• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کل انور شعور صاحب کا فون آیا، امریکا یاترا کے بارے لکھے گئے ہمارے گزشتہ چند کالموں پرانتہائی دل تبصرہ کیا، فرمانے لگے "ماشا اللہ آپ بغیر موضوع کے بھی خاصا ریڈ ایبل کالم لکھ لیتے ہیں۔" پھر کہنے لگے زندہ شاعروں میں احمد مشتاقؔ ہمارے مرغوب ترین شاعر ہیں، اس عہد میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے، دور دور تک نہیں ہے۔ ہم نے انور صاحب سے پوچھا آپ کی احمد مشتاق صاحب سے ملاقات رہی ہے، تو بتانے لگے کہ ایک دفعہ 1996ءمیں میرا نیویارک جانا ہوا تھا، ترقی پسند شاعر و صحافی جوہر میر میرے میزبان تھے، میں نے ان سے فرمائش کی کہ میں احمد مشتاق صاحب سے ملنا چاہتا ہوں، تو جوہر میر نے کہا کہ وہ رہتے تو نزدیک ہی ہیں مگر ہم آپ کی ملاقات کیا خاک کروائیں گے وہ تو ہمیں کبھی نہیں ملے۔

بہرحال، ہم احمد مشتاق کے ساتھ ایک گاڑی میں بیٹھے ہوئے تھے اور گاڑی ہیوسٹن کی سڑکوں پر رواں تھی۔ ہم نے ان سے پوچھا شاعروں کو کیا پڑھنا چاہیے؟ فرمانے لگے "نثر"۔ ہم نے وضاحت چاہی تو کہنے لگے بڑے ادیب سے کہانی سنانے کا فن سیکھو، احساسات کا باہمی رشتہ سمجھو، اور بھی بہت سی باتیں ہیں، بس نثر پڑھو۔ ہم نے محسوس کیا کہ احمد مشتاق صاحب اپنی شاعری کی طرح اپنی گفتگو میں بھی زیادہ تشریح کےقائل نہیں۔ پھر خود کلامی کے انداز میں کہنے لگے "شاعری جان لیوا کام ہے، دم ہمہ دم، نفس نفس، ہر لحظہ، ہر گھڑی کا وبال ہے۔ شاعری جزوقتی شغل نہیں، شاعر پارٹ ٹائم نہیں ہو سکتا۔" ہم نے انتہائی ادب سے پوچھا کہ ہر دم شاعری کا نتیجہ یہ ہے کہ آپ کی تو کلیات بھی بہت ننھی منی سی ہیں۔ مسکرا کر بتانے لگے کہ میں نے شاعری کا کارخانہ نہیں کھولا ہوا تھا، میں تو کئی بار ہفتوں ایک ہی مصرع سے نبرد آزما رہا ہوں، میں تو سال بھر میں پانچ چھ غزلیں ہی کہہ پاتا تھا، اور شاید ہی کوئی غزل سات شعروں سے زیادہ ہو، کئی تو چار اشعار سے آگے نہیں بڑھ پائیں۔ بہرحال، احمد مشتاق صاحب خوشی خوشی ہمارے پرتجسس سوالوں کے جواب دیتے رہے، یعنی:

نئے دیوانوں کو دیکھیں تو خوشی ہوتی ہے

ہم بھی ایسے ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں

ہم ان کی امرتسر اور لاہور کی یادیں کریدتے رہے، وہ چمکتی آنکھوں سے ہمیں قصے سناتے رہے، امرتسر کے ہال بازار سے پاک ٹی ہاؤس لاہور تک کی درجنوں کہانیاں، حنیف رامے نے ان کی کتابوں کے سرورق کیسے بنائے، سیف الدین سیفؔ کی شخصیت کے دبنگ رنگ، حفیظ جالندھری نے ایک مشاعرے میں "حفیظ اہلِ زباں کب مانتے تھے" والا مصرع پڑھتے ہوئے جب مشاعرہ کے سامعین کو منہ سے اپنی زبان نکال کر دکھائی، منیر نیازی کی جملہ بازیاں۔ منیز نیازی کا ایک جملہ سنا کر خود بھی دیر تک ہنستے رہے۔ بتانے لگے کہ ایک دفعہ منیر نیازی عالمِ سُکر میں رات کو گھر جانے لگے تو جس دوست نے انہیں اپنی سائیکل پر گھر پہنچانا تھا وہ صاحب بھی حالتِ حال میں تھے۔ جب منیر نیازی رات گئے گھر پہنچے تو بیگم صاحبہ نے پوچھا کہ اس وقت آپ کس سواری پر گھر آئے ہیں۔ منیر صاحب بڑبڑائے "مینوں لگدا میں سپ تے بیھ کہ آیاں۔" (مجھے لگتا ہے میں سانپ پر بیٹھ کر آیا ہوں)۔

گاڑی میں ہمارے ساتھ شکاگو کے نوجوان، ہونہار شاعر خاور حسین بھی موجود تھے، سکول کالج کے دنوں میں بیت بازی کے فن میں طاق تھے، سو انہیں احمد مشتاق کے درجنوں شعر یاد ہیں جو وہ وقفے وقفے سے سناتے رہے۔ تذکرہ ہو رہا تھا رفتگاں کا، ان شہروں کا جو اب پہچانے نہیں جاتے، خاور نے مشتاقؔ صاحب کا شعر پڑھا "محفوظ دست بُردِ زمانہ سے کچھ نہیں....ہر شے کی گھات میں ہے یہ چیتا لگا ہوا۔" مشتاق صاحب نے دوسرا مصرع کئی بار دہرایا۔ ارادہ تو یہ تھا کہ احمد مشتاق صاحب کے ساتھ کسی قریبی چائے خانہ میں کچھ وقت بیٹھ کر ان کی باتیں سنیں گے مگر ہمارے میزبان عیش بھائی صم بکم ایک گھنٹے تک ڈرائیو کرتے چلے گئے۔ آخر ہم ایک جگہ پہنچے جہاں احمد مشتاق صاحب کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ دراصل، کچھ دوست بہت دنوں سے احمد مشتاق صاحب کو اپنے ادارے میں بلا رہے تھے اور مشتاق صاحب ٹال رہے تھے۔ عیش بھائی نے موقع غنیمت جانا کہ آج ان دوستوں کو بھی بھگتا دیا جائے۔ میزبان ڈاکٹر صاحب یہاں کی معروف سماجی شخصیت ہیں، بہت بھلے آدمی ہیں مگر ہماری طرح دنیا دار۔ بہرحال، اگلا گھنٹہ احمد مشتاق صاحب پر کڑا گزرا، بیسیوں مصافحے ہوئے اور درجنوں تصویریں اتاری گئیں ۔ ہم نے مشتاق صاحب کے کان میں ان کا شعر پڑھا "تنہائی میں کرنی تو ہے اک بات کسی سے....لیکن وہ کسی وقت اکیلا نہیں ہوتا۔" مشتاق صاحب ہولے سے بولے "ایتھوں نکلو"۔ میزبان نے انہیں کہا ہم آپ کو ایک اعزازی چادر پہنانا چاہتے ہیں، مشتاق صاحب نے کرسی پر بیٹھے بیٹھے فرمایا کہ یہیں پہنا دیں۔ میزبان نے کہا کہ ہم آپ کی عزت افزائی کیلئے تقریب رکھنا چاہتے ہیں، نذرانہ پیش کرنا چاہتے ہیں، مشتاق صاحب بولے اللہ نے مجھے بہت عزت دی ہوئی ہے، آخر جب میزبان نے ان سے درخواست کی کہ آپ سٹیج پر پوڈیم پر کھڑے ہوں آپ کی تصویر بنانا ہے تو مشتاق صاحب کا ضبط جواب دے گیا۔ فرماتے ہیں "بس کرو یار، بہت ہو گئی۔" ان کے لہجے سے ان کی بے مزگی عیاں تھی۔

دنیا داری میں ان کی عدم دل چسپی کے قصے تو ہم نے سن رکھے تھے، اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لیے۔ پانچ دس ہزار ڈالر کے نذرانے کو انکار کرنے کیلئے احمد مشتاق کو ایک ثانیہ بھی درکار نہیں تھا۔ ان کا گھر آ گیا، وہ گاڑی سے اترے اور آہستہ آہستہ گھر کے صدر دروازے کی طرف بڑھنے لگے، جب تک وہ نظر آتے رہے ہم انہیں جاتے ہوئے دیکھتے رہے۔

کیسے آ سکتی ہے ایسی دل نشیں دنیا کو موت

کون کہتا ہے کہ یہ سب کچھ فنا ہو جائے گا

تازہ ترین