• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماریطانیہ شمال مغربی افریقہ کا ایک اسلامی ملک ہے جسکی سرحد مراکو سے ملتی ہے۔ گوکہ ماریطانیہ دنیا کے نقشے پر ایک خاموش اور دور افتادہ ریاست ہے لیکن حقیقت میں یہ ملک اپنی اسلامی شناخت، علمی ورثے، سیاسی استحکام اور بین الاقوامی تعاون کے حوالے سے ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ گزشتہ دنوں ماریطانیہ کے دارالحکومت نواکشوط (Nouakchott) میں اسلامک سینٹر فار ڈویلپمنٹ آف ٹریڈ (ICDT) کے زیراہتمام صحت کے شعبے سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا جہاں اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے وزرا، ماہرین صحت، کاروباری شخصیات اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔

کانفرنس کے مہمان خصوصی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل Tedros  Adhanom تھے۔ پاکستان سے وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کو مدعو کیا گیا تھا لیکن وہ آخری لمحات میں اپنی مصروفیات کے باعث کانفرنس میں شریک نہ ہوسکے۔ مراکو کے اعزازی قونصل جنرل اور پاک مراکوبزنس کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سےICDT اور ماریطانیہ کی حکومت نے مجھے بھی خصوصی طور پر کانفرنس میں مدعو کیا تھا۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد اسلامی ممالک کے درمیان صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی، دواسازی کی صنعت، طبی تحقیق اور مشترکہ تعاون کو فروغ دینا تھا۔

ماریطانیہ پہنچتے ہی جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ یہاں کے عوام کی سادگی، مہمان نوازی اور اسلامی اقدار سے وابستگی تھی۔ عربی زبان ماریطانیہ کی سرکاری زبان ہے جبکہ فرانسیسی زبان بھی وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔ دارالحکومت نواکشوط اگرچہ جدید طرز تعمیر کی جانب گامزن ہے تاہم اسکی سادگی اور قدرتی ماحول اسے دیگر افریقی دارالحکومتوں سے منفرد بناتا ہے۔ گوکہ ماریطانیہ میں پاکستان کا سفارتخانہ نہیں مگر مراکو میں پاکستان کے سفیر عادل گیلانی کی سفارتی ذمہ داریوں میں ماریطانیہ بھی شامل ہے۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ماریطانیہ میں تقریباً 500 سے زائد پاکستانی بزنس اور روزگار سے منسلک ہیں۔ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل Tedros Adhanom، ICDT کی ڈائریکٹر جنرل Latifa El Bouabdellaoui ، ماریطانیہ کے وزیر صحت Thiam Tidjani اور دوسرے مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ اسلامی دنیا کو صحت کے میدان میں بیرونی انحصار کم کرکے اپنی استعداد کار میں اضافہ کرنا ہوگا۔ کورونا وبا نے واضح کردیا کہ ویکسین، ادویات، طبی آلات اور تحقیقی سہولیات میں خود کفالت وقت کی اہم ضرورت ہے، اسی لئے اسلامی ممالک کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری، تحقیق اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو مستقبل کی حکمت عملی قرار دیا گیا ہے۔

کانفرنس کے ایک سیشن ،جس میں ماریطانیہ، ایتھوپیا اور گیمبیا کے وزیر صحت، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے عہدیداران کے ساتھ میں بھی شریک تھا، میں اسلامی ممالک کے مابین صحت کے شعبے میں تعاون اور سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر میں نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا پیغام شرکاء کو پڑھ کر سنایا۔ میںنے مندوبین کو بتایا کہ پاکستان نہ صرف اپنی ضروریات کی ادویات ملک میں تیار کرتا ہے بلکہ اسے ایکسپورٹ بھی کرتا ہے اور افریقہ ایسا خطہ ہے جہاں پاکستانی ادویات کی ایکسپورٹ کا پوٹینشل پایا جاتا ہے۔

میں نے کانفرنس میں شریک مندوبین کو پاکستان آنے اور پاکستان کے فارماسیوٹیکل سیکٹر میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ کانفرنس کے دوران ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل سے میری کئی ملاقاتیں ہوئیں جو دوستانہ تعلقات میں بدل گئیں۔ ڈائریکٹر جنرل نے امریکہ ایران جنگ میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ثالثی کردار کو سراہا اور کہا کہ وہ بہت جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔

پاکستان کے تناظر میں یہ کانفرنس کئی اہم پیغامات لے کر آئی۔ پاکستان دواسازی، طبی تعلیم، سرجری، نرسنگ اور صحت کی افرادی قوت کے شعبوں میں نمایاں صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر ان صلاحیتوں کو اسلامی ممالک کے ساتھ تجارتی اور تحقیقی تعاون سے جوڑا جائے تو نہ صرف برآمدات میں اضافہ ممکن ہے بلکہ صحت کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بھی پیدا کئے جاسکتے ہیں۔ ماریطانیہ کا حالیہ دورہ اس لحاظ سے اہمیت کا حامل تھا کہ افریقہ مستقبل کی معیشتوں اور سرمایہ کاری کا اہم مرکز بنتا جارہا ہے۔ افریقی ممالک صحت، زراعت، توانائی اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تیزی سے ترقی اور سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ 1.5 ارب آبادی پر مشتمل افریقی خطہ مستقبل کی معیشت اور سرمایہ کاری کا اہم مرکز بنتا جارہا ہے جس سے پاکستان بھی فائدہ اٹھاسکتا ہے اور خطے کے ممالک میں پاکستانی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کیلئے ایکسپورٹ کا پوٹینشل پایا جاتا ہے۔ ICDT  کے کئی ممبر اسلامی ممالک جن کا انحصار ادویات کی امپورٹ پر ہے، وہاں کے بزنس مین پاکستان سے ادویات کی امپورٹ اور فارماسیوٹیکل شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ماریطانیہ سے وطن واپسی کے سفر میں یہ احساس ہوا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور جو قومیں علم، تحقیق، صحت اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کریں گی، وہی آنے والے دور کی قیادت کریں گی۔ اسلامی ممالک کیلئے یہ وقت اتحاد، تعاون اور عملی اقدامات کا ہے۔

تازہ ترین