سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ 2300 تک سمندر میں بڑھتی ہوئی سطح 1.7 ملین برطانوی باشندوں کے گھروں کو پانی میں ڈبونے کا سبب بن سکتی ہے۔
مستقبل میں سطح سمندر کے باعث برطانیہ کے کچھ علاقے ناقابل رہائش قرار دیے جا سکتے ہیں۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق میٹ آفس اور برسٹل یونیورسٹی کے محققین نے یہ دیکھنے کے لیے کمپیوٹر ماڈلز کا استعمال کیا کہ مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی سے کتنے لوگ ساحلی سیلاب کے خطرے میں ہوں گے۔
تحقیق کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2300 کے اختتام تک کم از کم نصف ملین مزید لوگ سیلاب کی زد میں آئیں گے۔
محققین نے خبردار کیا ہے کہ یہ ڈرامائی تبدیلیاں روکنے کیلئے آنیوالی دہائیوں میں وسیع پیمانے پر اقدامات کرنا ناگزیر ہیں، یہاں تک کہ اگر دنیا کے تمام کاربن کے اخراج کے وعدے پورے کر لیے جائیں تب بھی 2200 تک 1.4 ملین سے زیادہ لوگ سیلاب کے خطرے سے دوچار ہوں گے، جو 2300 تک مزید 0.3 ملین بڑھ جائیں گے۔
تحقیق خاص طور پر واش اور ہمبر ایسٹوری میں رہنے والے لوگوں کے لیے بری خبر ہو سکتی ہے جو مستقبل کے ساحلی سیلاب کے لیے ہاٹ اسپاٹ کے طور پر نمایاں ہیں۔
برسٹول یونیورسٹی کے سرکردہ مصنف پروفیسر میٹ پامر کا کہنا ہے کہ دنیا کے سمندر اور برف سے ڈھکے ہوئے حصے گلوبل وارمنگ کے لیے بہت سست روی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
جیسے جیسے انسانوں کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آب و ہوا گرم ہو رہی ہے سمندر کی سطح بتدریج تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے عالمی سطح پر 1999 سے لے کر اب تک اوسط سطح سمندر میں 3.64 ملی میٹر سالانہ اضافہ ہوا ہے۔