• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی میں شروع ہونے والا ہر ترقیاتی منصوبہ صرف سندھ ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ کئی برسوں میں یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ بعض ترقیاتی منصوبے، انتظامی فیصلے اور سرکاری بھرتیاں بار بار ایسے عدالتی تنازعات کا شکار بنتی رہی ہیں جن کے نتیجے میں منصوبے تاخیر کا شکار ہوئے، سرمایہ کاری متاثر ہوئی، ہزاروں نوجوانوں کی ملازمتیں تعطل کا شکار رہیں اور بالآخر نقصان عام شہری نے اٹھایا۔

پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سے اس مؤقف کی حامی رہی ہے کہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کا احترام ہر جمہوری نظام کی بنیاد ہے۔ اگر کسی سرکاری اقدام میں قانون کی خلاف ورزی، اختیارات کا ناجائز استعمال یا عوامی مفاد کے منافی کوئی فیصلہ موجود ہو تو عدالتوں سے رجوع کرنا ہر شہری اور ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے۔ تاہم یہ بھی اتنا ہی اہم اصول ہے کہ عدالتوں کو سیاسی اختلافات کا میدان بنانے سے گریز کیا جائے اور ایسے مقدمات، جن کی بنیاد محض سیاسی مخالفت ہو اور جن میں واضح قانونی جواز موجود نہ ہو، ان سے ریاستی نظام کو غیر ضروری طور پر مفلوج نہ ہونے دیا جائے۔

کراچی میں مختلف ادوار کے دوران متعدد ترقیاتی منصوبے، بلدیاتی اقدامات، انفراسٹرکچر اسکیمیں، بھرتیوں کے عمل اور انتظامی فیصلے عدالتی کارروائیوں کی زد میں آئے۔ ہر مقدمہ اپنی الگ قانونی نوعیت رکھتا ہے اور ہر کیس کا فیصلہ اس کے حقائق اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ لیکن جب کسی منصوبے پر طویل عرصے تک حکمِ امتناعی (Stay Order) نافذ رہتا ہے تو اسکے اثرات صرف متعلقہ ادارے تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کی قیمت پورا شہر ادا کرتا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف یہ رہا ہے کہ حکومتوں کو انکی آئینی مدت کے دوران عوامی مینڈیٹ کے مطابق کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ اگر کوئی منصوبہ قانون کے مطابق، متعلقہ قواعد کی پابندی اور شفافیت کے ساتھ شروع کیا گیا ہو تو اسے صرف سیاسی اختلاف کی بنیاد پر روک دینا ریاستی مفاد میں نہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی لاگت وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔ اگر ایک منصوبہ چند ماہ میں مکمل ہونا تھا مگر قانونی کارروائیوں کے باعث کئی سال تک التوا میں رہا تو تعمیراتی اخراجات، مشینری، مزدوری اور دیگر لاگت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً وہی منصوبہ جو کم وسائل میں مکمل ہو سکتا تھا، عوامی خزانے پر کہیں زیادہ بوجھ بن جاتا ہے۔ اس اضافی مالی بوجھ کا براہِ راست اثر عوامی خدمات، ترقیاتی بجٹ اور دیگر سماجی منصوبوں پر پڑتا ہے۔اسی طرح سرکاری ملازمتوں سے متعلق مقدمات میں بھی توازن ضروری ہے۔ اگر کسی بھرتی کے عمل میں واقعی بے ضابطگی یا میرٹ کی خلاف ورزی ہو تو عدالت کی مداخلت ناگزیر ہے۔ لیکن اگر صرف الزامات کی بنیاد پر پوری بھرتی برسوں تک معطل رہے، اور بعد میں مقدمہ خارج ہو جائے یا حکومت کا مؤقف درست ثابت ہو، تو اس عرصے میں ہزاروں امیدوار اپنی عمر کی حد عبور کر چکے ہوتے ہیں، ان کے معاشی حالات متاثر ہوتے ہیں اور ریاست بھی مطلوبہ افرادی قوت سے محروم رہتی ہے۔

کراچی جیسے میگا سٹی کو سیاسی کشمکش سے زیادہ انتظامی استحکام، مسلسل منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی تعاون کی ضرورت ہے۔ شہر کے مسائل اتنے پیچیدہ ہیں کہ انہیں سیاسی محاذ آرائی کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ پانی، سیوریج، ٹرانسپورٹ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، صحت، تعلیم اور شہری انفراسٹرکچر ایسے شعبے ہیں جن میں ہر روز کی تاخیر لاکھوں شہریوں کی زندگی کو متاثر کرتی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ ہر سیاسی جماعت کو اختلاف رائے کا مکمل حق حاصل ہے، لیکن اختلاف کی بنیاد عوامی مفاد، آئین اور قانون ہونا چاہیے، نہ کہ صرف سیاسی فائدہ۔ اگر کوئی منصوبہ غیر قانونی ہے، کسی قانون کی صریح خلاف ورزی کرتا ہے یا بنیادی حقوق کو متاثر کرتا ہے تو یقیناً عدالتوں کو اس کا جائزہ لینا چاہیے۔ لیکن اگر مقدمہ محض سیاسی مخالفت یا حکومتی سرگرمیوں کو سست کرنے کیلئے دائر کیا گیا ہو، اور اس میں بادی النظر میں کوئی مضبوط قانونی بنیاد موجود نہ ہو، تو ایسے مقدمات کے نتیجے میں پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی جمہوری ممالک میں عدالتیں عبوری حکمِ امتناع جاری کرتے وقت عوامی مفاد، ریاستی مفاد، منصوبے کی نوعیت، ممکنہ مالی نقصان اور ناقابلِ تلافی اثرات کو بھی مدنظر رکھتی ہیں۔ اس اصول کا مقصد کسی حکومت کو فائدہ پہنچانا نہیں بلکہ عوام کو غیر ضروری نقصان سے بچانا ہوتا ہے۔ اگر ہر سرکاری منصوبہ ابتدائی مرحلے ہی میں طویل قانونی تنازع کا شکار ہو جائے تو ترقی کا عمل مسلسل تعطل کا شکار رہے گا۔کراچی کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے بہتر انفراسٹرکچر، جدید ٹرانسپورٹ، صاف پانی، نکاسیٔ آب، صحت اور روزگار کے بہتر مواقع کے منتظر ہیں۔ ان ضروریات کو پورا کرنے کیلئے سیاسی جماعتوں، عدلیہ، انتظامیہ اور دیگر ریاستی اداروں کے درمیان آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے تعاون ناگزیر ہے۔

اس تناظر میں پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف یہ ہے کہ عدلیہ آئین کی محافظ ہے اور اس کا احترام ہر حال میں لازم ہے۔ اسی احترام کیساتھ یہ گزارش بھی کی جا سکتی ہے کہ ایسے مقدمات جن میں بادی النظر میں واضح قانونی بنیاد موجود نہ ہو، یا جن کا بنیادی مقصد صرف سیاسی تنازع کو عدالتی کارروائی میں تبدیل کرنا معلوم ہو، ان میں عوامی مفاد، ریاستی وسائل، ترقیاتی عمل اور شہریوں کے بنیادی حقوق کو بھی مقدم رکھا جائے۔ ہر مقدمے کا فیصلہ یقیناً قانون کے مطابق ہونا چاہیے، مگر یہ بھی ضروری ہے کہ غیر ضروری حکمِ امتناع یا طویل التوا سے پیدا ہونے والے سماجی اور معاشی نقصانات کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

تازہ ترین