مراکو کا محل وقوع اِسے غیر معمولی جغرافیائی اہمیت دیتا ہے۔ یہ ملک افریقہ اور یورپ کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتاہے۔ مراکو کے ساحلی شہر تنجیر اور اسپین کے شہر الجزیرات کے درمیان صرف 13 کلومیٹر کا سمندری فاصلہ ہے جبکہ اسپین کے دو شہر سیوتا اور میلیلا مراکو کی سرزمین سے متصل ہیں جو غیر قانونی تارکین وطن کیلئے جنت سمجھے جاتے ہیں۔ افریقہ سے یورپ جانے والے غیر قانونی تارکین وطن کیلئے مراکو سب سے اہم گزرگاہ تصور کیا جاتا ہے، ہر سال ہزاروں افراد اپنی جان خطرے میں ڈال کر کشتیوں اور ربڑ بوٹس کے ذریعے یا باڑیں عبور کرکے یورپی ملک اسپین میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں اسپین کے ان دونوں شہروں سیوتا اور میلیلا سے بخوبی واقف ہوں اور مراکو میں قیام کے دوران میرااکثر اِن شہروں اور جبرالٹر (جبل الطارق) آنا جانا رہا ہے۔
گزشتہ دنوں اسپین کا شہر سیوتا اُس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا جب اچانک 60ہزار سے زائد افراد جن میں بڑی تعداد مراکو اور مغربی صحارا کے نوجوانوں کی تھی، کا ہجوم اسپین کی سرحد پر اُمڈ آیا اور سرحدی باڑ عبور کرکے اسپین کے شہر سیوتا میں داخل ہوگیا۔ اس ہنگامی صورتحال میں 67سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جسکے بعد اسپین حکومت نے فوج طلب کرکے ایمرجنسی نافذ کردی۔ موجودہ صورتحال کا ایک سبب سوشل میڈیا بھی تھا جسکے ذریعے یہ افواہیں تیزی سے پھیلیں کہ اسپین کی سرحد پر سیکورٹی کمزور ہے اور داخلہ آسان ہے۔
ان اطلاعات پر مراکو اور مغربی صحارا کے ہزاروں نوجوانوں نے اسپین کا رخ کیا لیکن سیوتا پہنچ کر خوراک، رہائش اور قانونی حیثیت سے محروم ہونے کے سبب بیشتر افراد واپس اپنے وطن لوٹنے پر مجبور ہوئے۔یورپی یونین گزشتہ کئی برسوں سے مراکوکی سرحدی نگرانی مضبوط بنانے کیلئے مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کررہی ہے۔ اس تعاون کا مقصد غیر قانونی ہجرت روکنا، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو ختم کرنا اور سرحدی نظم و نسق کو بہتر بنانا ہے۔ اس سلسلے میں مراکو حکومت بھی بھرپور اقدامات اور ایک مشکل توازن برقرار رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔ ایک طرف وہ یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط رکھنا چاہتی ہے اور غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کیلئے اقدامات کرتی ہے جبکہ دوسری طرف اِسے انسانی حقوق کے تقاضوں اور بین الاقوامی قوانین کا احترام بھی کرنا پڑتا ہے۔
مالی، سینیگال، گنی، آئیوری کوسٹ، نائیجر، چاڈ اور دیگر افریقی ممالک میں غربت، سیاسی عدم استحکام، دہشت گردی، خانہ جنگی اور موسمیاتی تبدیلیوں نے لاکھوں افراد کو نقل مکانی پر مجبور کیا ہے۔ ان ممالک کے تارکین وطن مراکو کو یورپ پہنچنے کا آخری پڑاؤ سمجھتے ہیں اور طویل اور خطرناک سفر کے بعد مراکو پہنچتے ہیں جہاں سے وہ غیر قانونی طریقے سے اسپین یا دیگر یورپی ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستانیوں کے ذہن میں گزشتہ سال جنوری میں مراکو کے ساحلی شہر دخلا کے قریب کھلے سمندر میں کشتی ڈوبنے کا واقعہ آج تک تازہ ہے جسکے نتیجے میں 44پاکستانی جاں بحق ہوئے تھے۔ یہ پاکستانی کشتی میں سوار ہوکر غیر قانونی طریقے سے اسپین جارہے تھے۔
گوکہ مراکو ترقی پذیر معیشت ہے اور اس کی صنعتیں، سیاحت، آٹوموبائل، فاسفیٹ، زرعی برآمدات اور قابل تجدید توانائی کے منصوبے اِسے افریقہ کی نسبتاً مضبوط معیشتوں میں شامل کرتےہیں، اسکے باوجود بیروزگاری، رہائشی اخراجات میں اضافہ، پانی کی قلت اور دیہی علاقوں کی محرومیوں نے سماجی بے چینی کو جنم دیا ہے۔
مراکو کے ساحلوں سے یورپ کی جانب اٹھنے والی یہ انسانی لہر صرف غیر قانونی ہجرت کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی معاشی نظام کی عکاس ہے جس میں مواقع کی غیر مساوی تقسیم لاکھوں انسانوں کو اپنی جان خطرے میں ڈالنے پر مجبور کر دیتی ہے اور حالیہ واقعہ صرف مراکو یا اسپین کامسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کا ہے۔ موجودہ بحران صرف سرحدی نگرانی کا معاملہ نہیں بلکہ جدید عالمی نظام کے اُس تضاد کی علامت ہے جہاں ایک طرف خوشحالی، ترقی اور مواقع کا انبار ہے تو دوسری طرف غربت، بے روزگاری، قحط، جنگ اور مایوسیاں ہیں۔ یہی عدم توازن انسانوں کو غیر قانونی ہجرت پر مجبور کرتا ہے۔ جب تک افریقی اور دیگر پسماندہ ممالک میں سرمایہ کاری، روزگار، تعلیم، صحت، زرعی ترقی، پانی کے منصوبوں اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے موثر اقدامات نہیں کئے جائیں گے، ان ممالک کے باشندوں کا غیر قانونی طور پر ترقی یافتہ ممالک کی طرف نقل مکانی کا دباؤ برقرار رہے گا۔
یورپی ممالک کو سرحدیں بند کرنے کے بجائے افریقی اور دیگر پسماندہ ممالک کے ساتھ ترقیاتی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ قانونی ہجرت کے شفاف راستے، ہنرمند کارکنوں کیلئے ویزا پروگرام اور نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہوں گے۔ غیر قانونی طور پر یورپ ہجرت کرنے والے تارکین وطن کی روک تھام کیلئے صرف باڑیں، فوج اور سرحدی نگرانی مسئلے کا مستقل حل نہیں بلکہ اس کیلئے غربت، بیروزگاری، سیاسی عدم استحکام اور ترقیاتی عدم مساوات جیسے بنیادی اسباب کا سدباب ضروری ہے۔