آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کبھی پاکستان کی قومی سیاست سے الگ نہیں رہے۔ کشمیر کا ہر انتخاب صرف قانون ساز اسمبلی کی تشکیل کا مرحلہ نہیں ہوتا بلکہ یہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کی عوامی مقبولیت، سیاسی حکمت عملی اور جمہوری دعوؤں کا بھی امتحان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس مرتبہ انتخابات کو مرحلہ وار منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو سیاسی حلقوں میں اس پر مختلف آرا سامنے آئیں۔
الیکشن کمیشن نے مرحلہ وار پولنگ کے حق میں انتظامی سہولت، امن و امان اور سیکورٹی کے بہتر انتظامات کو بنیاد بنایا۔ اصولی طور پر اگر کسی انتخابی شیڈول کا مقصد ووٹر کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ہو تو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے، لیکن جمہوری نظام صرف قواعد و ضوابط سے نہیں بلکہ تمام سیاسی قوتوں کے اعتماد سے مضبوط ہوتا ہے۔ اگر کسی بڑی سیاسی جماعت کو انتخابی عمل پر تحفظات ہوں تو ان تحفظات کو سنجیدگی سے سننا اور ان کا شفاف جائزہ لینا ریاستی اداروں کی آئینی ذمہ داری ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی مختلف حلقوں میں انتخابی ماحول، انتظامی فیصلوں اور مبینہ بے ضابطگیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
کسی بھی سیاسی جماعت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے تحفظات آئینی، قانونی اور جمہوری فورمز پر پیش کرے۔ اسی طرح الیکشن کمیشن اور متعلقہ اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ ہر شکایت کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تاکہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہو۔لیکن یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے۔اگر ایک جماعت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرے کہ اسے انتخابی میدان میں مساوی مواقع میسر نہیں، اس کے تحفظات کو اہمیت نہیں دی جا رہی اور جمہوری عمل میں خامیاں موجود ہیں، تو پھر اس جماعت کی آئندہ سیاسی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے؟ یہ سوال اسلئے بھی اہم ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کی ایک اہم اتحادی جماعت ہے۔ ملک کی معاشی، آئینی اور سیاسی سمت کے تعین میں اس کی رائے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ اگر وفاق میں شراکت داری کے باوجود انتخابی معاملات پر تحفظات برقرار رہیں اور انکے ازالے کی کوئی مؤثر صورت سامنے نہ آئے تو یقیناً پارٹی کارکنوں کے ذہنوں میں سوالات پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ حالات معمول کے نہیں۔ دہشت گردی، معاشی مشکلات، عالمی سفارتی چیلنجز اور سیاسی تقسیم نے ہر ذمہ دار جماعت کو انتہائی محتاط فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ممکن ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت یہ سمجھتی ہو کہ وفاقی حکومت سے علیحدگی ملک میں مزید سیاسی عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ ایک سیاسی مؤقف ہے اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔تاہم سیاست صرف نیت سے نہیں بلکہ تاثر سے بھی چلتی ہے۔ جب ایک طرف وفاقی حکومت کی حمایت جاری رہے اور دوسری طرف اسی سیاسی ماحول پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جائے تو عام کارکن کے لیے اس تضاد کو سمجھنا آسان نہیں رہتا۔ نظریاتی کارکن جاننا چاہتے ہیں کہ جماعت کا اصل راستہ کیا ہے،مفاہمت یا مزاحمت؟یہاں ماضی کا ایک اہم باب بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ جب صدر آصف علی زرداری نے ’ مفاہمت کی سیاست‘ کو فروغ دیا تو پیپلز پارٹی کے نظریاتی کارکنوں نے پارٹی نظم و ضبط اور قیادت کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے اس حکمت عملی کو قبول کیا۔ خصوصاً پنجاب کے وہ جیالے، جنہوں نے جنرل ضیاء الحق کی آمریت، سیاسی انتقام، جیلوں، کوڑوں، مقدمات اور ہر قسم کی ریاستی سختیوں کا سامنا کیا، انہوں نے شدید تحفظات کے باوجود پارٹی کا دامن نہیں چھوڑا۔لیکن پنجاب کی سیاسی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ 2008 سے 2013 کے دوران جن جماعتوں کے ساتھ مفاہمت کی گئی، وقت گزرنے کے ساتھ وہ اپنے اپنے سیاسی راستوں پر چل پڑیں، جبکہ پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنی تنظیمی اور انتخابی قوت سے محروم ہوتی چلی گئی۔ آج بھی پنجاب میں پارٹی اپنی کھوئی ہوئی سیاسی بنیاد بحال کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ بہت سے کارکن یہ محسوس کرتے ہیں کہ مفاہمت کی سیاست کا سب سے زیادہ سیاسی نقصان خود پیپلز پارٹی نے اٹھایا، جبکہ اس کے ثمرات دوسروں کے حصے میں زیادہ آئے۔اسلئےاگر پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں اس کے تحفظات حقائق پر مبنی ہیں تو انہیں صرف بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ہر قانونی راستہ اختیار کیا جائے، انتخابی ٹریبونلز سے رجوع کیا جائے، شواہد پیش کیے جائیں اور اگر کہیں بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔ لیکن اگر تمام قانونی اور سیاسی کوششوں کے باوجود بھی پارٹی یہ محسوس کرتی ہے کہ اس کے تحفظات مسلسل نظر انداز کیے جا رہے ہیں، تو پھر صرف شکایات دہرانا شاید کافی نہ ہو۔ سیاسی جماعتوں کی اصل طاقت ان کے واضح فیصلوں میں ہوتی ہے، اور بعض اوقات خاموش شراکت داری سے زیادہ مؤثر پیغام ایک دوٹوک سیاسی مؤقف دیتا ہے۔
آخر میں، پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سے نہایت احترام کے ساتھ صرف ایک سوال ہے اور یہ سوال کسی مخالفت یا تنقید کے جذبے سے نہیں بلکہ ایک ایسے کارکن کے احساسات کی ترجمانی ہے جو پیپلز پارٹی کو محض ایک جماعت نہیں بلکہ ایک نظریہ سمجھتا ہے۔اگر واقعی ہمارے تحفظات اتنے ہی سنجیدہ ہیں، اگر انتخابی عمل پر ہمارا اعتماد مجروح ہو چکا ہے، اگر وفاق میں رہتے ہوئے بھی ہماری آواز مطلوبہ انداز میں نہیں سنی جا رہی، تو پھر وفاقی حکومت میں رہنے کی سیاسی، اخلاقی اور نظریاتی ضرورت کیا ہے؟