• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

14 اگست یوم آزادی کے موقع پر ہر سال پاکستان میں اُن شخصیات کو سول ایوارڈ کیلئے نامزد کیا جاتا ہے جنہوں نے ملک کیلئے نمایاں خدمات انجام دیں۔

ہر سال کی طرح اس سال بھی 79ویں یوم آزادی کے موقع پر صدر مملکت نے مختلف شعبوں میں نمایاںخدمات انجام دینے والوں کیلئے سول ایوارڈز کا اعلان کیا۔ ان افراد میں کچھ ایسی حکومتی شخصیات اور وزراء بھی شامل تھے جنہیں سول ایوارڈز کیلئے نامزد کرنے پر حکومت کو تنقید کاسامنا کرنا پڑا کہ حکومت کا کام ایوارڈ لینا نہیں بلکہ ایوارڈ دینا ہے اور اگر حکومتی یا عوامی عہدے پر فائز کسی شخصیت نے کوئی قابل قدر خدمات انجام دی ہیں تو یہ اس کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں شامل ہے تاہم ایوارڈ یافتگان کی فہرست میں دو ایسی شخصیات بھی تھیں جن کے انتخاب پر حکومت کو سراہا گیا۔

بھارت سے تعلق رکھنے والے یہ دو پارسی ڈاکٹرز جال رتن جی پٹیل اور جال ڈیبو قائداعظم کے ذاتی معالجین تھے جنہوں نے تحریک جدوجہد پاکستان کے موقع پر قائداعظم کی شدید بیماری سے متعلق معلومات کو صیغہ راز میں رکھا جسے ایک غیر معمولی اہمیت کا حامل اور پیشہ ورانہ رازداری قرار دیا جاتا ہے جس نے قیام پاکستان میں اہم کردار ادا کیا۔

قیام پاکستان سے ایک سال قبل 1946ءمیں قائداعظم محمد علی جناح کے طبی معائنے کے دوران ڈاکٹر پٹیل اور ڈاکٹر ڈیبو نے قائداعظم کو زیادہ سے زیادہ آرام کی تجویز دیتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ وہ تپ دق کے مہلک مرض میں مبتلا ہیں جس کے باعث ان کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہیں اور وہ زیادہ عرصے زندہ نہیں رہ سکیں گے۔ اس موقع پر قائد نے دونوں ڈاکٹروں سے اپنی بیماری مکمل راز میں رکھنے کی درخواست کی اور ڈاکٹر پٹیل اور ڈاکٹر ڈیبو نے مریض کی خواہش اور اپنی پیشہ ورانہ راز داری کا احترام کرتے ہوئے قیام پاکستان تک قائد کی بیماری کو صیغہ راز میں رکھا۔

قائد کی بیماری سے صرف ان کی بہن فاطمہ جناح اور یہ دونوں ڈاکٹرز واقف تھے اور یہ راز اس قدر خفیہ رکھا گیا کہ برطانوی خفیہ ایجنسیاں بھی اس سے بالکل بے خبر رہیں۔ قائداعظم کو یہ خدشہ تھا کہ اگر ان کی بیماری کا راز فاش ہوگیا تو دشمن اس کا فائدہ اٹھائیں گے۔ قائد کی اسی جذبہ حب الوطنی کی بدولت پاکستان معرض وجود میں آیا مگر بدقسمتی سے ایک سال بعد ہی قائد خالق حقیقی سے جاملے اور جب اس انکشاف سے پردہ اٹھا تو برطانوی وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن کا یہ بیان سامنے آیا کہ ’’اگر مجھے یہ علم ہوجاتا کہ جناح ٹی بی جیسے مہلک مرض میں مبتلا ہیں تو میں مذاکرات کو طول دیتا رہتا تاکہ جناح کی موت کے بعد جدوجہد آزادی کی مہم کمزور پڑجاتی اور پاکستان معرض وجود میں نہ آتا۔‘‘

پاکستان میں اعزازات کی فہرست میں ہمیشہ ایسی شخصیات کو سول ایوارڈز سے نوازا جاتا ہے جنہوں نے ملکی سیاست، جنگ، سفارتکاری اور دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔ گوکہ ڈاکٹر پٹیل اور ڈاکٹر ڈیبو نے اس طرح کی کوئی خدمات انجام نہیں دیں مگر قائداعظم کی بیماری کو صیغہ راز میں رکھنے پر آج ان کے نام بھی قیام پاکستان کی جدوجہد کرنے والی شخصیات میں شامل ہوگئے جو پیشہ ورانہ دیانت داری کی اعلیٰ مثال ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے دونوں ڈاکٹروں کو بعد از مرگ قومی اعزاز سے نوازنا اور انکی خدمات کا اعتراف کرنا صرف اعزاز نہیں بلکہ نئی نسل کے سامنے انہیں اجاگر کرنا اور دنیا کو یہ پیغام دینا مقصود ہے کہ پاکستان اپنے محسنوں کے احسانات کبھی فراموش نہیں کرتا اور نہ ہی ان کی خدمات کو مذہب، نسل اور سرحدوں کی بنیاد پر پرکھتا ہے بلکہ پاکستان میں انسانیت اور پیشہ ورانہ دیانت داری کو قومی خدمت تسلیم کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر پٹیل اور ڈاکٹر ڈیبو کی قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں دی گئی خدمات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ قومی تاریخ کے بڑے واقعات کے پس پردہ بعض اوقات ایسے خاموش کردار بھی موجود ہوتے ہیں جو ذاتی مفاد، شہرت یا صلے کی خواہش کے بجائے اپنے پیشہ ورانہ فرض اور انسانی امانت کو مقدم رکھتے ہیں۔

قائداعظم کی بیماری سے متعلق انتہائی حساس معلومات کو راز میں رکھنا بھی انہی ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ دیانت، وفاداری اور قومی ذمہ داری کا مظہر تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قائداعظم کے اصل طبی ریکارڈ، ایکسرے، معالجین کی رپورٹس، خط و کتابت، ذاتی یادداشتوں اور دیگر متعلقہ تاریخی شواہد کو ایک جگہ جمع کرکے ایک جامع اور مستند تحقیقی دستاویز شائع کی جائے۔

ایسی تحقیق نہ صرف قائداعظم کی بیماری سے متعلق موجود ابہامات اور قیاس آرائیوں کو دور کرے گی بلکہ ڈاکٹر پٹیل اور ڈاکٹر ڈیبو سمیت اُن تمام طبی ماہرین کی خدمات کو بھی تاریخی اور قومی سطح پر مناسب مقام دے گی جنہوں نے قائداعظم کی زندگی کے انتہائی نازک مرحلے میں ان کا ساتھ دیا۔ اس غیر معمولی خدمت کے اعتراف میں ڈاکٹر پٹیل اور ڈاکٹر ڈیبو یقیناََ پاکستان کے اعلیٰ سول اعزاز کے مستحق ہیں۔

تازہ ترین