• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیوٹیشن بننے پر تحقیر آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا: مسرت مصباح کا انکشاف

مسرت مصباح — فائل فوٹو
مسرت مصباح — فائل فوٹو

پاکستان کی معروف بیوٹیشن، کاروباری شخصیت اور سماجی کارکن مسرت مصباح نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں بیوٹیشن بننے کے بعد تحقیر آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا۔

بیوٹیشن اور سماجی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ مسرت مصباح امر بیل، کیٹ واک اور اساوری جیسے ٹی وی ڈراموں میں اداکاری بھی کر چکی ہیں۔

حال ہی میں مسرت مصباح نے ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے انکشاف کیا کہ بیوٹیشن کا پیشہ اختیار کرنے کے بعد انہیں اپنے رشتے داروں اور پڑوسیوں کی جانب سے تحقیر آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مسرت مصباح نے بتایا کہ معاشرے سے زیادہ میرے رشتے داروں کو میرے بیوٹیشن بننے پر اعتراض تھا، میرے خاندان کے ایک فرد نے میرے والد سے کہا کہ مصباح بھائی آپ نے اپنی بیٹی کو حجام/ نائی بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ میری ایک پڑوسن وکیل تھیں، میں انہیں سلام کیا کرتی تھی لیکن وہ ہمیشہ برا سا منہ بناتیں اور وہاں سے چلی جاتیں، ایک مرتبہ وہ اپنی بیٹی کو لے کر میرے پاس آئیں، مجھے یقین تھا کہ وہ مجھے ڈانٹنے آئی ہیں۔

مسرت مصباح نے بتایا کہ انہوں نے مجھ سے میرے سرٹیفکیٹس کے بارے میں پوچھا اور پھر اپنی بیٹی کو مجھے سکھانے کے لیے کہا۔ وہ لڑکی میرے ساتھ رہی، اس نے یہ کام سیکھا، پھر اس کی شادی ہوئی اور وہ بیرونِ ملک جا کر آباد ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس دن مجھے لگا کہ میں نے پہلی رکاوٹ عبور کر لی ہے، اس سے پہلے وہ پڑوسن وکیل کہا کرتی تھیں اب آپ جیسی عورتیں ہمارے علاقے میں آ کر رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اُس زمانے میں صرف تدریس اور طب کے شعبوں کو ہی باعزت پیشہ سمجھا جاتا تھا۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید