سندھ ہائی کورٹ میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کی جانب سے تحفظ فراہم کرنے اور اغواء کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
عدالت نے مقدمہ خارج کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ لڑکی کی عمر اور نکاح کی قانونی حیثیت سے متعلق تنازعات آئینی درخواست میں طے نہیں کیے جا سکتے۔
عدالت کے مطابق نکاح کی حیثیت اور فوجداری ذمے داری کا تعین ٹرائل کورٹ شواہد کی بنیاد پر کرے گی۔
عدالت نے کہا کہ مقدمے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور عبوری چالان جمع کروایا جا چکا ہے۔
عدالت نے ہدایت کی کہ سرکاری حکام کسی بھی فریق کو ہراساں کرنے سے گریز کریں۔
عدالت نے مزید حکم دیا کہ اگر کسی بھی فریق کو جان یا آزادی کا خطرہ لاحق ہو تو اسے مناسب تحفظ فراہم کیا جائے۔