• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد کو صرف نقشے پر دیکھنے اور اسے جاننے میں بہت فرق ہے۔ جو شخص اس شہر میں رہا ہو، وہ جانتا ہے کہ یہ محض پاکستان کا دارالحکومت نہیں بلکہ ریاستی اختیار کا مرکز ہے۔ یہاں پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، ایوانِ صدر، وزیراعظم ہاؤس، وفاقی وزارتیں اور وہ ادارے موجود ہیں جو پورے پاکستان کیلئے پالیسیاں بناتے اور صوبوں کو ہدایات دیتے ہیں۔اسی اسلام آباد میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، یعنی PIMS، ملک کے بڑے وفاقی سرکاری ہسپتالوں میں شمار ہوتا ہے۔ مگر 26اگست 2026ء کی صبح اسی ہسپتال کی نرسری میں آگ لگی اور چودہ نومولود بچے زندگی کی پہلی چند سانسیں لینے کے بعد ہمیشہ کیلئے خاموش ہوگئے۔وہ بچے نہ سندھی تھے، نہ مہاجر، نہ پنجابی، نہ پختون اور نہ بلوچ۔ وہ سب سے پہلے پاکستان کے بچے تھے۔ انہیں سیاست، صوبوں یا انتظامی نقشوں سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ انہیں صرف محفوظ انکیوبیٹر، آکسیجن، تربیت یافتہ عملہ اور ایسا ہسپتال چاہیے تھا جہاں ان کی مائیں انہیں زندگی کی امید کیساتھ چھوڑ سکیں۔

ابتدائی اطلاعات میں آگ کی وجہ برقی خرابی، ایئرکنڈیشننگ یونٹ یا اس سے پیدا ہونیوالی چنگاری اور آکسیجن سے بھرپور ماحول میں آگ کے تیزی سے پھیلنے کو قرار دیا گیا، تاہم بعد میں اس وضاحت پر بھی سوال اٹھے۔ حتمی ذمہ داری شفاف تحقیقات سے طے ہونی چاہیے، مگر بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے:ایک بڑے وفاقی ہسپتال کی نرسری میں آگ بجھانے اور نومولود بچوں کو نکالنے کا نظام ایسا کیوں نہ تھا کہ چند لمحوں کی آگ چودہ زندگیاں نگل گئی؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال اکثر پاکستان کے انتظامی نظام کی خرابیوں پر بات کرتے ہیں۔ وہ سندھ کے انتظامی ڈھانچے پر تنقید کرتے اور سندھ کے سات ڈویژنز کو سات بااختیار انتظامی یونٹس میں تبدیل کرنے کی تجویز دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق یہ سندھ کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ انتظامی اصلاح ہے۔بحیثیت ایک پاکستانی مجھے ان کے مؤقف کے اظہار کے حق سے اختلاف نہیں، لیکن ہمیں بھی سوال کرنے کا حق ہے کہ جنابِ وزیر، جس وفاقی صحت کے نظام کی ذمہ داری آپ کے منصب سے وابستہ ہے، پہلے اسے ایسا تو بنائیے کہ پاکستان کے دارالحکومت کے بڑے سرکاری ہسپتال میں نومولود بچے محفوظ رہ سکیں۔ PIMS نہ تھرپارکر کے کسی دور افتادہ گوٹھ میں ہے، نہ کاچھو، کشمور یا بدین کے کسی دور دراز علاقے میں۔ یہ دارالحکومت میں ہے، جہاں سے پارلیمنٹ، وفاقی سیکریٹریٹ اور وزارتِ صحت چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ اگر ریاست کے عین مرکز میں ایک بڑے وفاقی ہسپتال میں چودہ نومولود بچے محفوظ نہیں رہ سکتے تو ہر مسئلے کی وجہ صرف ’’صوبائی مرکزیت‘‘ قرار دینا شاید آسان سیاسی تشخیص ہے۔ PIMS میں جلنے والا بچہ میرے لیے اتنا ہی اپنا ہے جتنا کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ، کوئٹہ، لاہور یا پشاور کے کسی ہسپتال کا بچہ۔ میں سندھ حکومت کے کسی ہسپتال میں غفلت ہو تو اس کا دفاع نہیں کروں گا۔ تھر میں بچہ مرے، کراچی میں مریض علاج سے محروم ہو، لاڑکانہ میں طبی غفلت سامنے آئے یا حیدرآباد میں کسی ادارے کی نااہلی سے جان جائے، سوال ہونا چاہیے۔ سندھ ہو، پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان یا وفاق، انسانی جان پر احتساب کا معیار ایک ہونا چاہیے۔ احتساب کا پیمانہ کراچی پہنچ کر بڑا اور اسلام آباد پہنچ کر چھوٹا نہیں ہوسکتا۔وزیرِ صحت نے خود کہا کہ اگر ذمہ داری ان سے شروع ہوتی ہے تو احتساب بھی ان سے شروع ہونا چاہیے۔ وزیراعظم نے وفاقی سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹایا اور تحقیقات کا حکم دیا۔ لیکن پاکستان میں بڑے سانحے کے بعد کمیٹی، افسران کی تبدیلی اور رپورٹ کی روایت پرانی ہے۔وقت گزرنے کے بعد نیا سانحہ پہلے واقعے کو بھلا دیتا ہے۔وزیر صحت کیلئے یہاں ایک سیاسی سبق بھی ہے۔ آپ سندھ کے سات ڈویژنز کو سات انتظامی یونٹس بنانے کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے سندھ تقسیم نہیں ہوگا۔ ایک سندھی کی حیثیت سے میں اس سے اختلاف کرتا ہوں۔ سندھ میرے لیے محض انتظامی نقشہ نہیں بلکہ ہزاروں برس کی تاریخی، تہذیبی، لسانی اور جغرافیائی اکائی ہے۔ موہن جو دڑو کسی سرکاری نوٹیفکیشن سے وجود میں نہیں آیا تھا، اور دریائے سندھ نے اس سرزمین کو اس وقت شناخت دی جب آج کی انتظامی اصطلاحات بھی موجود نہیں تھیں۔پمس کا سانحہ ہمیں بتاتا ہےکہ مسئلہ ہمیشہ نقشے کا نہیں، انتظام کا ہوتا ہے۔ صوبے کو سات، دس یا بیس اکائیوں میں تقسیم کرنے سے اگر فائر سیفٹی نظام فعال نہیں، حفاظتی آڈٹ مؤثر نہیں اور ذمہ دار افسر جواب دہ نہیں تو نئی لکیریں کسی بچے کی جان نہیں بچاتیں۔ پاکستان کا بنیادی مسئلہ صرف جغرافیہ نہیں، گورننس، احتساب اور ادارہ جاتی ذمہ داری کا فقدان بھی ہے۔کراچی کے پانی، ٹرانسپورٹ، سیوریج، کچرے اور بلدیاتی مسائل حقیقی ہیں، مگر ان کا حل سندھ کی تاریخی وحدت کو متنازع بنانا نہیں بلکہ حقیقی بلدیاتی خودمختاری، وسائل کی منصفانہ تقسیم، میرٹ، شفافیت اور جواب دہ حکومت ہے۔ اسی طرح اندرونِ سندھ کے مسائل کا حل کراچی کو کمزور کرنا بھی نہیں۔ دیہی سندھ کا بچہ صاف پانی سے محروم ہے تو کراچی کا بچہ کھلے مین ہول سے خوفزدہ ہے۔دونوں کا مسئلہ ایک دوسرے سے نہیں بلکہ خراب حکمرانی سے ہے۔آج چودہ بچوں کی خاموش لاشیں ہم سے پوچھ رہی ہیں: ریاست کی ترجیح کیا ہے؟ نئے انتظامی نقشے یا موجودہ اداروں کو محفوظ بنانا؟ سیاسی تقریریں یا فائر الارم؟ نئے یونٹس یا فعال ایمرجنسی ایگزٹ؟ الزام تراشی یا ذمہ داری قبول کرنے کا حوصلہ؟میں سندھ کی وحدت کا حامی ہوں، مگر پاکستان کی وحدت کو بھی اتنا ہی عزیز سمجھتا ہوں۔ ہمیں صوبوں کو توڑنے سے زیادہ دلوں کو جوڑنے کی ضرورت ہے۔سندھ کو نئے نقشے کی نہیں، بہتر حکمرانی کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین