• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فلسطینی خواتین قیدیوں پر ظلم و ستم، اسرائیلی وزیر بن گویر کا خوشی و فخر کا اظہار

اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر ---فائل فوٹو
اسرائیلی وزیر اتمار بن گویر ---فائل فوٹو 

اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر نے فلسطینی خواتین قیدیوں کو حراست کے دوران سخت حالات میں رکھنے پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے جیل کی ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کر دی۔

عرب میڈیا کے مطابق گزشتہ روز جاری کی گئی ویڈیو میں بن گویر کو خواتین قیدیوں کی جیل میں داخل ہو کر قیدیوں سے حراستی حالات سے متعلق شکایات سنتے دیکھا جا سکتا ہے، ایک فلسطینی خاتون قیدی نے بتایا کہ میں 3 دن سے نہا نہیں سکی، ہمیں طبی سہولت نہیں مل رہی اور کپڑے بھی صاف نہیں ہیں۔

بن گویر نے جواب میں کہا کہ جیلوں میں بہتر حالات کا دور ختم ہو چکا ہے، موجودہ صورتِ حال یہی ہے اور میں ان حالات کی براہِ راست ذمے داری قبول کرتا ہوں، جیل کے تمام حالات سے مطمئن ہوں۔

بن گویر نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ میں جیلوں میں انتہائی کم سے کم سہولتوں کی پالیسی جاری رکھوں گا۔

بن گویر نے ان حالات کا جواز غزہ میں موجود اسرائیلی قیدیوں کے حالات کو قرار دیا ہے۔

فلسطینی تنظیموں کی شدید مذمت

فلسطینی کمیشن برائے زیر حراست افراد (Commission of Detainees and Ex-Detainees Affairs) نے بن گویر کے خواتین قیدیوں کی جیل میں داخل ہونے اور ویڈیو بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس عمل کو دھمکانے اور تذلیل کی کوشش قرار دیا ہے۔

کمیشن کے مطابق یہ دورہ کسی معائنے کے لیے نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی تماشہ اور کیمروں کے سامنے خواتین قیدیوں کے خلاف اشتعال انگیزی تھی جس کا مقصد خواتین کو خوف زدہ کرنا اور ان کے حوصلے توڑنا تھا۔

فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی نے بھی ویڈیو کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین قیدیوں کی ویڈیو بنا کر اسے نشر کرنا ان کی انسانی عزت و وقار پر حملہ ہے۔

تنظیم کے مطابق رہا ہونے والے قیدیوں اور زیرِ حراست افراد کی سیکڑوں گواہیوں میں اسرائیلی جیلوں اور حراستی مراکز میں سنگین بدسلوکی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

فلسطینی قیدیوں پر سختیاں بڑھانے کی پالیسی

واضح رہے کہ بن گویر نے 2022ء کے آخر میں وزیر برائے قومی سلامتی کا منصب سنبھالنے کے بعد فلسطینی قیدیوں کے لیے سخت حالات کی پالیسی اختیار کی تھی۔

جس میں خوراک اور پانی کی فراہمی کم کرنا، اہلِ خانہ سے ملاقاتوں پر پابندیاں، نہانے کے اوقات محدود کرنا اور جیل کے اندر مختلف سہولتوں اور مراعات کو ختم کرنا شامل ہے۔

انہوں نے سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کو مختلف جیلوں میں منتقل کرنے کی بھی نگرانی کی ہے۔

2025ء میں بن گویر نے اسرائیلی عدالت کے اس حکم کی بھی مخالفت کی تھی جس میں فلسطینی قیدیوں کو مناسب خوراک فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

بن گویر نے اس کے باوجود سخت حالات برقرار رکھنے پر زور دیا تھا۔

فلسطینی کمیشن برائے زیرِ حراست افراد کے مطابق اس وقت تقریباً 9,400 فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں جن میں 88 خواتین اور 350 سے زائد بچے شامل ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید