پیرسید مولانا حسین الدین شاہ کے ذکر کے بغیر خطہ پوٹھوہار کی تاریخ نامکمل ہے۔ علم و عمل کا یہ چراغ کم و بیش نصف صدی تک خطہ پوٹھوہار میں روشنی پھیلاتا رہا۔ 92سال کی عمر میں یہ چراغ بجھ گیاہے ۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ، راولپنڈی اور گردو نواح کےعوام ایک بڑے عالم دین سے محروم ہو گئے ہیں ان کی وفات سے خطہ پوٹھوہار کے اہل سنت والجماعت کے رہنمائوں اورکارکنوں کے سروں سے سایہ اٹھ گیاہے ۔بلا شبہ سیدحسین الدین شاہ کے باعث راولپنڈی میں دار العلوم تعلیم القرآن راجہ بازار ، مدرسہ فرقانیہ کو ہاٹی بازاراور جامع مسجد سبزی منڈی تحریکوں کے مراکز رہے۔ پیر سید حسین الدین شاہ ، مولانا غلام اللہ خان اور مولانا عبدالحکیم ہزاروی ہم عصر تھےوہ نہ صرف بلند پایہ عالم دین تھے بلکہ دینی تحاریک کے سرخیل تھے ختم نبوت کی تحریک ہو یا اسلامی نظام کے نفاذ کا معاملہ ان تین اداروںسے اٹھنے والی تحاریک کو پورے ملک میں پذیرائی حاصل ہوئی۔زمانہ طالبعلمی سےہی میرا ان سے تعلق تھا میں بیک وقت سید حسین الدین شاہ، مولانا عبدالحکیم ہزاروی اور مولانا غلام اللہ کے ہاں حاضری دیتا رہا ۔پچھلے دنوں میرے آبائی گائوںمصریال راولپنڈی کے میرے ایک عزیز ملک ذوالفقار علی نےبتایا کہ انہوں نےسید حسین الدین شاہ سے ملاقات کی تو انہوں نے میرے والد محترم بابو غلام رسول کا خاص طور پر ذکر کیا اور انہیں زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اس وقت تک ان کو معلوم نہیں تھا کہ بابو غلام رسول میرے والد محترم ہیں۔ میں کئی دنوں سے انکی عیادت کا پروگرام بنا رہا تھا لیکن یہ سعادت نہ پا سکا۔ 1974ء میں ختم نبوت کی تحریک میں آ غا شورش کاشمیریؒ نے جامع مسجد سبزی منڈی میں مولانا شاہ احمد نورانی کی موجودگی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کل اللہ والوں( دار العلوم تعلیم القران ) کے ہاں خطاب کیا تھا آج محمد ﷺ(جامع مسجد سبزی منڈی ) والوں کے ہاں اظہار خیال کر رہا ہوں ۔ سید حسین الدین شاہ ایک جید عالمِ دین، خطیب اور مبلغ تھے۔ انہوں نے دینی مدارس سے روایتی علوم حاصل کرنے کے بعد عصری حاضر کے تقاضوں کو بھی سمجھا۔انکی گفتگو میں قرآن و سنت کی روشنی کے ساتھ موجودہ مسائل کا حل بھی ملتاتھا۔انکا انداز نہایت سادہ، بے تکلف اور عوام دوست ہوتا تھا ۔ اسی لئے مدرسے سے لیکر یونیورسٹی کے طالب علم سب انکی گفتگو محبت اور توجہ سے سنتے۔ جمعہ کے خطبات اور دینی محافل میں وہ نوجوانوں کو دین کی اصل روح سے روشناس کراتے۔ان کا پیغام تھا ’’دین شدت نہیں، اعتدال کا نام ہے‘‘۔ فرقہ واریت کے اس دور میں وہ ہمیشہ اتحاد، رواداری اور بھائی چارے کی بات کرتے۔وہ کوئی سیاسی لیڈر نہیں تھے اور نہ ہی ٹی وی کے اینکرپرسن مگر ان کا حلقہ اثر سیاست اور میڈیا دونوں سے زیادہ تھا ۔انکی خانقاہ صرف عبادت کی جگہ نہیںبلکہ یہ ایک یونیورسٹی ہے جہاں اخلاق پڑھایا جاتا۔پیر صاحب منبر تک محدود عالم نہیں تھے۔پاکستان کا سب سے بڑا زخم فرقہ واریت ہے۔ پیر صاحب اس زخم پر مرہم تھے ان کی محفل میں بریلوی تو آتے ہی تھے،دیوبندی ،اہل تشیع و اہلِ حدیث بھی آتے تھے ۔ وہ سب کو ایک ہی بات کہتے"مسلک تمہارا ذاتی معاملہ ہے۔ کلمہ، وطن اور پاکستان ہم سب کا مشترکہ ہے "۔ وہ مریدوں کی تعداد نہیں گنتےتھے، وہ بدلے ہوئے کرداردیکھتے تھے۔سید حسین الدین شاہ 11۔جنوری 1934 کو ضلع اٹک کے گائوں سلطان پور میں مولانا سید ضیا الدین شاہ کے گھر پیدا ہوئے۔سید حسین الدین شاہ نے ابتدائی دینی تعلیم اپنی والدہ سے حاصل کی۔ناظرہ قرآن مجید مولانا لالہ عبدالغنی سے مکمل کیا۔1953ء میں تحریکِ ختمِ نبوت میں حصہ لیا اور گرفتار کرکے شاہ پور ڈسٹرکٹ جیل بھیج دئیے گئے۔جہاں آپ نے تین مہینے گزارے۔ 1953ء میں تحریکِ ختم نبوت میں حصہ لینے والے دارالعلوم عزیزیہ بھیرہ کے کچھ اساتذہ بھی قید کر لئے گئے تو تدریس کیلئے اساتذہ کی کمی محسوس کی جانے لگی،ایسے حالات میںانہوں نے تدریسی فرائض بھی انجام دیئے۔1958ءمیں جامع مسجد سبزی منڈی راولپنڈی میں درسِ قرآن اور جمعہ کی خطابت کا سلسلہ شروع کیاکچھ عرصے بعد مستقل خطابت کی ذمہ داریاں بھی آپ کے سپرد کر دی گئیں۔ یہاں سے وہ مولانا محب النبی سے اکتسابِ فیض کیلئے روزانہ گولڑہ شریف جاتے تھے۔1961ءمیں اصلاحِ معاشرہ کی غرض سے ’’انجمن اشاعت السنۃ‘‘ کا قیام انکی کوششوں سے ممکن ہوا۔1968ء میں ادارہ تحقیقاتِ اسلامیہ پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل فضل الرحمٰن نے اپنی کتاب ’’اسلام‘‘ میں اسلام کے بنیادی عقائد کو ہدف بنایا۔علما نے احتجاج کیا۔بات مناظرے تک پہنچ گئی،پیرحسین الدین شاہ کو علما نے متفقہ طور پر مناظرے کیلئے منتخب کیا۔اس وقت کے وزیرِ قانون ایس ایم ظفر کی رہائش گاہ پرمناظرہ ہوا۔اڑھائی گھنٹے کی گفتگو کے بعد ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا جس کے باعث اسی روز اس سے استعفیٰ لے لیا گیا۔ پیر صاحب نے جنوری 1964ء میں جامعہ رضویہ ضیا ء العلوم راولپنڈی کی بنیاد رکھی۔1964 ء میں طلبہ کی کردار سازی اور انکی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرنے کیلئے ’’بزمِ ارشاد‘‘ کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی۔1965ء کی جنگ میں متاثرین کی خدمت میں پیش پیش رہے۔ 1973ء میں جامعہ سیٹلائیٹ ٹائون راولپنڈی میں درسِ قرآن شروع کیا۔ 1982ء میں مدارس کے درمیان روابط کیلئے ’’انجمن طلبہ عربیہ‘‘ قائم کی انکی سرپرستی میں1992ء میں بچیوں کی دینی تعلیم و تربیت کیلئے ’’جامعہ آمنہ للبنات،اسلام آباد‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جمعیتِ علماء پاکستان،تنظیم المدارس اہلِ سنت پاکستان،جماعت اہلِ سنت پاکستان اور تحریکِ ختم نبوت کے عہدہ دار رہے، 7اگست 2026ء کو انتقال ہوا۔ پیر صاحب کو ان کی وصیت کے مطابق ان کی آبائی گائوں سلطان پور میں سپردخاک کیا گیا انکے جنازے میں شرکت کرنیوالوں کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہزاروں لوگ رش کی وجہ سے جنازے میں شرکت نہ کرسکے اور جن کو جنازے میں شرکت کا موقع ملا وہ4گھنٹے تک سلطان پور میں پھنسے رہے۔