• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں جب بھی اقبال پارک کے پاس سے گزر تا ہوں تو نہ چاہتے ہوئے بھی میرے قدم خود بخود جیسے جکڑے جاتے ہیں۔ میں مینارِ پاکستان کے سائے میں کھڑا اُس منظر کو تصوراتی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں جب عوام آزاد فضاؤں میں سانس لینے کی تڑپ میں بے چین اور ہر قربانی دینے کے لیے تیار، رنگ نسل عصبیت زبان ہر شے سے بے نیاز محض ایک ہی لگن میں مبتلا تھے صرف اور صرف آزادی۔ ہر قیمت اور ہر صورت میں آزادی وہ جانتے تھے آزادی حاصل ہو گئی تو اگلے چیلنجز ان کے لیے غلامی سے کہیں زیادہ تکلیف دہ صبر آزما اور دشوار ہوں گے لیکن وہ پھر بھی پر عزم تھے۔ وہ نسل جس نے آزادی کے لیے قربانیاں دیں جس نے اس تمام جدوجہد کو اپنی آنکھوں سے دیکھا سنا، یا ان حالات کا مشاہدہ کیا وہ معدوم ہو چکی ہے۔ ہمیں پاکستان کے سماجی سیاسی معاشی اور معاشرتی مسائل بہت جلد مایوسی اور بد دلی کی جانب راغب کر دیتے ہیں لیکن میں مینارِ پاکستان کے سائے میں کھڑا مشکلات مسائل اور دشواریوں میں گھِرے پاکستان کو کسی اور ہی نظر سے دیکھ رہا ہوں۔

میں دیکھ رہا ہوں لاہور کی سڑکوں پر سبز ہلالی پرچم لہرا رہے ہیں، مگر جشن کا انداز بدل چکا ہے۔ آسمان پر ڈرونز کی ایک قطار پاکستان کا قومی نشان بناتی نظر آتی ہے۔اب سبز جھنڈوں میں لپٹی شہر کی بیشتر گاڑیاں خودکار ہیں۔ بچے مقامی اسکولوں کی بجائے دنیا کے مختلف حصوں میں موجود طلبہ کے ساتھ ورچوئل کلاس رومز میں تعلیم پا رہے ہیں۔ اسپتالوں میں مصنوعی ذہانت اور خود کار مشینیں ڈاکٹروں کی معاون ہیں، کسان کھیتوں میں جانے سے پہلے اپنے موبائل پر فصل، موسم اور پانی کی ضرورت کا مکمل احوال دیکھ رہے ہیں اور ایک نوجوان پاکستانی،دنیا کے کسی دوسرے ملک میں بیٹھ کر پاکستان کی کمپنی چلا رہا ہے۔ پھر میرے دل میں سوال ابھرتا ہے کیا ہم آزادی کو صرف 14اگست کے دن سبز کپڑے پہننے، جھنڈیاں لگانے باجے بجانے،ہلڑ بازی اور ملی نغمے سننے تک محدود رکھیں گے؟یا ہم آزادی کے نئے تقاضوں کو سمجھنے کیلئے خود کو تیار کر چکے ہیں؟ کیونکہ مستقبل اچانک نہیں در آتا۔ وہ آج ہمارے فیصلوں، ترجیحات اور افعال میں کہیں نشوونما پا رہا ہوتا ہے۔1947ء کا پاکستان تب کے خواب کی تعبیر تھا۔ 2050ء کا پاکستان ہماری موجودہ سوچ اورترجیحات کی تعبیر ہوگا۔یہ فرق سمجھنا شاید یومِ آزادی کا سب سے اہم تقاضا ہے۔ہم اپنے ماضی کی غلطیوں پر سر پیٹتے اور آج کی مشکلات و محرومیوں کا نوحہ تو پڑھتے ہیں اپنے آنے والے کل کیلئے سوچنا گوارا کیوں نہیں کرتے۔ ماضی کی غلطیوں کو درست نہیں کیا جا سکتا لیکن ان سے سیکھا تو جا سکتا ہے۔ اپنے آج کے مسائل ختم نہیں کیے جا سکتے لیکن ان پر قابو پانے کی کوشش تو کی جا سکتی ہے،اپنے آنے والے کل کے متعلق ہم خدشات کا اظہار تو کرتے ہیں لیکن ان خدشات کے تدارک اور مستقبل کے چیلنجز کیلئے فکر مند اور سنجیدہ کیوں نہیں ہوتے۔ہم نے آزادی حاصل کی تو ہمارا سب سے بڑا مسئلہ اپنی شناخت، محدود وسائل میں ترقی اور اپنے سیاسی مستقبل کا تعین تھا۔ تب ہمیں اپنے دشمن ممالک سے سرحدی بقا کے خطرات لاحق تھے لیکن اب مقابلہ سرحدوں نہیں بلکہ علم، ٹیکنالوجی، تخلیق، معیشت، مصنوعی ذہانت، ہنر مندی اور انسانی صلاحیتوں کے درمیان ہے۔دنیا بدل چکی اور مسلسل بدل رہی ہے اور اس تبدیلی کی رفتار ہماری توقع اور سوچ سے بھی زیادہ تیز ہے۔ وہ نوکریاں جنہیں ہم آج مستقبل کی محفوظ ملازمتیں سمجھتے ہیں، ممکن ہے کل انکا وجود ہی باقی نہ رہے۔ وہ کاروبار جو آج کامیابی کی علامت ہیں، ممکن ہے آنیوالی دہائی میں اپنی جگہ نئی ٹیکنالوجیز کے باعث بے سود ہو جائیں۔ مصنوعی ذہانت صرف کمپیوٹر تک محدود نہیں رہے گی بلکہ تعلیم، طب، زراعت، صنعت، صحافت، فنون اور زندگی کے ہر شعبہ کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ ایسے میں ایک قوم کی اصل آزادی کی تعریف کیا ہوگی؟ علم کی آزادی، سوچ اور تخلیق کی آزادی۔ شاید سب سے بڑھ کر دوسروں کی بنائی ہوئی دنیا کے صارف بننے کی بجائے اپنی دنیا بنانے کی آزادی۔یہیں سے یومِ آزادی کا ایک نیا تصور جنم لیتا ہے۔ہم نے 1947ءمیں جغرافیہ حاصل کیا تھا، اب ہمیں مستقبل حاصل کرنا ہے۔یہ کام محض کسی ایک حکومت، سیاسی جماعت یا ادارے کے بس کی بات نہیں۔ یہ پورے معاشرے کا اجتماعی مقصد ہونا چاہئے۔ آج پاکستان کی سب سے بڑی دولت شاید اس کے وسائل یا معدنی ذخائر نہیں، بلکہ اس کے نوجوان ہیں۔ نوجوان جو اگر درست تعلیم، ٹیکنالوجی، حوصلہ افزائی، بہترین حکمتِ عملی،مواقع اور سمت کے حامل ہو جائیں تو پاکستان دنیا کی سب سے بڑی تخلیقی طاقتوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی نوجوان صرف ڈگریوں اور معمولی نوکریوں کے حصول کے لئے جوتیاں چٹخاتے رہے، تو مستقبل ہماری اس طاقت کو بوجھ بھی بنا سکتا ہے۔ آنیوالے دنوں میں شایدجنگیں سرحدوں پر نہیں، کلاس رومز میں لڑی جائیں۔ جنگیں اب صرف عددی برتری یا طاقت کے نہیں، انسانی ذہانت اور تکنیکی مہارت کے بل پر جیتی جائینگی۔ ہمیں آج یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ 2050ء کا پاکستانی نوجوان دنیا سے روزگارکی بھیک مانگے گا یا دنیا کو اپنی صلاحیتیں فروخت کریگا؟ کیا وہ بیرون ملک جانے کا خواب دیکھے گا یا پاکستان میں بیٹھ کر عالمی کمپنیاں چلائے گا؟کیا وہ دوسروں کی ٹیکنالوجی پر انحصار کرے گایا دنیا پاکستان کی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی استعمال کرے گی؟ ہمیں جشنِ آزادی کو ماضی کی یادگار سے نکال کر مستقبل کی حکمتِ عملی میں ڈھالنا ہوگا۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف قائداعظم کے قصے یاد کروانے کی بجائے انہیں قائداعظم کی سوچ اور وژن سمجھانا ہوگا۔ انہیں یہ بتانا ہوگا کہ قومیں وسائل سے نہیں، وژن سے پنپتی ہیں۔ہمیں اپنی زبانوں اور ثقافتوں کو بھی مستقبل کی ٹیکنالوجی اور تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ زبانیں صرف کتابوں، مشاعروں یا ثقافتی تقریبات تک محدود نہیں رہنی چاہئیں۔ مصنوعی ذہانت کے دور میں ہماری زبانوں کا ڈیجیٹل وجود بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا انکا ادبی وجود۔صاف پانی،معیاری خوراک، توانائی اور موسمیاتی تبدیلی آنیوالی دہائیوں کے بڑے چیلنجز ہوں گے۔ جو ملک آج ان مسائل کو سنجیدگی سے لیگا، وہ کل محفوظ ہوگا۔ جو انہیں نظر انداز کرے گا، اسے مستقبل میں بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔مجھے مینارِ پاکستان کے سائے میں کھڑے ہوئے دہائیوں پہلے قائدِ اعظم محمد علی جناح کے رفیقِ خاص رفیع بٹ کی یہ بات بار بار ذہن میں آرہی تھی کہ ہمیں اپنے نوجوانوں کو عملی تربیت سے آراستہ تعلیم دینا ہو گی۔ افسوس کہ ہم آج بھی کلرک پیدا کرنے، ملک، سیاستدانوں، حالات اور اداروں کو کوسنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اپنے حصے کا کوئی کام کرنے کیلئے نہ تیار ہیں نہ فکر مند۔

(مصنف جناح رفیع فاؤنڈیشن کے چیئرمین ہیں)

تازہ ترین