• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ محض پاکستان کے نقشے پر موجود ایک انتظامی وحدت کا نام نہیں، بلکہ یہ ہزاروں سال کی تہذیبی یادداشت، دریائے سندھ کی روانی، موہن جو دڑو کے آثار، شاہ عبداللطیف بھٹائی کے پیغام، صوفی روایت، بندرگاہوں، کھیتوں، صحراؤں، پہاڑوں اور مختلف زبانیں بولنے والے کروڑوں انسانوں کے مشترکہ گھر کا نام ہے۔ سندھ کی وحدت کا سوال محض جغرافیے کا سوال نہیں، بلکہ تاریخ، ثقافت، معیشت، وفاق اور پاکستان کے اجتماعی استحکام کا سوال ہے۔پاکستان کی تاریخ کا المیہ یہ رہا ہے کہ جب بھی ریاست کو سیاسی، معاشی یا انتظامی بحرانوں کا سامنا ہوا، مسائل کی بنیادی وجوہ تلاش کرنے کے بجائے کبھی نئے انتظامی نقشوں، کبھی صوبوں کی تقسیم اور کبھی لسانی بنیادوں پر نئی اکائیوں کے قیام کو آسان حل کے طور پر پیش کیا گیا۔ سندھ بھی بارہا ایسی بحثوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ کبھی کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی بات کی گئی، کبھی شہری اور دیہی سندھ کو دو مختلف سیاسی حقیقتیں قرار دے کر ان کے درمیان نفسیاتی دیوار کھڑی کرنے کی کوشش ہوئی اور کبھی انتظامی سہولت کے نام پر ایسی تجاویز سامنے آئیں جن کے سیاسی اثرات انتظامی فوائد سے کہیں زیادہ گہرے تھے۔یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کراچی سندھ سے الگ کوئی جزیرہ یا خطہ نہیں، بلکہ کراچی سندھ کا دارالحکومت، پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور قومی معیشت کا اہم ترین انجن ہے۔ کراچی کی ترقی پورے پاکستان کی ترقی ہے، لیکن کراچی کی تاریخی سندھی شناخت کو تسلیم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ کراچی میں اردو، سندھی، پشتو، پنجابی، بلوچی، سرائیکی، گجراتی، میمنی اور دوسری زبانیں بولنے والے لوگ آباد ہیں اور یہی تنوع اس شہر کی طاقت ہے۔ کسی ایک زبان، نسل یا گروہ کو کراچی کا واحد وارث قرار دینا اتنا ہی غلط ہے جتنا کسی شہری کو یہ احساس دلانا کہ وہ سندھ میں برابر کا شہری نہیں۔

پاکستان کے قیام کے بعد سندھ نے ایک غیر معمولی تاریخی تبدیلی دیکھی۔ تقسیمِ ہند کے نتیجے میں لاکھوں مسلمان مہاجرین نے سندھ کے مختلف شہروں، خصوصاً کراچی اور حیدرآباد، کو اپنا گھر بنایا۔ سندھ نے انہیں اپنے دامن میں جگہ دی اور انہوں نے اپنی تعلیم، تجارت، صنعت، ادب اور محنت کے ذریعے سندھ اور پاکستان کی تعمیر میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس تاریخی حقیقت کو تصادم کی بنیاد بنانے کے بجائے مشترکہ ورثے کے طور پر قبول کرنا چاہیے۔ آج سندھ میں پیدا ہونے والی نئی نسلیں، ان کے آباؤ اجداد خواہ کہیں سے بھی آئے ہوں، اس دھرتی کی شہری ہیں۔

سندھ کے عوام کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ صوبے کی وحدت کا دفاع صرف نقشے کی حفاظت سے نہیں ہوگا۔ اگر تھر کے بچے کو تعلیم نہ ملے، کشمور کے شہری کو امن نہ ملے، بدین کے کسان کو پانی نہ ملے، لاڑکانہ کے مریض کو معیاری علاج نہ ملے اور کراچی کے نوجوان کو میرٹ پر روزگار نہ ملے تو محض تاریخی نعروں سے وحدت مضبوط نہیں ہوگی۔ وحدت کا سب سے مضبوط قلعہ انصاف ہے۔ سندھ حکومت سمیت ہر صوبائی ادارے کی ذمہ داری ہے کہ وہ عملی طور پر ثابت کرے کہ سندھ کی وحدت ہر ضلع، ہر زبان اور ہر شہری کے مفاد میں ہے۔

پاکستان کا آئین وفاق اور صوبوں کے درمیان ایک سیاسی معاہدہ ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم نے صوبائی خودمختاری کے تصور کو مزید مضبوط کیا۔ اس خودمختاری کا مقصد وفاق کو کمزور کرنا نہیں بلکہ آئینی اعتماد، مشترکہ مفادات اور باہمی تعاون کی بنیاد پر اسے مضبوط بنانا تھا۔ ہمیں یہ بنیادی اصول تسلیم کرنا چاہیے کہ پاکستان محض جغرافیائی حدود کا نام نہیں بلکہ وفاقی اعتماد کا نام ہے۔ اسلام آباد تب مضبوط ہوگا جب کراچی، کوئٹہ، پشاور اور لاہور خود کو آئینی نظام میں محفوظ محسوس کریں گے سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور پنجاب محض انتظامی اصطلاحات نہیں۔ ان کے ساتھ تاریخ، زبان، ثقافت اور اجتماعی شناخت وابستہ ہے۔ انتظامی اصلاحات ضروری ہوسکتی ہیں، نئے اضلاع بن سکتے ہیں، ڈویژن تبدیل ہوسکتے ہیں لیکن کسی تاریخی صوبے کی تقسیم کو محض ایک معمولی انتظامی تجربہ سمجھنا دانشمندی نہیں ہوگی۔کراچی کی بندرگاہیں، صنعتی زون، مالیاتی ادارے، توانائی کے وسائل، زراعت اور کاروباری سرگرمیاں پورے ملک کے معاشی نظام سے جڑی ہوئی ہیں۔ سندھ کو کمزور کرکے پاکستان مضبوط نہیں ہوسکتا اور پاکستان کو کمزور کرکے سندھ خوشحال نہیں ہوسکتا۔ دونوں کا مستقبل ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔آج دنیا مصنوعی ذہانت، جدید صنعت، قابلِ تجدید توانائی، ڈیجیٹل معیشت اور علم کی نئی سرحدوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو لسانی تنازعات ورثے میں دیں گے یا جدید جامعات، تحقیق، صنعت، بندرگاہیں، ٹیکنالوجی اور روزگار۔ سندھ کی زمین پر بیٹھ کر اگر ہم صرف یہ بحث کرتے رہیں کہ کون پہلے آیا اور کون بعد میں، تو دنیا ہم سب سے آگے نکل جائے گی۔ سندھی، اردو بولنے والے، پشتون، بلوچ، پنجابی اور دیگر برادریاں اگر ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو سندھ اور پاکستان کی مشترکہ طاقت سمجھیں تو کراچی سے کشمور تک ایک ایسا معاشی خطہ وجود میں آسکتا ہے جو پورے خطے میں پاکستان کی قوت بنے۔

سندھ کی وحدت کیخلاف اصل سازش صرف نقشے پر لکیر کھینچنے کی کوشش نہیں اصل خطرہ وہ ہر عمل ہے جو سندھ کے لوگوں کو ایک دوسرے سے بدظن کرے۔ نفرت انگیز سیاست، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، میرٹ کی پامالی، کرپشن، ناقص حکمرانی اور لسانی تعصب وہ دیمک ہیں جو وحدت کو اندر سے کھاتی ہیں۔ اگر ہم واقعی سندھ کو متحد رکھنا چاہتے ہیں تو ان بیماریوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

ہمیں ایسا سندھ چاہیے جو اپنی ہزاروں سالہ شناخت پر فخر کرے مگر مستقبل کی طرف بھی دیکھے۔ ایسا سندھ جو اپنے آئینی حقوق پر سمجھوتہ نہ کرے مگر دوسرے صوبوں کے حقوق کا بھی احترام کرے۔ ایسا سندھ جو اپنی وحدت پر قائم رہے مگر اپنے اندر بسنے والی ہر زبان اور ہر برادری کو دل سے قبول کرے۔ اور ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جس کی طاقت مرکز کی بالادستی سے نہیں بلکہ اسکے صوبوں کے اعتماد سے پیدا ہو۔ سندھ مضبوط ہوگا تو پاکستان مضبوط ہوگا، بلوچستان خوشحال ہوگا تو پاکستان خوشحال ہوگا، خیبرپختونخوا پُرامن ہوگا تو پاکستان محفوظ ہوگا اور پنجاب ترقی کرے گا تو اس ترقی کے ثمرات پورے وفاق تک پہنچنے چاہئیں۔ یہی سندھ کی وحدت کا مقدمہ ہے اور یہی پاکستان کی وحدت کا راستہ بھی۔

تازہ ترین