میرے ایک بھلکڑ دوست بڑی دردناک مگر سریلی آواز میں رات بھر اونچی آواز میں گاتے رہتے تھے، ’’نیند کیوں رات بھر نہیں آتی۔‘‘ وہ خود تو سو نہیں سکتے تھے، مگر انہوں نے اڑوس پڑوس کے چھوٹے بڑوں کی نیندیں اڑا دی تھیں، محققوں نے بڑی چھان بین کے بعد مجھے بتایا ہے کہ موقع محل کے مطابق کبھی کبھار نثر میں لفظ نیند کی بجائے لفظ نیندیں لکھنے کی کبھی کبھار چھٹی مل جاتی ہے۔ یہ مقدس کام آپ شعر و شاعری میں بھی کرسکتے ہیں۔ اس لیے میں نے لکھا ہے کہ دردناک آواز میں شعر کی ایک سطر گاتے ہوئے ایک کھڑوس نے لوگوں کی نیندیں اڑا دی تھیں، جان کھپانے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تحقیق طلب بات ہے، اگلے دس ہزار برسوں تک اصل حقیقت کی چھان بین کی جاسکتی ہے۔ ہم اپنے آپ کو سردست کہانی تک محدود رکھیں گے۔
ایک پڑوسی نے بیزار ہوکر مجھ سے کہا۔ ’’تمہارے دوست نے ہم سب کو پاگل کردیا ہے۔ ہم کیا کریں، اگر اسے رات بھر نیند نہیں آتی، ہمارا کیا قصور ہے اس میں۔‘‘ پڑوسی کا غصہ کم کرتے ہوئے میں نے کہا۔ ’’شعر کی پہلی سطر وہ بھول بیٹھا ہے، ورنہ وہ ایک ہی سطر بار بار کبھی نہیں دہراتا۔‘‘ پڑوسی نے غصے سے کہا۔ ’’تو پھر تم اسے وہ سطر یاد کیوں نہیں دلاتے؟‘‘
’’بھلکڑ ہے۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’یاد کرنے سے اسے کچھ بھی یاد نہیں آتا، سب کچھ الٹ پلٹ کردیتا ہے۔ پڑوسی نے پوچھا۔ ’’تم نے کبھی سنجیدگی سے اسے مکمل شعر سمجھانے کی کوشش کی ہے؟‘‘
’’کئی مرتبہ۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’وہ سنی ہوئی بات توڑ مروڑ کر رکھ دیتا ہے۔‘‘ پڑوسی تعجب سے میری طرف دیکھتا رہا۔’’میں نے کئی بار اسے یاد دلوانے کی کوشش کی، موت کا ایک دن معین ہے، نیند کیوں رات بھر نہیں آتی۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’اس نے جب بھی دہرایا، کچھ اور ہی دہرایا۔‘‘ پڑوسی مجھے چپ چاپ سنتا رہا۔
میں نے کہا۔ ’’دہراتے ہوئے وہ کہتا، موت کا ایک دن معین ہے، رات کیوں نیند بھر نہیں آتی۔‘‘
’’میں اسے درست کرتا، نیند کیوں رات بھر نہیں آتی۔‘‘
میں نے کہا۔ ’’وہ پہلی سطر بھول جاتا، موت کا ایک دن معین ہے۔‘‘’’پہلی سطر یاد رکھتا تو دوسری سطر میں گڑبڑ کر جاتا۔‘‘
میں نے کہا۔ ’’وہ دہراتا، رات کیوں نیند بھر نہیں آتی۔‘‘پڑوسی نے اپنا سر پکڑ لیا اور چلتا بنا۔
ایک دن پڑوسیوں کا وفد میرے پاس آیا، کہنے لگا، اس بلڈنگ میں کوئی ڈاکٹر، کوئی ماہر نفسیات نہیں رہتا، تمہارے دوست کو رات بھر نیند نہیں آتی تو ہم کیا کریں، تم اسے اپنے ساتھ کہیں لے جاؤ، ورنہ ہم پولیس کو مطلع کریں گے۔ پڑوسی، پڑوسی ہوتے ہیں، اس سے پہلے کہ وہ پولیس کو مطلع کرتے، میں نے اپنے دوست کی ذہنی بحالی کا بیڑا اٹھالیا، جو میرے بس میں تھا، میں نے کیا، میں نے اپنے دوست سے کہا۔
’’اس شعر میں سارا زور ایک روز موت کے معین ہونے پر ہے، تم بس اسی پر سوچا کرو، موت ایک روز بغیر بتائے آتی ہے، نہ دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ دروازہ کھولنے کی ضرورت پڑتی ہے، موت چپکے سے آتی ہے اور ہمیں اپنے ساتھ لے کر چلی جاتی ہے۔
میرے بھلکڑ دوست نے کہا۔ ’’بالم، تم خواہ مخواہ مجھے ڈرانے کی کوشش مت کرو، اگر موت کا ایک دن معین ہے تو پھر موت ضرور آئے گی، گھبرانے کی بات نہیں ہے۔‘‘
بات مجھے بنتی ہوئی نظر نہیں آرہی تھی، میں نے بھلکڑ دوست سے کہا۔ ’’تم سب کچھ بھلا دو۔ بس اتنا یاد رکھو کہ موت کا ایک دن معین ہے، اس کے بعد دوسری سطر تمہیں خود بہ خود یاد آنے لگے گی، نیند کیوں رات بھرنہیں آتی۔
چند روز کے لیے بھلکڑ منظر سے غائب ہوگیا، پڑوسی خوش ہوگئے، انہوں نے مٹھائیاں بانٹیں، اچانک بھلکڑ ایک روز مسکراتے ہوئے منظر میں پھر سے داخل ہوا۔
میں نے پوچھا۔ ’’کیسے ہو میرے بھائی؟‘‘
بھلکڑ نے کہا۔ ’’موت کو ایک روز آنا ہے، وہ آکر رہے گی، مگر رات کیوں نیند بھر نہیں آتی۔‘‘
ہاتھ جوڑتے ہوئے میں نے کہا۔ ’’بھائی… نیند کیوں رات بھر نہیں آتی۔‘‘بھلکڑ نے بھی ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔ ’’رات کیوں نیند بھر نہیں آتی۔‘‘
اچانک ایک صاحب بیچ میں آ ٹپکے، انہوں نے کہا۔ ’’اہم یہ نہیں ہے کہ آپ کو رات بھر نیند نہیں آتی، کروڑوں لوگوں کو رات بھر نیند نہیں آتی، وہ رات بھر ہوائی جہاز چلاتے ہیں، فلمیں بناتے ہیں، ٹیلی ویژن کے لیے پروگرام بناتے ہیں، اخبار شائع کرتے ہیں، وہ لوگ تخلیقی کام کرتے ہیں، تمہارے دوست کی طرح گاتے نہیں پھرتے کہ نیند کیوں رات بھر نہیں آتی۔‘‘
میں استعجاب سے نووارد کی طرف دیکھتا رہا۔نووارد نے کہا۔ ’’آپ کے دوست کا پرابلم یہ نہیں ہے کہ ان کو رات بھر نیند نہیں آتی، جاگتے رہتے ہیں، ان کا پرابلم یہ ہے کہ آپ کے دوست سوچتے نہیں۔‘‘
میں حیرت سے نووارد کو دیکھتا رہا، نووارد نے کہا۔ ’’رات بھر جاگنے والے نیند نہ آنے کی شکایت نہیں کرتے، وہ سوچتے ہیں، لگاتار سوچتے ہیں، ڈاکٹر آکاش کے تینوں مبینہ قاتلوں کی اچانک موت کے بارے میں سوچتے ہیں۔‘‘