• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزارت خزانہ کی مالی سال 2025-26ءکی ایک رپورٹ کے مطابق حکومت نے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کی مد میں عوام سے 1567ارب روپے کی ریکارڈ وصولی کی ہے جو آئی ایم ایف ہدف سے 100ارب روپے زائد ہے۔ اسکے علاوہ کلائمنٹ سپورٹ لیوی کی مد میں حکومت نے عوام سے مزید 50 ارب روپے وصول کئے ہیں۔ موجودہ ٹیکس ڈھانچے میں پیٹرول پر 80روپے لیٹر اور ڈیزل پر 77روپے لیٹر کے حساب سے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی عائد ہے جبکہ کلائمنٹ سپورٹ لیوی کی مد میں پیٹرول اور ڈیزل پر 5,5روپے لیٹر وصول کیا جارہا ہے۔ اسکے علاوہ کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 29 روپے ملاکر فی لیٹر پیٹرول پر مجموعی حکومتی ٹیکسز 114 روپے بنتے ہیں۔ اگر پیٹرول کی قیمت 326روپے فی لیٹر ہے تو اس پر حکومتی ٹیکسز 35فیصد بنتے ہیں جو عوام پر ایک ناقابل برداشت بوجھ ہے۔سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے بعد حال ہی میں حکومت نے ڈیزل پر 32.63 روپے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں کمی کی ہے جس کیلئے 100ارب روپے سے زائد کی سبسڈی PSDP فنڈز سے پوری کی جائے گی کیونکہ ڈیزل پبلک ٹرانسپورٹ میں استعمال کیا جاتا ہے اور اس کی قیمتوں اور کرائے میں اضافے سے کھانے پینے کی اشیاء، ٹرانسپورٹ اور زرعی اجناس مہنگی ہوجاتی ہیں۔

2026-27 ءکے وفاقی بجٹ میں حکومت نے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا ہدف 1676.5ارب روپے رکھا ہے لیکن اس ریونیو کے مقابلے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی جہاں یہ پیسے خرچ ہوں گے۔ مثلاً ماحولیاتی آلودگی کے منصوبے، EV پبلک ٹرانسپورٹ، EV چارجنگ اسٹیشن اور متبادل توانائی کے منصوبے کیونکہ دراصل آئی ایم ایف معاہدے کے تحت یہ فنڈز بجٹ خسارے اور ایف بی آر کے ریونیو ہدف میں کمی کو پورا کرنے کیلئے عوام سے وصول کئے جارہے ہیں جو عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے حالانکہ گزشتہ مالی سال حکومت کا مالی خسارہ کم ہوکر جی ڈی پی کا 2.6 فیصد رہ گیا تھا جو 2003 ءسے سب کم ہے اور پرائمری سرپلس بھی جی ڈی پی کا 2.9فیصد رہا لیکن اسکے برعکس گزشتہ مالی سال 2025-26 ءمیں حکومتی اخراجات 16فیصد اضافے سے 1000 روپے بڑھ گئے۔ وزارت خزانہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی وصولی میں 29 فیصد اضافہ ہوا ہے جو گزشتہ سال 1220 ارب روپے سے بڑھ کر 1567 ارب روپے تک پہنچ گئے جو بجٹ ہدف 1468 ارب روپے سے 347 ارب روپے زیادہ ہیں۔ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی پیٹرول پمپس کے ذریعے ایک عام آدمی کی جیب سے آسان وصولی دیکھتے ہوئے حکومت نے رواں مالی سال PDL کا ریکارڈ ہدف 1676 ارب روپے اور کلائمنٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 50 ارب روپے رکھے ہیں اور اس طرح اس سال غریب عوام کی جیب سے 1726 روپے نان ٹیکس ریونیو وصول کیا جائے گا۔ حالات سے فائدہ اٹھاکر پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن اور پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن نے حکومت کو ہڑتال کی دھمکی دے کر ڈیلر مارجن 8.64 روپے سے بڑھاکر 9.98روپے فی لیٹر کروالیا ہے اور اس طرح عوام کو اب پیٹرول کی قیمت میں 1.34 روپے فی لیٹر اضافی دینا پڑے گا۔ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی عام آدمی کی زندگی کا ایک ایسا ناقابل برداشت بوجھ بن چکا ہے جس نے مہنگائی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ حکومت نے ٹیکس جمع کرنے کے آسان ہتھکنڈوں سے عوام کی موٹر سائیکلوں، گاڑیوں اور چولہوں تک رسائی رکھنے والے ایندھن کو نشانہ بنایا ہے جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ حکومتی اقدام سے میری یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے اہداف پورے کرنے کیلئے سارا بوجھ غریب عوام پر ڈال رہی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں، سبزیوں اور دیگر زرعی اجناس کی ترسیل کے اخراجات میں اضافہ ہوجاتا ہے اور یوں آٹا، دالیں اور ادویات عوام کی پہنچ سے باہر ہوجاتی ہیں جس سے غریب عوام کے چولہے ٹھنڈے ہوجاتے ہیں۔

میری حکومت کو تجویز ہے کہ وہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی اور کلائمنٹ سپورٹ لیوی کو ریونیو وصولی کا ذریعہ نہ بنائے بلکہ حکومتی اخراجات کو پورا کرنے کیلئے ٹیکس نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لاکر ریونیو وصولی میں اضافہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں مرحلہ وار کمی کی جائے اور پہلے مرحلے میں 10 روپے فی لیٹر کمی کرنے سے حکومت کے ریونیو میں صرف 100 سے 120 ارب روپے کی کمی ہوگی۔ آئی ایم ایف کو پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں کمی پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ اسے صرف مجموعی ریونیو وصولی ہدف سے سروکار ہے۔ دوسرے مرحلے میں حکومت کو PDL کی شرح میں مرحلہ وار مزید کمی کرکے اسے موجودہ 80 روپے سے 50 روپے لیٹر تک لانا ہوگا جس سے حکومت کے ریونیو میں 300 ارب روپے کی کمی متوقع ہے لیکن پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی سے غریب عوام کو کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔حکومت کے پاس ریونیو ہدف پورا کرنے کیلئے دو ہی راستے ہیں۔ پہلا اپنے اخراجات کم کرکے ٹیکس نیٹ بڑھائے اور دوسرا PDL اور کلائمنٹ سپورٹ لیوی کی مد میں پیٹرول، ڈیزل اور LPG پر لیوی بڑھاکر عوام سے وصول کرکے ریونیو وصولی کا ہدف پورا کرے لیکن مستقل بنیادوں پر پیٹرول اور ڈیزل پر اتنا زیادہ لیوی وصول کرنا میرے نزدیک غریب عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔

تازہ ترین