• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قدرتی آبی گزر گاہوں میں گولڈ فش چھوڑنے والوں کو وارننگ

تصویر سوشل میڈیا۔
تصویر سوشل میڈیا۔

کینیڈا کے مغربی صوبے البرٹا میں حکومت نے صوبے میں پالتو سنہری مچھلی (گولڈ فش) رکھنے والے مالکان سے کہا ہے کہ وہ کسی صورت اپنی گولڈ فش کو قدرتی آبی ذخائر میں نہ چھوڑیں۔

البرٹا حکومت نے مذکورہ مچھلیاں جھیلوں اور دریائوں میں نہ چھوڑنے کی حکومتی مہم اس وقت شروع کی جب البرٹا کی جھیلوں، تالابوں اور دیگر آبی گزرگاہوں میں حملہ آور گولڈ فش کے پائے جانے کے 100 سے زائد واقعات سامنے آئے۔

البرٹا میں مذکورہ بالا جارح اور نقصاندہ قسم کی مچھلیوں کی ماہر نکول کمیل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا یہ مچھلیاں اس لیے ہمارے آبی ذخائر میں نہیں آرہی ہیں کہ لوگ انہیں ٹوائلٹ میں بہا دیتے ہیں اور وہ جھیلوں میں پہنچ جاتی ہیں۔ دراصل لوگ جان بوجھ کر انہیں آبی گزرگاہوں میں چھوڑتے ہیں، جہاں وہ سردیاں گزارتی ہیں اور پھر پھلتے پھولتے اور افزائش نسل کرتی ہیں۔

البرٹا حکومت کی اس آگاہی مہم کے ذریعے شہریوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ گولڈ فش سمیت کسی بھی نقصاندہ قسم کی مچھلیوں کو آبی گزرگاہوں میں چھوڑنا قانوناً جرم ہے، جس پر 70,900 ڈالر تک جرمانہ اور ایک سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

نکول کمیل نے کہا لوگ شاید یہ سمجھتے ہوں کہ وہ صرف گولڈ فش کو پانی میں چھوڑ رہے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ گھونگھے، مچھلیوں کی بیماریاں اور آبی پودوں کے ٹکڑے بھی متعارف کرا سکتے ہیں، جو بعد میں البرٹا کے کسی بھی آبی ذخیرے پر قابض ہو کر ماحول کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

البرٹا کی وزارت ماحولیات کے مطابق صوبے میں پائی جانے والی بعض گولڈ فش 15 انچ تک لمبی ہو چکی ہیں۔ وافر خوراک اور ایکویریم کے محدود سائز کی پابندی نہ ہونے کی وجہ سے یہ تیزی سے بڑھتی ہیں اور اپنے موافق ماحول بنانے کے لیے مقامی مچھلیوں کی اقسام سے مقابلہ کرکے انھیں نقصان پہنچاتی ہیں۔

دلچسپ و عجیب سے مزید