• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی سیاست میں بعض مطالبات ختم نہیں ہوتے، صرف ان کی زبان اور عنوان بدل جاتے ہیں۔ کبھی کوئی بات براہ راست کہی جاتی ہے اور کبھی اسے انتظامی ضرورت، بہتر حکمرانی یا نئی انتظامی اکائیوں کے نام سے پیش کیا جاتا ہے۔ سندھ میں نئے صوبے یا صوبائی نوعیت کی نئی انتظامی اکائیوں کی بحث بھی اسی تناظر میں دیکھی جانی چاہیے۔ خصوصاً جب یہ مطالبہ متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے سامنے آئے تو سندھ کے لوگوں کیلئے اسے اس جماعت کی ماضی کی سیاست سے الگ کرکے دیکھنا آسان نہیں۔یہ اختلاف کسی زبان یا برادری سے نہیں۔ سندھ صدیوں سے مختلف زبانوں، مذاہب اور ثقافتوں کا مسکن رہا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے آنے والے خاندانوں نے بھی کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے دوسرے شہروں کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آج اردو، سندھی، بلوچی، پشتو، سرائیکی، گجراتی یا میمنی بولنے والے سب سندھ کے شہری ہیں اور اس کے مستقبل میں برابر کے شریک ہیں۔ اختلاف صرف اس سیاسی تصور سے ہے جس میں سندھ کی تاریخی وحدت کو بار بار کسی نہ کسی عنوان سے زیر بحث لایا جاتا ہے۔اس بحث کو سمجھنے کے لیے ملیر کی مثال کافی ہے۔ نوے کی دہائی میں جب ملیر کو کراچی میں الگ ضلع بنایا گیا تو ایم کیو ایم نے اس فیصلے کی مخالفت کی۔ اس وقت بنیادی اعتراض یہ تھا کہ کراچی کو انتظامی طور پر تقسیم کیا جارہا ہے۔ آج ملیر ایک باقاعدہ ضلع ہے، کراچی بھی موجود ہے اور سندھ بھی اپنی آئینی وحدت کے ساتھ قائم ہے۔ وقت نے ثابت کیا کہ انتظامی ضرورت کے تحت ضلع بنانا کسی شہر کو اس کے صوبے سے الگ کرنا نہیں ہوتا۔یہیں سے ایک سادہ سوال پیدا ہوتا ہے: اگر کراچی کے اندر ملیر کا الگ ضلع بننا کراچی کی تقسیم تھا تو سندھ کے اندر نئی صوبائی اکائی بنانے کو صرف انتظامی سہولت کیسے کہا جاسکتا ہے؟ملیر کی اپنی تاریخی اہمیت بھی ہے۔ ملیر اور اس کے اطراف کی قدیم سندھی اور بلوچ آبادیاں جدید کراچی کے پھیلاؤ سے بہت پہلے موجود تھیں۔ وقت کے ساتھ شہر پھیلا، صنعتیں قائم ہوئیں، نئی آبادیاں وجود میں آئیں اور ملک کے مختلف حصوں سے لوگ یہاں آکر آباد ہوئے۔ آج ملیر قدیم اور جدید سندھ کے ملاپ کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ملیر کو ضلع بنانے سے سندھ کی سرحد تبدیل نہیں ہوئی۔ کوئی نئی صوبائی اسمبلی قائم نہیں ہوئی، الگ گورنر نہیں آیا اور نہ سندھ کے آئینی تشخص میں کوئی تبدیلی واقع ہوئی۔ صرف انتظامی نظام کو آبادی کے قریب لانے کے لیے ایک ضلع وجود میں آیا۔ یہی ضلع اور صوبے کے درمیان بنیادی فرق ہے۔آبادی بڑھنے کے ساتھ انتظامی اکائیوں میں اضافہ کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ضرورت کے مطابق نئے اضلاع، تعلقے، سب ڈویژن اور ٹاؤن قائم کیے جاسکتے ہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں شہری سہولت کے لیے مزید انتظامی بندوبست کی ضرورت ہو تو اس پر بھی بات ہوسکتی ہے۔ اسی طرح حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص، شہید بینظیر آباد اور سندھ کے دیگر علاقوں میں آبادی اور انتظامی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت کو آئینی حدود میں اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن سندھ کے عوام کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایسے مطالبے کو اس جماعت کے تاریخی سیاسی مؤقف کے پس منظر میں دیکھیں۔سندھ کے شہری علاقوں کیلئے الگ صوبائی بندوبست کا تصور مختلف ادوار میں مختلف الفاظ میں سامنے آتا رہا ہے۔ کبھی شہری سندھ کی الگ انتظامی شناخت کا ذکر ہوا، کبھی الگ صوبے کی بات سامنے آئی اور اب نئے صوبوں کو انتظامی ضرورت قرار دیا جارہا ہے۔ اسی پس منظر کی وجہ سے سندھ میں اس مطالبے پر تحفظات پیدا ہونا فطری ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر مسئلہ واقعی انتظامی سہولت ہے تو اس کا حل سندھ کی صوبائی سرحد تبدیل کرنا کیوں ہونا چاہیے؟ اگر کسی ضلع کی آبادی بہت زیادہ ہے تو نیا ضلع بنایا جاسکتا ہے۔ اگر شہریوں کو سرکاری دفتر تک پہنچنے میں دشواری ہے تو نیا تعلقہ یا سب ڈویژن قائم کیا جاسکتا ہے۔ اگر مقامی مسائل مقامی سطح پر حل نہیں ہورہے تو بلدیاتی نظام کو مزید مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔ انتظامی سہولت کے لیے بہت سے راستے موجود ہیں جن کے لیے سندھ کی تاریخی وحدت کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں۔ملیر اس کی عملی مثال ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا سندھ کی وحدت کے بارے میں مؤقف ابتدا ہی سے واضح رہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور موجودہ قیادت تک پیپلز پارٹی نے وفاق پاکستان کے اندر صوبوں کے آئینی حقوق اور سندھ کی تاریخی وحدت کا مقدمہ پیش کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی سیاست میں سندھ کے حقوق اور پاکستان کی وفاقی یکجہتی کو ایک دوسرے کے متضاد تصورات نہیں سمجھا گیا۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم اسی وفاقی سوچ کی ایک اہم مثال ہے۔کراچی کو سندھ سے الگ کرکے دیکھنے کی سوچ تاریخی اور جغرافیائی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔ کراچی سندھ کا دارالحکومت اور ملک کا سب سے بڑا معاشی مرکز ہے۔ اس کی بندرگاہیں، صنعتیں، کاروبار، جامعات، محنت کش اور کاروباری طبقہ سندھ اور پاکستان دونوں کی طاقت ہیں۔ کراچی سندھ کا بوجھ نہیں بلکہ اس کی قوت ہے اور سندھ کراچی کی تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی بنیاد ہے۔ کراچی اور سندھ کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے سے نہ کراچی کا فائدہ ہوگا اور نہ باقی سندھ کا۔ملیر کی تاریخ اسی لئے اہم ہے۔ جس انتظامی اقدام کی کبھی اس بنیاد پر مخالفت کی گئی کہ اس سے کراچی تقسیم ہوگا، وہی ملیر آج کراچی کے انتظامی ڈھانچے کا معمول کا حصہ ہے۔ کراچی اپنی جگہ موجود ہے، ملیر اپنی جگہ کام کررہا ہے اور سندھ اپنی تاریخی وحدت کے ساتھ قائم ہے۔ پھر اگر آج مسئلہ صرف انتظامی سہولت کا ہے تو ملیر جیسے انتظامی ماڈل پر بات کیوں نہیں ہوسکتی؟نئے اضلاع بن سکتے ہیں، نئے تعلقے قائم ہوسکتے ہیں، نئے ٹاؤن تشکیل پاسکتے ہیں اور عوام کو ان کی دہلیز پر خدمات فراہم کی جاسکتی ہیں۔ ان اقدامات کے لیے کسی تاریخی صوبے کو تقسیم کرنا لازم نہیں۔ملیر کی تاریخ اس اصول کو مزید واضح کرتی ہے۔ اگر انتظامی ضرورت کے تحت کراچی کے اندر ضلع قائم ہوسکتا ہے اور کراچی اپنی شناخت برقرار رکھ سکتا ہے تو انتظامی ضرورت پوری کرنے کے لیے سندھ کو صوبائی طور پر تقسیم کرنے کی دلیل کمزور پڑ جاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انتظامی اصلاح اور صوبائی تقسیم کے درمیان واضح فرق برقرار رکھا جائے۔عوام کو سہولت چاہیے تو سہولت دی جائے۔ نئے اضلاع درکار ہیں تو قائم کیے جائیں۔ انتظامی دفاتر دور ہیں تو انہیں عوام کے قریب لایا جائے۔ نئے تعلقے اور ٹاؤن درکار ہیں تو بنائے جائیں۔ کراچی سمیت پورے سندھ میں شہری سہولتوں اور انتظامی استعداد کو بڑھایا جائے۔ لیکن سندھ کی تاریخی سرحد کو سیاسی تجربہ گاہ نہ بنایا جائے۔سندھ ہزاروں سال کی تاریخ، تہذیب اور اجتماعی شناخت کا نام ہے۔ اس دھرتی نے پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں کردار ادا کیا اور وفاق پاکستان کے ساتھ اس کا رشتہ کسی وقتی سیاسی بحث کا محتاج نہیں۔اس لیے سندھ کے لوگوں کا مؤقف نہ پیچیدہ ہے اور نہ مبہم۔ کراچی کو ترقی دیجیے، ملیر کو ترقی دیجیے، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص، تھر اور کشمور کو ترقی دیجیے۔ ضرورت کے مطابق نئے اضلاع اور انتظامی یونٹ قائم کیجیے۔ عوام کو سہولت اور اختیار دیجئے۔ مگر انتظامی ضرورت کے نام پر سندھ کی تاریخی وحدت کو موضوعِ تقسیم نہ بنایئے۔

تازہ ترین