتے ہیں، معجزے اب بھی ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ تھا کہ فون ہم تک کیسے پہنچے؟ ہماری حالت کسی ایسے مومن جیسی تھی، جس سے وعدۂ حور تو کر لیا گیا تھا، مگر فی الحال وہ صریحاً مجرد تھا۔