اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے اسرائیلی شہریوں کو مسلح کرنے کی پالیسی جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں شہریوں اور بستیوں کو اسلحہ رکھنے کے اہل علاقوں میں تبدیل کرتا رہوں گا۔
اسرائیلی وزیر بن گویر کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اٹارنی جنرل نے ان کے دفتر کے ارکان کے خلاف جاری تحقیقات کی فائلیں بند کرنے کی سفارش کی۔
تحقیقات میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ بن گویر کے دفتر اور ان کی براہ راست نگرانی میں دسیوں ہزار اسلحہ لائسنس مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے جاری کیے گئے۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیش کار یہ بھی جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ آیا مبینہ بے ضابطگیوں سے بن گویر کا براہِ راست تعلق تھا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے بیان میں بن گویر نے تحقیقات کو اپنے اور اپنے دفتر کے خلاف ’انتقامی کارروائی‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ 7 اکتوبر 2023ء کے بعد تقریباً 300,000 اسرائیلی شہریوں کو اسلحہ رکھنے کے لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔
بن گویر کا کہنا ہے کہ میں اسرائیلی شہریوں کو مسلح کرنے کی پالیسی پوری قوت سے جاری رکھوں گا۔
انہوں نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی اہلیت جانچیں اور اسلحہ حاصل کریں کیونکہ ایک ہتھیار جان بچا سکتا ہے۔