• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں سمجھ سکتا ہوں ۔ میں محسوس کر سکتا ہوں کہ آپ مجھ سے کچھ پوچھنا چاہتے ہیں ۔ آپ کچھ جاننا چاہتے ہیں۔ درست ۔ آپ کے تجسس کو میں سمجھ سکتا ہوں ۔ آپ کے تجسس کا میں احترام کرتا ہوں میں آپ کے بنیادی حقوق کی قدر کرتا ہوں آپ پوچھنا چاہتے ہیں نا کہ میں ایک صوبے کا بٹوارہ کیوں کرنا چاہتا ہوں ؟ تاریخ کو ملیا میٹ کرنے کی اجازت مجھے کس نے دی ہے ؟ ایک بنی بنائی چیز کا تیا پانچا کرنے کی منظوری مجھے کس نے دی ہے؟ میں آپ کے بنیادی حقوق کا احترام کرتا ہوں آپ کے جی میں جو آئے، آپ پوچھ سکتے ہیں ۔ مگرآپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کے تمام بنیادی حقوق پبلک پراپرٹی نہیں ہوتے ۔ رازوں میں پوشیدہ حقوق کو آپ عیاں نہیں کرسکتے۔ آپ رازوں سے پردہ اٹھا نہیں سکتے ۔ اس نوعیت کی اجازت آپ کو کہیں سے مل نہیں سکتی ۔ ثابت ہوا کہ آپ کے بنیادی حقوق پر بھی قدغن لگی ہوئی، میرا خیال ہے کہ ہمیں بنیادی باتوں کو نہیں بلکہ حقوق کو بھول جانا چاہیے ۔ بنیادی حقوق کے بارے میں زیادہ بک بک کرنے سے کچھ اچھا حاصل نہیں ہوتا پتہ تب چلتا ہے، جب اچانک مصیبتوں کے دروازے ایک ایک کر کے کھلنے لگتے ہیں اور آپ گم ہو جاتے ہو۔

میں کوئی بےحس آدمی نہیں ہوں مجھے اپنے بنیادی حقوق عزیز ہیں۔ اسی طرح مجھے آپ کے بنیاد ی حقوق بھی عزیز ہیں بات کچھ یوں ہے میرے بھائیو اور بہنو۔ ہم نہیں ہونگے، اچانک کھڑے کھڑےغائب ہو جائیں گے،پھر بنیادی حقوق کس بات کے؟ ہم نہ ہونگے تو ہمارے بنیادی حقوق بھی بھولی بسری کہانی بن جائیں گے ۔ اس لیے میری بہنواور بھائیو، زندہ رہیں اور بنیادی باتیں بلکہ بنیادی حقوق بھول جائیں۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ آپ جب نہیں ہوں گے تو پھر بنیادی حقوق کس کام کے ردی بیچنے اور خریدنے والے بھی آپ کے بنیادی حقوق کی کہانیاں نہیں خریدیں گے۔

یہاں ، میں بچ بچا کے آپ کو اتنا بتا سکتا ہوں کہ بنے بنائے تاریخی صوبوں کو توڑ مروڑ کر چھوٹے چھوٹے صوبے بنانے کا نایاب خیال میرا اپنا ہے آخر کار یہ میرا اپنا وطن ہے میں جب چاہوں اس میں انتظامی امور کی نئی نئی شکلیں لا سکتا ہوں۔ آپ اس وقت جو سوچ رہے ہیں ویسا نہیں ہے۔ صوبوں کو توڑ کر چھوٹے چھوٹے صوبے بنانے کے احکامات مجھے وہاں سے نہیں ملے ہیں ، جن کی طرف آپ کا خیال جارہا ہے۔ اس وقت وہ ملک کو مضبوط معاشی اور اقتصادی بنیادوں پر کھڑا کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ طے ہے کہ صوبے بڑے ہوں یا صوبے چھوٹے ہوں، صوبے ان کی منشا کے مطابق چلتے رہیں گے ۔

سنانے والے سناتے ہیں کہ ایسے احکامات بھی آگئے تھے کہ چار صوبوں کو توڑ کر چوبیس صوبوں میں بانٹ دیا جائے ۔ پھر کسی سیانے نے سوال اٹھایا کہ چوبیس نئے صوبوں کے لیے چوبیس گورنر، ان کا عملہ کہاں سے لاؤ گے ؟ چو بیس صوبوں کے لیے چوبیس وزرائے اعلیٰ کہاں سے آئیں گے ؟ ان سب کے ہزاروں چیف سیکر یٹری اور عملہ کہاں سے آئے گا ؟ اعلیٰ خاندانی وزیروں اور مشیروں کی فوج ظفر موج کہاں سے آئے گی؟ میرے بیچ میں پڑنے سے بات بگڑنے سے بچ گئی طے ہوا کہ ایک پرانے صوبے کو توڑ کر دو یا تین چھوٹے چھوٹے صوبےبنائے جائیں گے۔

میں بھی بڑا کائیاں قسم کا آدمی ہوں۔ انہماک سے صوبے کے بٹوارےپر کاغذی کارروائیاں کر رہا ہوں میں کبھی صوبے کو تقسیم کرتے ہوئے سر ریڈ کلف والی غلطیاں ہرگز نہیں کروں گا ۔ Sir Radcliffe جب ہندستان کا بٹوارہ کرنے کے لیے پہنچے تو یہ ان کی ہندوستان کی پہلی اور آخری یاترا تھی ہندوستان کو تقسیم کرنے کے لیے ان کے پاس گنتی کے کچھ دن تھے انہوں نے ایسی سرحدیں کھینچیں کہ مکانوں کے ایوان اورکمرے تک تقسیم ہو گئے ہندومسلم فسادات کا سر ریڈ کلف واحد ذمہ دار تھا۔ اس قدر خوفناک فسادات تھے کہ اقوام متحدہ کے پاس بھی مکمل اعداد و شمار نہیں کہ ہندومسلم فسادات میں کتنے لاکھ ہندو،مسلمان اور سکھ مارے گئے تھے، عورتیں اور بچے اغوا ہوئے تھے ۔ ایک شخص اس سانحہ کا ذمہ دار تھا، اوروہ تھا سر ریڈ کلف۔ میں تاریخ کا ادنیٰ طالب علم ہوں میں سر ریڈ کلف جیسی فاش غلطیاں نہیں کروں گا ویسے بھی ہندستان کے بٹوارے کے دوران دو قومیں ہندو اور مسلمان آمنے سامنے تھیں ،صوبوں کی توڑ پھوڑ میں ایسی صورت حال سامنے نہیں آئے گی ایک ہی قوم کے درمیان بھائی چارےسے بٹوارا ہوگا ۔ بٹوارے کے بعد لوگ ایک دوسرے کو پھولوں کے گلدستے دیکر رخصت کریں گے ۔

تازہ ترین