• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ معیشت دباؤ کا شکار ہے، بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے، پانی کی تقسیم پر تنازعات شدت اختیار کر رہے ہیں، وفاقی اکائیوں میں اعتماد کی فضا کمزور پڑ رہی ہے اور عوام کی بنیادی ترجیح روزگار، امن، تعلیم اور صحت ہے۔ ایسے حالات میں اگر قومی بحث کا رخ اچانک نئے صوبوںکی طرف موڑ دیا جائے تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا واقعی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے، یا اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟

سندھ کے سیاسی شعور سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ اس صوبے نے وفاق کو ہمیشہ مضبوط دیکھنے کی خواہش کی ہے، لیکن ساتھ ہی اس نے اپنے آئینی حقوق، وسائل، ثقافت اور شناخت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی وفاقی شخصیت کی جانب سے نظام کی ناکامی یا نئے صوبوں جیسے حساس موضوعات پر گفتگو ہوتی ہے تو سندھ میں اس کے سیاسی اثرات محض ایک بیان تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ تاریخی پس منظر کے تناظر میں دیکھے جاتے ہیں۔

ایک سندھی قوم پرست اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حامی کی حیثیت سے سب سے پہلا سوال یہی بنتا ہے کہ اگر نظام واقعی ناکام ہے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ کیا آئین ناکام ہوا ہے یا آئین پر عمل درآمد ناکام ہوا ہے؟ کیا صوبائی خودمختاری ناکام ہوئی ہے یا اسے مکمل طور پر نافذ ہی نہیں کیا گیا؟ کیا اٹھارہویں آئینی ترمیم ناکام ہوئی ہے یا آج بھی اسے دل سے قبول نہیں کیا گیا؟پاکستان میں بارہا ثابت ہو چکا ہے کہ اداروں کی کمزوری کا علاج آئینی ڈھانچہ توڑنا نہیں بلکہ آئینی اداروں کو مضبوط کرنا ہے۔ اگر ہر انتظامی مسئلے کا جواب نئی سرحدیں کھینچنا ہوتا تو دنیا کا ہر ملک ہر دس سال بعد اپنے نقشے تبدیل کر رہا ہوتا۔

یہاں ایک اہم تقابل قابلِ غور ہے۔ا فغانستان میں 34صوبے ہیں۔ کیا زیادہ صوبے ہونے کی وجہ سے افغانستان جنوبی ایشیا کا سب سے مستحکم اور خوشحال ملک بن گیا؟ جواب سب کے سامنے ہے۔ کئی دہائیوں کی جنگ، سیاسی عدم استحکام، کمزور ادارے اور معاشی بحران نے یہ ثابت کیا کہ صرف انتظامی اکائیوں کی تعداد ترقی کی ضمانت نہیں بنتی۔دوسری طرف بنگلہ دیش میں صوبوں کا نظام ہی موجود نہیں۔ وہاں صرف آٹھ انتظامی ڈویژن ہیں۔

اس کے باوجود گزشتہ دو دہائیوں میں اس نے برآمدات، خواتین کی معاشی شمولیت، ٹیکسٹائل انڈسٹری، بنیادی صحت، تعلیم اور کئی سماجی اشاریوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ترقی کا تعلق نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے سے زیادہ بہتر حکمرانی، پالیسی کے تسلسل، سرمایہ کاری، قانون کی حکمرانی اور ادارہ جاتی صلاحیت سے ہوتا ہے۔

لہٰذا اگر کوئی یہ تاثر دیتا ہے کہ پاکستان کے مسائل کا بنیادی حل نئے صوبے ہیں تو یہ کم از کم ایک ادھورا تجزیہ ضرور ہے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ موجودہ صوبوں کو آئین کے تحت حاصل اختیارات مکمل طور پر کیوں نہیں دیے گئے؟ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس باقاعدگی سے کیوں نہیں ہوتے؟ این ایف سی ایوارڈ میں تاخیر کیوں ہوتی ہے؟ پانی کی تقسیم پر آئینی طریقہ کار پر مکمل عمل کیوں نہیں کیا جاتا؟ مقامی حکومتوں کو مؤثر مالی اور انتظامی اختیارات کیوں نہیں دیے جاتے؟

پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف بھی مسلسل یہی رہا ہے کہ وفاق کو مضبوط کرنا ہے تو آئین 1973ء کی روح پر عمل کیا جائے۔

اٹھارہویں آئینی ترمیم کسی ایک جماعت کی نہیں بلکہ وفاق کی بقا کی علامت ہے۔ اگر اس ترمیم کے تحت منتقل ہونے والے اختیارات پر مکمل عمل درآمد کر دیا جائے، مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے اور صوبوں کو ان کے آئینی حقوق دیے جائیں تو بہت سے انتظامی مسائل خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔نئے صوبوں کی بحث اس وقت زیادہ معنی خیز ہوتی جب ملک میں انتظامی انصاف، مالی خودمختاری، مقامی حکومتوں کی مضبوطی اور آئینی اداروں کی فعالیت اپنی بہترین شکل میں موجود ہوتی۔ لیکن جب موجودہ آئینی ذمہ داریاں ہی مکمل طور پر ادا نہ ہو رہی ہوں تو نئی تقسیم کی بحث عوام کے بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کا تاثر پیدا کرتی ہے۔

سندھ صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ہزاروں سال پر محیط تہذیب، زبان، ادب، ثقافت اور تاریخی شناخت کا امین ہے۔ سندھ کے بارے میں کوئی بھی سیاسی یا انتظامی تجویز صرف انتظامی معاملہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے سماجی، تاریخی اور قومی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ اسی لیے ایسے معاملات پر غیر معمولی احتیاط، وسیع سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی طریقۂ کار ناگزیر ہے۔

اگر واقعی نظام میں خرابی ہے تو اس کا علاج یہ ہے کہ پولیس، عدلیہ، تعلیم، صحت، بلدیاتی اداروں، سول سروس، ریونیو نظام اور احتسابی ڈھانچے میں اصلاحات کی جائیں۔ نوجوانوں کو روزگار دیا جائے، صنعت کو فروغ دیا جائے، پانی کے تنازعات آئین کے مطابق حل کیے جائیں، اور ہر صوبے کو یہ یقین دلایا جائے کہ وفاق اس کے ساتھ مساوی سلوک کرے گا۔

پاکستان کی وحدت اس وقت مضبوط ہوگی جب بلوچستان خود کو محفوظ محسوس کرے، خیبر پختونخوا خود کو برابر کا شریک سمجھے، پنجاب اپنی اکثریتی حیثیت کے ساتھ وفاقی توازن کا محافظ بنے، اور سندھ کو یہ اعتماد حاصل ہو کہ اس کے آئینی، معاشی اور ثقافتی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے مسائل کا حل نقشے بدلنے میں نہیں بلکہ حکمرانی بدلنے میں ہے۔ اگر نظام میں خرابی ہے تو اسے آئین کی روشنی میں درست کیا جائے۔ اگر ادارے کمزور ہیں تو انہیں مضبوط بنایا جائے۔ اگر عوام ناراض ہیں تو ان کا اعتماد بحال کیا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم اور باوقار وفاق بنا سکتا ہے۔

تازہ ترین