• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جب تک پھر سے نیا شوشہ چھوڑ کر پھر سے ازسر نو آپ کے اوسان خطا کردیئے جائیں، سردست آپ کو صوبوں میں نئے صوبے بنانے والی بات پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ آپ فکر مت کریں۔ نئے شوشوں کی کھچڑی تیار ہورہی ہے۔ عنقریب آپ کو پیپرمیش کی پلیٹوں میں کھانے کیلئے دی جائیگی۔ نئی کھچڑی کھا کر آپ آٹے چاول کا بھاؤ بھول جائینگے۔ فی الحال آپ تقسیم ہند کے ٹکر کی مہم جوئی کی باتوں میں سر کھپاتے رہیں۔ میری عمر کے ایک بڈھے کھوسٹ نے پریس کانفرنس میں صحافیوں کو آنکھیں  دکھاتے ہوئے پوچھا تھا، ’’اگر ہندوستان کا بٹوارا ہوسکتا ہے، تو پھر بالشت بھر صوبوں کا بٹوارا کیوں نہیں ہوسکتا؟ کان کھول کر سن لو۔ ہمارے آباو اجداد نے ہندوستان کا بٹوارا ممکن بنایا تھا۔ ہم صوبوں کا بٹوارا ممکن بنائیں گے۔ پاکستان کی پاک دھرتی سے صوبائیت کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے‘‘۔

بے سود باتوں میں وقت ضائع کرنے کی بجائے ہمیں صوبوں میں بٹوارے کی مفید باتیں کرنی چاہئیں۔ پرانے اور مجوزہ نئے صوبوں کے درمیان کیا کیا بٹنے جارہاہے۔؟ سوچنے اور سمجھنے کی باتیں ہیں۔

ہمارے صوبوں کے پاس حیران کن آثارِ قدیمہ ہیں آج کل کے جدید دور میں ہمارے ہاں بغیر ڈھکن والے گٹروں میں گر کر ہمارے بچے غائب ہوجاتے ہیں اگر کبھی مل جائیں تو مرے ہوئے ملتے ہیں ایسی ناگہانی اموات کی ذمہ داری یعنی رسپانسبلیٹی کوئی صوبائی حکومت قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتی۔ یہ کہہ کر اپنی چُنری پہ داغ لگنے نہیں دیتے کہ قصور ڈھکن اور بغیر ڈھکن والے گٹروں کا نہیں ہے۔ جس کی جیسی موت لکھی ہوئی ہوتی ہے، عین اسی طرح عمل میں آتی ہے۔ پاکستان میں  کروڑوں بچے سڑکوں اور گلی کوچوں  میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ وہ بغیر ڈھکن کے گٹروں میں گر کر نہیں مرتے،۔ وہ ٹینکروں، ٹرکوں اور ڈمپروں کے پہیوں تلے اکر اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں ۔بہرحال، پرانے اور وجود میں آنے والے نئے صوبوں کے درمیان بغیر ڈھکن کے گٹروں کا بٹوارا ضرور ہوگا۔ یہ طے ہوچکا ہے۔ اب دیکھنا صرف یہ ہے کہ پرانے صوبے کتنے فی صد بغیر ڈھکن کے گٹر اپنے پاس رکھتے ہیں اور کتنے فیصد بغیر ڈھکن کے گٹر وجود میں آنے والے نئے صوبوں کے حوالے کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ عنقریب ٹوٹنے والے صوبوں کے پاس اچھنبے میں ڈال دینے والی باتیں ہیں جن کا دیانتداری سے بٹوارا ہوناہے۔ لوگ بڑے جذباتی ہیں میں کسی صوبے کا نام لینا مناسب نہیں سمجھتا ۔چار صوبوں میں سے ہمار ایک صوبہ ہے ۔ اس صوبے میں آپ اپنی پسند ، اپنی چاہت سے شادی نہیں کرسکتے ۔ یعنی، اس صوبے میں آپ Love Marriage نہیں کرسکتے ۔ یہ کوئی سرکاری بندش نہیں ہے۔ معاشرے کے کرتا دھرتا لو میرج کو بہت برا سمجھتے ہیں ۔اس جرم کے لئے معاشرے نے دلہن اور دولہے کے لئے موت کی سزا مقرر کررکھی ہے کوئی دن نہیں گزر تا جب اپنی پسند سے شادی کرنے والے جوڑے یعنی دولہا دلہن کو مار دیا جاتا ہے اب دیکھنا ہے کہ بڑے صوبوں کے بچوں یعنی جنم لینےوالے نئے صوبوں میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑوں کا بٹوارا کس حساب کتاب سے کیا جاتاہے۔ اصل میں معاملہ ہے پیار کی شادی کرنے والے جوڑوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا۔ وجود میں آنے والے نئے صوبوں کو جلادوں کی بڑی کھیپ کی ضرورت پڑنے والی ہے۔ بلامعاوضہ اور بلا موازنہ کوئی کسی کو قتل نہیں کرتا۔

حیرت انگیز تاریخ اور آثارِ قدیمہ کے علاوہ ہمارے صوبوں کے پاس بے شمار عمدہ اور تعجب خیز نوادرات ہوتے ہیں آپ کے منہ میں پانی آجائے گا۔ میں کھانے اور کھلانے والی دو چار چیزوں کے نام لے رہاہوں۔ کیسے اور کس طرح شہد کی طرح میٹھی چیزوں کو پرانے اور نئے صوبوں کے درمیان تقسیم کیا جائےگا۔؟ میں نہیں جانتا۔ سندھڑی آم کا نام آپ نے ضرور سنا ہوگا۔ پھلوں میں شہزادہ کہاجاتا ہے۔ سندھڑی آم کو۔ سندھڑی کے علاوہ کئی ایک نامور آم پیدا ہوتے ہیں بڑے صوبوں میں جن کے وجود سے عنقریب چھوٹے چھوٹے صوبے جنم لینے والے ہیں۔ انور رٹول بھی ذائقہ میں منفرد آم ہے۔ چونسہ مجھے آموں میں بادشاہ آم لگتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اصلی اور بڑے صوبوں اور نوزائیدہ چھوٹے چھوٹے صوبوں کے درمیان آموں کی بندر بانٹ کیسے اور کس طرح ہوتی ہے۔ آموں کا منصفانہ بٹوارا پاکستان کو میٹھا رکھنے میں مدد دے گا۔ لوگ میٹھے میٹھے آم کھائیں گے اور چھوٹے بڑے صوبوں کے درمیان ہونے والی تلخیاں بھول جائیں گے۔

پرانے اور تاریخی صوبوں اور نوزائیدہ صوبوں کے درمیان دھماکہ خیز تناؤ تب دکھائی دےگا جب پیر سائینو ںکے بٹوارے کی بات چلے گی۔ اب طے یہ ہونا ہے کہ نئے صوبوں کو کتنی تعداد میں پیر سائیں دیئے جائیں۔ میں زندہ اور زندہ دل پیروں کی بات نہیں کررہا۔ تقسیم کرنے والے پیر سائینوں کو نئے صوبوں کے درمیان بانٹنا آسان کام نہیں ہے۔ میں مدفون پیر سائینوں کی بات کررہاہوں۔ جن کے ہاں میلے ٹھیلے لگے رہتے ہیں۔

تازہ ترین